نئی دہلی۔ کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی نے جمعہ کے روز کہاکہ 1991میں ان کے والد سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل نے انہیں تبدیل کردیا۔

اس بات کی طرف بھی اشارہ کیاکہ وہ ہمیشہ عوامی خدمت کے ”ماحول“ کے عادی رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ وہ اس سونچ کے ساتھ بڑھے ہوئے ہیں کہ انہیں ناانصافی کو کبھی برداشت نہیں کرنا ہے۔

امریکہ کے سابق انڈر سکریٹری برائے اسٹیٹ اور پروفیسر پریکٹس ڈپلومیسی اینڈ انٹرنیشنل پولیٹیکس ہارورڈ کی جان ایف کینڈی اسکول برائے حکومت کے پروفیسر نیکولس برنس نے ساتھ ان لائن بات چیت کے دوران راہول گاندھی نے یہ تبصرہ کیاہے۔

برنس کے ان کے فیملی کی عوامی خدمت کے متعلق او ران کے بڑے ہوکر عوامی خدمات کا کام اپنی زندگی میں کرنے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیرالا کے وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ ”سب سے پہلے فیملیاں منفرد ہوتی ہیں‘ میں نے (اپنی فیملی)میں کوئی انفردایت نہیں دیکھی‘کچھ خاص چیزوں سے گذرنے والی کے طور پر میں اپنی فیملی کو دیکھتاہوں“۔

انہوں نے کہاکہ وہ عوامی خدمت کے ماحول میں بڑھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”جب میں چھوٹا تھا ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کے احساس والے چیزوں سے گذرا‘ کیاہورہا ہے‘ کون سے طاقتیں اس کو کھیل رہی ہیں اور اس میں بعض چیزیں کیسے کام کرتی ہیں‘ اسی طرح یہ باتیں میرے اندر سریت کرگئیں تھیں اور میں نے ابتداء ہی سے اس کو دیکھا ہے“۔

سال1991کے عام انتخابات کے دوران ان کے والد کی تامل ناڈو میں ہوئی جان لیوا حملے میں ہوئی موت کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ”یقینا‘ وہ اچانک پیش انے والے واقعات تھے جس نے مجھے پیچھے دھکیل دیاتھا‘اس میں سے ایک میرے والد کا قتل ایک ہے جو کچھ مخصوص طاقتوں سے میرے والد مقابلہ کررہے تھے اور ان پر ظلم کیاگیا۔

اور کیونکہ ایک بیٹے کے طو رپر اس کا ایک اثر تو ہوگا۔ اور اس کے علاوہ میں جب معصوم اور چھوٹے سے بڑا اس سونچ کے ساتھ ہوا کہ ناانصافی کو کبھی برداشت نہیں کرنا ہے“۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ کچھ چیزیں ہیں جس کی شروعات سے مجھے تربیت ملی ہے“


اپنی رائے یہاں لکھیں