’میرے شوہر نے 11 خواتین سے شادیاں کی ہیں، میں اسے سزا دلاؤں گی

1,287

میں نے نہ صرف وہ پیسے دیے جو میں نے کمائے تھے بلکہ اپنے رشتہ داروں سے قرض لے کر بھی دیے۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ وہ رقم واپس کر دے گا۔ لیکن میں نے اپنا جسم بھی اس کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ اس کا کیا ہو گا؟‘یہ انڈیا کی وسطی ریاست آندھرا پردیشن کی اس مینا (درخواست پر تبدیل شدہ نام) کا رونا ہے جن کا الزام ہے کہ ان کے شوہر ادپا شیوشنکر بابو نے انھیں دھوکہ دیا ہے۔ ادپا شیوشنکر بابو پر الزام ہے کہ انھوں نے اب تک آٹھ خواتین سے شادی کی ہے۔اور مینا ان آٹھ خواتین میں سے ایک ہیں۔

مینا کہتی ہیں: ’جب سے مجھے معلوم ہوا کہ میرے شوہر نے کئی عورتوں سے شادیاں کی ہیں، میں اسے سزا دلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

13 جولائی کو حیدرآباد کے پریس کلب میں دو خواتین نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ شیوشنکر نے ان سے شادی کی اور بعد میں انھیں دھوکہ دیا۔

مینا کہتی ہیں: ’کونڈا پور میں، میرے فلیٹ سے صرف دو گلیوں کے فاصلے پر، ایک خاندان ایک طرف اور دوسرا 200 میٹر دور رہتا ہے۔ یہ دونوں خاندان اس کے (ان کے شوہر کے) ہیں۔’

کچھ اور خواتین بھی سامنے آئی ہیں جو کہہ رہی ہیں کہ انھیں بھی شیوشنکر بابو نے اسی طرح دھوکہ دیا ہے۔پریس کانفرنس میں خاتون کا کہنا تھا کہ ’اس (شیوشنکر) نے اب تک 11 خواتین سے شادیاں کی ہیں، ہم نے 8 شادیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔‘

مینا کہتی ہیں: ’شیوشنکر نے ایک سے شادی کرنے کے ایک ماہ کے اندر دو اور عورتوں سے شادی کی، جب ہمیں پتہ چلا تو ہم نے اس سے پیسوں کے بارے میں پوچھا، تو وہ نئی بیوی کو اپنی گواہی میں تھانے لے آیا اور رقم واپس کرنے کا وعدہ کرتا رہا۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہی اس کا دھندا ہے۔ اب یہ سب بند ہونا چاہیے۔‘شیوشنکر نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔

ادپا شیوشنکر بابو کے خلاف کیا الزامات ہیں؟

ادپا شیوشنکر بابو انڈیا کی وسطی ریاست آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے بیتھاپوڑی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ وہ پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔

مینا کہتی ہیں: ’اس نے 2018 میں منگلاگیری کی ایک خاتون سے شادی کی، اس کے بعد وہ حیدرآباد چلا گیا، اس کے بعد اس نے مطلقہ خواتین پر توجہ دی، وہ مطلقہ خواتین کو نشانہ بناتا تھا، شادی کی ویب سائٹس پر خواتین کو ملازمت دیتا تھا، ان کے موبائل نمبر لیتا تھا اور ان سے بات کرنے لگتا تھا۔ پھر وہ اس مطلقہ کے والدین سے بھی بات کرتا۔ جب شیوشنکر سے اس کے گھر والوں کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتا کہ اس کے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں اور وہ خود طلاق شدہ ہے۔ انھیں بتاتا کہ اس کی ایک بیٹی ہے اور پھر ان کی کسی لڑکی سے ملاقات بھی کراتا تھا۔

’پھر وہ کسی سے اپنی چچی اور چچا کا کردار ادا کرنے کے لیے کہتا اور بڑی چالاکی سے اس عورت سے شادی کر لیتا۔ اور پھر ہوشیاری کے ساتھ اس سے پیسے بٹورتا، شادی کے ایک یا ڈیڑھ ماہ بعد، وہ عورت پر نوکری چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالتا۔ اس دوران، جس عورت سے اس نے پہلے شادی کی تھی اسے شک ہونے لگتا ہے تو وہ اسے کہتا کہ وہ اس سے لی گئی رقم واپس کر دے گا۔ وہ اس یقین پر رقم واپس کرنے کا وعدہ کرتا ہے کہ اس کی نئی بیوی اسے (پیسے) دے گی۔‘

مینا کہتی ہیں: ’نئی بیوی کو کہتا کہ اسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے، وہ پیسے لے کر اس کا کچھ حصہ اس بیوی کو دے دیتا جو اس پر شک کرتی تھی۔ جب نئی بیوی پیسے مانگنے لگتی تو وہ کسی نئی عورت سے دوستی کرتا اور اس سے شادی کرتا۔ اس طرح اس نے اب تک 11 عورتوں سے شادیاں کی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب تک وہ آٹھ خواتین کے بارے میں معلومات اکٹھی کر چکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین اس خوف سے سامنے نہیں آرہی ہیں کہ ان کی ایک بار طلاق ہو چکی ہے اور اگر اب یہ معاملہ سامنے آیا تو اس سے ان کی مزید بدنامی ہو گی۔ورشا (درخواست پر تبدیل کیا گیا نام) بھی مبینہ طور پر شیو شنکر سے شادی کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں۔

ورشا نے بی بی سی کو بتایا: ’شیوشنکر نے نومبر 2021 میں مجھ سے شادی کی۔ اس نے فروری 2022 میں مینا سے شادی کی۔ ہم نے اپریل 2022 میں شادی رجسٹر بھی کروائی تھی۔ اس نے اسی مہینے میں ایک اور شادی بھی کی تھی۔ وہ عورت اب حاملہ ہے۔ ہم نے اسے بتایا بھی لیکن وہ شیوشنکر کے ساتھ چلی گئی۔‘

ورشا نے روتے ہوئے کہا: ’ہم جیسی خواتین جو طلاق کے بعد نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہیں، شیوشنکر ان کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم ایک اچھا کام کرنے والا شوہر چاہتے ہیں اور ہمارے والدین چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا مستقبل اچھا ہو۔ ہمارے والدین سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اس کے ساتھ محفوظ ہیں تو یہ ان کے لیے کافی ہے۔ اس نے ان کی انھی خواہشات کا فائدہ اٹھایا ہے۔‘

عورتیں اس پر کیسے اعتبار کر لیتی تھیں؟
ان خواتین کا کہنا ہے کہ جب وہ ان خواتین سے ملتا ہے تو کہتا کہ وہ ہر ماہ لاکھوں روپے کماتا ہے۔

’اس کے بعد، جیسے جیسے ابتدائی تعارف کا دور شادی کی طرف بڑھتا تو وہ جعلی پے سلپس اور شناختی کارڈ بناتا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف عورت بلکہ اس کے گھر والوں کو بھی شادی کے لیے راضی کر لیتا ہے۔‘مینا کہتی ہیں کہ ’شادی کے ایک ماہ کے اندر وہ خاتون پر یہ کہہ کر نوکری چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالتا تھا کہ اسے اس کا کام پسند نہیں ہے، اسے ڈر تھا کہ اگر عورت کام کرتی رہی تو اس کی بیرونی زندگی کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ رفتہ رفتہ وہ ایک کہانی بننے لگتا ہے کہ اسے بیرون ملک جانے کا موقع ملا ہے اور اس کی کمپنی جلد ہی اسے باہر بھیج رہی ہے۔ وہ انھیں یقین دلاتا کہ ہر کوئی بیرون ملک خوشی خوشی رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد، وہ کہتا کہ اس کا پاسپورٹ کھو گیا ہے اور اس لیے ان کا امریکہ کا سفر تاخیر کا شکار ہے۔

’اسی دوران وہ یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ کمپنی نے پیسے دینا بند کر دیے ہیں اور اب تمام دستاویزات واپس حاصل کرنے کے لیے لاکھوں خرچ کرنے ہوں گے۔ اس طرح وہ نہ صرف ان خواتین سے رقم ادھار لیتا ہے بلکہ اس کی بیوی اپنے رشتہ داروں سے قرض لے کر بھی اس پیسے دے دیتی ہے۔ اس طرح اس نے ہر عورت سے 25-30 لاکھ روپے اکٹھے کیے ہیں۔‘

خواتین مشکوک کیسے ہوئیں؟
ورشا سے شادی کے بعد شیوشنکر نے انھیں بتایا کہ اس کی کمپنی اسے ایک پروجیکٹ کے کام کے لیے امریکہ بھیج رہی ہے۔

اس نے ورشا سے کہہ کر اپنی شادی رجسٹر کروائی کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ اس نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ اس کی بہن کو بھی امریکہ میں نوکری دلوا دے گا۔ یہ کہتے ہوئے اس نے ویزا کے عمل کے لیے پیسوں کی ضرورت کی بات کی۔ پھر اس سے اور اس کے والدین سے پیسے ادھار لیے۔ کچھ دنوں بعد کہنے لگا کہ امریکہ جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے۔

رقم واپس نہ کرنے پر سسرال والوں نے اس سے پوچھنا شروع کر دیا۔ وہ کئی وجوہات بتا کر ٹالتا رہا۔ جب اس کے رویے پر شک ہوا تو انھوں نے اس سے سختی سے پوچھا تو اس نے غیر ذمہ داری سے جواب دیا کہ اگر چاہیں تو پولیس میں رپورٹ کر دیں۔

اس جواب پر ورشا اور اس کے والدین نے پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے شیوشنکر کو تھانے بلایا تو وہ مینا کے ساتھ وہاں پہنچا اور اسے اپنی بیوی کے طور پر متعارف کرایا۔

یہی نہیں اس نے جھوٹ بول کر مینا کو اس بات پر راضی بھی کر لیا۔ اس نے اسے (مینا کو) بتایا کہ یہ ورشا ہی تھی جس نے اسے دھوکہ دیا اور مینا سے پولیس سٹیشن میں اس کی حمایت میں کھڑے رہنے کی درخواست کی۔اس نے مینا سے یہ بھی کہلوایا کہ ورشا اور اس کے والدین کے پیسے ادا کرنا اس کی (مینا کی) ذمہ داری ہے۔تاہم، مینا کو بھی آہستہ آہستہ اس پر شک ہونے لگا۔

مینا نے کہا: ’وہ ہر روز کہتا تھا کہ اسے رات کی شفٹ میں کام کرنا ہے۔ ہر وقت کسی خاتون سے بات کرتے ہوئے کہتا تھا کہ وہ اس کی کلائنٹ ہے۔ وہ چھپ کر دوسرا فون استعمال کر رہا تھا، جسے وہ کار میں چھوڑ جاتا۔ اصل میں ہم نے اسے باتھ روم میں بھی چپکے سے بات کرتے سنا۔ جب میں نے اس کے ہاتھ سے فون چھین کر خاتون سے بات کی تو اس نے کہا کہ وہ اس کی (شیوشنکر کی) بیوی ہے۔ یہ جان کر مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ اس کے بعد میں نے ورشا سے بات کی۔ جب ہم دونوں نے مزید تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ آس پاس کی گلیوں میں اس کے تین اور کنبے ہیں۔‘وہ کہتی ہیں: ’ہمیں پتا چلا کہ وہ 2018 سے ہی خواتین کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ خواتین نے ماضی میں بھی اس کے خلاف مقدمات درج کروائے ہیں۔‘

شیوشنکر کے خلاف سنہ 2018 اور 2019 میں کوکٹ پلی اور حیدرآباد میں دو کیس درج کیے گئے تھے، جب کہ آندھرا پردیش کے اننت پورم میں ایک کیس شادی کرنے اور بعد میں خواتین کو دھوکہ دینے کے متعلق درج کیا گيا تھا۔متاثرین نے بتایا کہ اس کے خلاف حیدرآباد کے متعدد پولیس سٹیشنز میں بھی کیسز درج ہیں۔

شیوشنکر کا کیا کہنا ہے؟
متعدد شادیوں اور دھوکہ دہی کے الزامات کے بعد شیوشنکر بابو نے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ وہ مفرور نہیں ہیں بلکہ آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں ہیں۔

انھوں نے ویڈیو میں کہا: ’یہ جھوٹ ہے کہ میں نے 8-11 خواتین سے شادی کی ہے۔ میرے سسرال والے (کئی) اور ایک شخص چاہتا تھا کہ میں ایک کمپنی بناؤں اور لوگوں کو دھوکہ دوں۔ جب میں اس کی اس بات پر راضی نہیں ہوا تو انھوں نے دو خواتین کو میرے خلاف شکایت کرنے کے لیے تیار کیا۔ اگر میں نے ان سے شادی کی تو میں انھیں اسے (شادی کو) ثابت کرنے کا کہتا ہوں۔ اگر میں نے ان سے 60 لاکھ روپے لیے ہیں تو میں انھیں ثبوت پیش کرنے کے لیے کہتا ہوں۔ میں نے صرف ایک بار شادی کی ہے، لیکن ہمارے آپس میں اختلافات ہو گئے، اس لیے ہم الگ رہ رہے ہیں۔ ابھی تک ہماری طلاق نہیں ہوئی ہے۔ آج تک، میں ایک دوسری عورت کے ساتھ لیو اِن رلیشنشپ میں رہ رہا ہوں۔‘

پولیس کیا کہتی ہے؟

متعدد شادیوں کے اس کیس کے بارے میں پولیس اب تک خاموش ہے۔ وہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ شیو شنکر کے خلاف کئی تھانوں میں مقدمات درج ہیں، اس لیے وہ اب بھی ان خواتین کی تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔

(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ)