Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

میریم مینکن: وہ خاتون سائنسدان جس نے انسان کی تولیدی زرخیزی کو بدل کر رکھ دیا

_113347211_c5a48501-26dd-4ecb-90b4-8fa55eed7836سائنسی دریافت کی درسی کہانیوں میں محقق تنہا دیر رات تک اپنی تجربہ گاہ میں تحقیق کے کاموں میں منہمک رہتا ہے۔ اچانک ذہن کا کوئی دریچہ وا ہوتا ہے، کوئی سیب سر پر گرتا ہے، کوئی بجلی کوند جاتی ہے، کوئی زہر آلود پیٹری ڈش نظر آتی ہے۔ اور پھر یوریکا یعنی کوئی دریافت سامنے ہوتی ہے!لیکن مریم مینکن کی کہانی قدرے مختلف ہے۔ سنہ 1944 کے فروری میں منگل کی ایک رات 43 سالہ لیب ٹیکنیشین رات بھر اپنی آٹھ ماہ کی بچی کے لیے جاگتی رہیں۔ وہ اسے ’جاندار نسیج کا نمونہ‘ کہتی ہیں کیونکہ ان کی بیٹی کے ابھی دانت آنے شروع ہوئے تھے۔

دوسری صبح گذشتہ چھ برسوں میں ہر ہفتے کی طرح مینکن اپنی لیب گئیں۔ بدھ کا دن تھا جب انھوں نے ایک تازہ دھلے ہوئے انڈے کو گلاس میں رکھے مادہ منویہ کے ایک محلول میں ڈالا تھا اور یہ دعا کی تھی کہ دونوں ایک ہو جائیں۔
ہارورڈ میں فرٹیلیٹی کے ماہر جان راک کی ٹیکنیشین کے طور پر مینکن کا یہ ہدف تھا کہ بیضے کو انسانی جسم کے باہر زرخیز یا ثمر بار بنایا جائے۔ بانجھ پن کے علاج کے لیے یہ کام راک کے منصوبے کا پہلا قدم تھا۔
بانجھ پن ڈاکٹروں کے لیے ہمیشہ سے پُراسرار رہا تھا۔ جان راک بطور خاص ان خواتین کی مدد کرنا چاہتے تھے جن کی بچہ دانی صحت مند تھی لیکن ان کی بیضے کی نالی میں نقص تھا کیونکہ انھوں نے کلینک میں بانجھ پن کے معاملے میں یہ دیکھا تھا کہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں یہ نقص موجود تھا۔عام طور پر مینکن مادہ منویہ اور بیضے کو ایک دوسرے کے ساتھ 30 منٹ تک رکھتی تھیں۔ لیکن اس دن ایسا نہیں ہوا۔ کئی سال بعد انھوں نے ایک رپورٹر کو بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا: ’مائیکروسکوپ میں بیضے کے ساتھ مادہ منویہ کے کھیل کو دیکھنے کے دوران میں اس قدر تھکی ہوئی اور نیند میں تھی کہ میں گھڑی دیکھنا بھول گئی اور جب میری نظر اچانک گھڑی پر پڑی تو ایک گھنٹے کا وقفہ گزر چکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ تقریبا چھ سال کی ناکامی کے بعد میری کامیابی کسی ذہنی دریچے کے کھلنے کے بجائے کام کے دوران ایک جھپکی کی مرہون منت ہے۔’
جمعے کو جب وہ لیب آئیں تو انھیں کوئی کرشمہ نظر آیا۔ خلیے پگھل گئے تھے اور وہ تقسیم ہو رہے تھے اور انھوں نے ایک شیشے کے گلاس میں انسانی نطفے کے فرٹیلائز ہونے کی پہلی جھلک دیکھی۔

مینکن کے کارنامے نے عمل تولید کی ٹیکنالوجی کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز کیا۔ ایک ایسے عہد کا آغاز جس میں بانجھ خواتین حاملہ ہونے لگیں، بچے ٹیسٹ ٹیوب میں ٹھہرنے لگے اور سائنسدانوں نے انسانی زندگی کے انتہائی ابتدائی مدارج میں دیکھنا شروع کر دیا۔سنہ 1978 میں دنیا نے لوئس براؤن نامی پہلے نلی سے پیدا ہونے والے بچے کو دیکھا جو کہ آئی وی ایف یعنی ان وٹرو فرٹیلائزیشن سے پیدا ہونے والا بچہ تھا۔ جلد ہی آئی وی ایف ایک بڑا کاروبار بن گیا۔ سنہ 2017 میں امریکہ میں آئی وی ایف کے ذریعے دو لاکھ 84 ہزار 385 بار بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس سے براؤن جیسے 78 ہزار 52 بچے پیدا ہوئے۔
ہرچند کہ انھوں نے جس طرح اپنی کہانی بیان کی مینکن کی کامیابی اتفاقیہ نہیں تھی۔ دریافت کے دوسرے عظیم لمحات کی طرح وہاں پہنچنے کے پس پشت برسوں کی تحقیق، محنت سے حاصل کی جانے والی مہارت اور ایک ہی تجربے کو بار بار دہرانے کے صبر و استقلال تھے۔
اس کے بعد انھوں نے شریک مصنف کے طور پر 18 تحقیقاتی مقالے شائع کرائے جن میں پہلی کامیابی کے تعلق سے سائنس نامی جرنل میں شائع ہونے والی دو تاریخی رپورٹس بھی شامل تھیں۔ لیکن اپنے شریک مصنف راک کی طرح ان کا نام گھر گھر نہیں لیا گیا۔
تاریخ مینکن کے کردار پھر متفق نہیں ہے۔ انھیں کئی طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ کبھی انھیں ٹیکنیشین کہا گیا تو کبھی ریسرچ اسسٹنٹ، تو کبھی ماہر علم حیاتیات، ڈاکٹر مینکن تو کبھی مس تو کبھی مسز۔ ایک طرح سے یہ تمام درست ہیں۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں فینبرگ سکول آف میڈسن کے علم تولید کی سربراہ اور علم زچہ بچہ کی پروفیسر ٹریزا وڈرف کا کہنا کہ ان کے بارے اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ وہ محض راک کی اسسٹنٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ تھیں۔
وڈرف کہتی ہیں کہ میرے خیال میں انھیں جان راک کے شریک اور ہم پلہ سمجھنا چاہیے۔ وہ صرف دو امدادی ہاتھ یا ٹیکنیشین نہیں تھیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں بلکہ وہ اپنا کام کرنے والی دانشور تھیں۔’
رٹجرس یونیورسٹی کی مورخ مارگریٹ مارش اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’راک بنیادی طور پر ایک کلینک والے تھے۔‘ جبکہ مینکن کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’وہ ایک سائنسی ذہن والی ایک سائنسدان تھی اور صحیح معنوں میں سائنسدان تھیں جو کہ سائنسی پروٹوکول کی اہمیت پر یقین رکھتی تھیں۔‘
راک کی 2008 میں شائع ہونے والی سوانح حیات لکھتے ہوئے مارش کو مینکن کی کہانی ملی۔ ‘فرٹیلیٹی ڈاکٹر: جان راک اینڈ دی ری پروڈیکٹو ریوولیوشن‘ نامی کتاب انھوں نے وانڈا رونر کے ساتھ مل کر لکھی ہے۔
لیکن ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے وہ اس بات پر افسوس ظاہر کرتی ہیں کہ انھوں نے مینکن کو صرف ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر ہی بیان کیا (مارش اور رونر کی تازہ ترین کتاب ‘دی پرسوٹ آف پیرنٹ ہڈ‘ میں مینکن کو زیادہ کریڈٹ دیا گیا ہے)۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘اگر میں اس پر نظر ثانی کرتی ہوں تو میں یہ کہوں گی کہ وہ سائنسی ذہن رکھتی تھیں۔ وہ صرف کسی کا حکم بجا لانے والی نہیں تھیں۔’
کرشمہ کرنے والے
سنہ 1900 میں ایک دن کسی بیضے کی ایک سپرم سے ملاقات ہوئی اور وہ مل گئے۔ یہ دونوں ملک کر دو خلیوں میں بٹ گئے، پھر چار اور پھر آٹھ خیلوں میں بٹ گئے۔ اور نو ماہ بعد 8 اگست سنہ 1901 کو لاٹویا کے ریگا میں مریم فرائڈمین پیدا ہوئیں۔ جب وہ ابھی پاؤں پاؤں چل رہی تھیں کہ ان کا خاندان امریکہ کو ہجرت کر گیا جہاں ان کے والد نے ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے اتنا پیسہ حاصل کیا کہ ان کا بچپن آرامدہ گزارا جہاں گھریلو کام کے لیے خدمت گار تھے۔ وہ بعد میں یاد کرتی ہیں کہ کس طرح وہ مبہوت ہو کر یہ کہانیاں سنتی تھیں کہ جلد ہی سائنس میں ذیابیطس کا علاج تلاش کر لیا جائے گا۔
انھوں نے اپنے سائنسی کریئر کی ہونہار ابتدا کورنیل یونیورسٹی سے سنہ 1922 میں ہسٹولوجی اینڈ کمپریٹو جینیٹکس میں گریجوئیشن کر کے کی اور پھر اگلے سال کولمبیا یونیورسٹی سے جینیٹکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جبکہ نیویارک میں تھوڑے عرصے کے لیے بیالوجی اور فیزیولوجی کی تعلیم دی۔
لیکن جب انھوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ اور میڈیکل سکول میں داخل ہونا چاہا تو انھیں پہلی رکاوٹ کا سامنا ہوا۔ انھیں ملک کے دو ٹاپ میڈیکل سکولوں نے مسترد کر دیا۔ وہ بعد میں یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘پتہ نہیں ایسا کیوں ہوا۔ میرے خیال سے اس کی بڑی وجہ میری شخصیت تھی۔’
درحقیقت یہ ان کے صنف کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس وقت کوئی بھی میڈیکل سکول خواتین کو قبول نہیں کرتا تھا اور جو کرتے تھے وہ بھی سختی کے ساتھ کوٹے کو نافذ کرتے تھے۔ سنہ 1917 میں ایک ڈین نے کہا کہ کورنیل نے لڑکیوں پر پابندی لگانے کی بات اس لیے کہی کہ کہیں ان کے سکول میں خواتین امیدوار کی بھرمار نہ ہو جائے۔
ہارورڈ سمیت دوسرے اداروں نے صرف جنگ کے زمانے میں خواتین طالبات کو قبول کیا۔ ہارورڈ میں تو خواتین کی پہلی کلاس سنہ 1945 میں شروع ہوئی۔
میری والش اپنی کتاب ‘ڈاکٹرز وانٹیڈ: نو وومن نیڈ اپلائی’ میں لکھتی ہیں کہ کالج مباحثے میں ‘خواتین کے سوال’ پر ایک فیکلٹی ممبر نے کہا کہ خواتین طلبہ کو آنے دینے کا مطلب ‘خواتین کے بنیادی کام بچے پیدا کرنے اور ان کی پروش کے بنیادی حیاتیاتی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔‘
اس کے بجائے انھوں نے ہارورڈ کے ایک میڈیکل کے طالب علم ویلی مینکن سے شادی کی۔ مریم مینکن نے اپنے شوہر کی تعلیم کے دوران ان کا تعاون کرنے کے لیے ان کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کیا یہاں تک کہ انھوں نے سمنس کالج سے ایک اور ڈگری سیکریٹیریئل سٹڈیز میں حاصل کر لی۔
انھوں نے تعلیم و تدریس سے اپنی قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیکٹریالوجی اور ایمبرایولوجی کے کورسز پورے کیے اور اپنے شوہر کی لیب میں مدد بھی کرتی رہیں۔ وہیں ان کی ملاقات ہارورڈ کے ماہر علم حیات گریگوری پنکس سے ہوئی جنھوں نے بعد میں راک کے ساتھ مل کر مانع حمل گولیاں تیار کیں۔
پنکس فریکنسٹینین سائنسداں کے طور پر بدنام ہوئے کیونکہ انھوں نے بغیر باپ کا خرگوش بنایا تھا جسے ایک قاب میں فرٹیلائز کیا تھا اور وہ صحت مند اور کودتا پھاندتا بڑا ہوا۔ انھوں نے مینکن کو غدہ نخامیہ یا پٹچوئری گلینڈ سے دو کلیدی ہارمونز کو کشید کرنے کا کام سونپا تھا جسے انھیں مادہ خرگوش کی بچہ دانی میں ڈالنا تھا تاکہ اس سے اضافی بیضہ بنے۔
مینکن نے ہنرمندی کے ساتھ اس کام کو انجام دیا لیکن لیب میں ان کا تھوڑے ہی عرصے رہنا ہوا۔ سنہ 1937 میں پنکس کے وقت میں اضافہ نہیں کیا گیا اور وہ انگلینڈ لوٹ گئے جس کے نتیجہ ممکنہ طور پر مینکن کی نوکری کا جانا تھا۔
جلد ہی جان راک فرٹیلیٹی کے ماہر کے طور پر افق پر ابھرے اور جو پنکس کی جانور پر تحقیق کو کلینکل ریسرچ میں لے جانے کے خواہاں تھے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے ایک غیر دستخط شدہ اداریہ میں انھوں نے لکھا: بند نلی ایک بانجھ عورت کے لیے کیسی نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔’
مینکن نے ان کی لیب میں کام کے لیے درخواست دی جسے منظور کر لیا گیا۔ مارش نے کہا: ‘وہ سمارٹ، محکم اور محنتی تھیں جو کہ راک کے کام کے لیے بالکل فٹ تھیں۔’ جبکہ راک کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘وہ ذہین، زیرک، جواب کے حل میں سرگرداں رہنے والے تھے لیکن ان کے پاس لیب کے صبر آزما کام کے لیے کوئی صبر نہیں تھا۔’
قسمت سے راک کی لیباٹری سے اکتاہٹ ہی مریم کی کامیابی کی وجہ بنی۔
منگل کی ہر صبح آٹھ بجے مینکن کم آمدن والی خواتین کے لیے میساچوسٹس کے بروکلین میں قائم مفت خیراتی ہسپتال کے بیسمنٹ میں موجود آپریشن روم کے باہر منڈلایا کرتیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ قسمت سے کسی دن انھیں راک کسی بیضہ دانی کا چھوٹا سا ٹکڑا ان کے حوالے کرتے جو ‘کسی چھوٹے ہیزل نٹ یا بندق کے برابر ہوتا۔ وہ اسے لے کر چوتھی منزل پر سیڑھیاں پھلانگتی اپنے لیب کے لیے فورا بھاگتیں۔ وہاں وہ اسے کھولتیں اور اس میں موجود قیمتی انڈوں کو تلاش کرتیں۔
یہ کوئی آسان کارنامہ نہیں تھا۔ ہر چند کہ یہ جسم کا سب سے بڑا خلیہ ہوتا ہے تاہم انسانی بیضہ پھر بھی ایک نقطے سے چھوٹا ہوتا ہے جو ہم کسی حرف پر لگاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو انھیں دیکھنے کے لیے خوردبین یا میگنیفائنگ گلاس کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے باوجود صرف وہ ایک گہرا نقطہ نظر آتا ہے۔
مینکن کے لیے یہ ایک کائنات تھی۔ وہ اپنی آنکھوں سے ہی انڈے کی نشاندہی کر لیتی تھیں اور وہ اسے صرف دیکھ کر ہی بتا دیتیں کہ وہ خراب ہے یا پھر نارمل ہے۔ انھوں نے فخریہ انداز میں خود کو راک کی ‘ایگ چیزر’ یعنی بیضے کا پیچھا کرنے والی کہا ہے۔
ایک کے بعد دوسرے یعنی ہر ہفتے مینکن اسی روٹین پر عمل کرتیں رہیں۔ منگل کو بیضے کے لیے جاتیں، بدھ کو انھیں مادہ منویہ کے ساتھ ملاتیں، جمعرات کو دعا کرتیں اور جمعے کو مائیکروسکوپ میں دیکھتیں۔ ہر جمعے کو جب وہ انکیوبیٹر میں دیکھتیں تو انھیں ایک خلیے والا غیر فرٹیلائز بیضہ ملتا اور اس کے ساتھ مردہ سپرم کے گچھے بھی پڑے ملتے۔ انھوں نے چھ سال میں یہ عمل 138 بار دہرایا۔
یہاں تک کہ سنہ 1944 کے اس خوش قسمت دن جب انھوں نے انکیوبیٹر کا دروازہ کھولا تو وہ راک کو پکار اٹھیں۔ سکول کے بچوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بعد میں کہا کہ ‘اس دن بھی معمول کے مطابق وہ شہر کے دوسرے کونے میں واقع ہسپتال میں کسی ماں کے لیے اصلی بچہ لانے کی کوشش میں تھے۔ ‘ہم نے انھیں ٹیلیفون کیا۔۔۔ جب انھوں نے دیکھا کہ قاب میں کیا تھا ان کا رنگ کسی بھوت کی طرح سفید پڑ گیا۔’
لیب دیکھنے والوں سے بھر گیا کیونکہ ‘ہر کوئی دوڑتا ہوا سب سے کم عمر کا انسانی بچہ دیکھنے کے لیے دوڑا آیا۔ مینکن نے اس انڈے کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے اپنے ایک ٹاک کے لیے تیار کردہ مسودے میں لکھا کہ وہ ‘اس قیمتی چیز کو اپنی نظر سے ہٹنے دینے سے خوفزدہ تھیں جو کہ چھ سال کے ادھورے خواب کی تعبیر تھی۔’
اس کی حفاظت کے لیے وہ اس قاب میں قطرہ قطرہ سیال ڈالتی رہیں۔ رات دیر تک گھنٹوں وہ ایک ہاتھ سے سینڈوچ کھاتے ہوئے انڈے کے ساتھ کام کرتی رہیں اور دوسرے ہاتھ سے قطرہ قطرہ سیال ڈالتی رہیں۔
وہ اداسی کے ساتھ یاد کرتی ہیں کہ وہ پہلا انڈا ان کے ہاتھوں سے نکل گیا جو کہ ‘ٹیسٹ ٹیوب میں پہلا اسقاط حمل’ تھا۔ لیکن انھوں نے وہ عمل مزید تین بار کیا اور دو خلیہ والا ایک دوسرا زائگوٹ کے ساتھ دو تین خلیوں والا زائگوٹ تیار کیا۔ انھوں نے اسے ایک گلاس میں سرخ اور نیلے ٹیپ سے باندھ کر رکھا اور پھر اسے بالٹیمور کے کارنیگی انسٹیچیوٹ آف واشنگٹن بھیج دیا۔ مینکن نے کہا کہ وہ ‘ہمارے فخر اور ہماری خوشی کے نمونے’ تھے کیونکہ انھوں نے ‘بلاشبہ یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہمارے پاس بیضے تھے۔’ جب تک وہ وہاں پہنچتے راک اور مینکن کو سینکڑوں بانجھ خواتین کے خطوط موصول ہوئے جنھوں نے ان سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا سائنس ان کا علاج کر سکتی ہے؟
مینکن اب عمل تولید کی سائنسداں بننے کے لیے تیار تھیں جو کہ زرخیزی کی حد کو مزید آگے لے جانے والی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے چار خلیوں والے بیضے کی ا‌فزائش کا منصوبہ بنایا، پھر آٹھ اور پھر کون جانے کتنے؟
لیکن پھر ایسا کچھ واقع ہوا جس کے بارے میں نہ انھوں نے اور نہ ہی راک نے سوچا تھا۔ ان کے شوہر کی نوکری جاتی رہی۔ ایک اہلیہ اور ان کے بچے کی ماں ہونے کے ناطے وہ ان کے ساتھ نارتھ کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی چلی گئیں جہاں آئی وی ایف کو کسی سکینڈل کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور ایک ڈاکٹر نے تو اسے ‘ریپ ان ویٹرو’ یعنی ٹیسٹ ٹیوب میں ریپ تک کہا۔
مینکن کی مہارت کے بغیر بوسٹن میں آئی وی ایف کی تحقیق رک گئی۔ اس کے بعد راک کے کسی اسسٹنٹ کو ٹیوب میں ایک بھی بیضے کو فرٹیلائز کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔
واضح ہدایت
سکول کے بچوں کے ساتھ بات چیت کے دوران نے انھوں نے ٹیوب میں مادہ منویہ اور بیضے کے ملاپ کے عمل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیضہ کتنا چھوٹا ہوتا ہے اور جب وہ اپنے فولیکل سے آزاد ہوتا ہے اور پھر نسبتا زیادہ متلاطم جسمانی سرگرمی میں جا گرتا ہے تو آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ وہ کھوتا نہیں ہے؟ کس طرح یہ چھوٹی سی چیز ایک نقطہ اپنی جگہ تلاش کر لیتا ہے جہاں اسے جانا ہے۔؟’
بیضے کے معاملے میں مادہ کے جسم میں شاندار تغیرات رونما ہوتے ہیں اور اسے آگے لے جاتے ہیں۔ جال کی انگلیوں کا حصہ جو کہ فیلوپیئن کے ٹیوب کے آخری سرے پر یکجا ہوتا ہے تو وہ سرا سخت ہو جاتا ہے، خون سے بھر جاتا ہے اور انڈے کو ٹیوب میں کھینچتا ہے، وہاں سیلیا کہے جانے والے چھوٹے روئیں بیضے کو مزید اندر کھینچتے ہیں یہاں تک کہ اسے بیضہ دانی میں لے جاتے ہیں۔
مینکن کے معاملے میں دو چیزیں انھیں فرٹیلیٹی کی تحقیق کی جانب لے گئيں۔ ایک تو ان کی مستقل لگن اور پھر تھوڑی سی قسمت۔
ان کے شوہر کی ملازمت انھیں جگہ جگہ لے گئی تاہم انھوں نے انڈوں کا پیچھا کرنے کے مواقع اور لیب کی تلاش جاری رکھی۔ انھوں نے عمل تولید پر کام کرنے والے معروف محققوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور راک سے اپنا تعارف لکھنے کی گذارش کی۔
نارتھویسٹر یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر جنھوں نے تولیدی سائنس میں مینکن کی خدمات کے بارے میں لکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ وہی کر سکتا تھا جو کہ بہت لگن والا ہو کہ کسی لیب میں اچانک جا کر یہ کہے کہ ہائے میں جان راک کے ساتھ کام کرتی تھی کیا مجھے لیب میں تھوڑا موقعہ ملے گا۔ اس کے لیے بے باک نہیں تو بہت حد تک اعتماد اور کام کرنے کی شدید خواہش کی ضرورت ہوتی ہے۔’
لیکن سنہ 1945 میں مینکن نے نارتھ کیرولینا سے راک کو لکھا کہ ‘یہاں بیضے پر کام کرنے کے مواقع ابھی بھی حوصلہ شکن ہیں۔’ بہر حال لیب کے بغیر بھی وہ راک کے ساتھ دور سے ہی تعاون کرتی رہیں۔ سنہ 1948 میں دونوں نے آئی وی ایف کی اپنی پہلی کامیابی پر مشترکہ تحقیقی مقالہ لکھا جو کہ سائنس نامی جریدے میں شائع ہوا اور اس میں پہلے مصنف کے طور پر مینکن کا نام تھا۔
لیکن آئی وی ایف کے میدان میں تحقیق کے سلسلے میں انھیں جلد ہی بعض پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا انھوں نے ویلی سے طلاق کو روکے رکھا تھا جو کہ ان کے بچے لوسی اور گیبریل کے سامنے اس پر تشدد کرتا اور اس نے پیسہ دینا بھی بند کر دیا تھا۔
ستمبر 1948 کے اپنے ایک خط میں انھوں نے لکھا: ‘میرے خیال سے اس سے بہت صدمہ ہوگا اور طلاق کا طعنہ برداشت کرنا بطور خاص گیبریل کے لیے بہت مشکل ہو گا۔’
لیکن جب ان کے شوہر کا برتاؤ مزید خراب ہوتا گیا تو انھوں نے طلاق کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے اگلے ماہ لکھا: ‘میں اس سست رفتاری کے ساتھ خودکشی کی خواہش نہیں رکھتی۔’ انھوں نے ایک وکیل سے رجوع کیا، طلاق کی درخواست دی اور لوسی کو اپنی تحویل میں رکھنے کی اجازت حاصل کر لی۔
ایک اکیلی ماں کے طور پر انھیں تمام ضروریات پوری کرنے میں مشکلات آنے لگی۔ ان پر لوسی کی ذمہ داری بڑھ گئی جسے مرگی آتی تھی اور ہمیشہ بیمار رہتی تھی اور اسے ماہر نفسیات اور ڈاکٹروں کے پاس لے جانا پڑتا تھا۔ جب مینکن کو چھٹیوں کی راتوں میں بغیر معاوضے کے لیب کے استعمال کی اجازت ملی تو ان کے لیے ایسا کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔
سنہ 1950 کی دہائی کے اوائل میں مینکن لوسی کو سپیشل چائلڈ والے سکول میں داخل کرانے کے لیے بوسٹن واپس آ گئیں۔ اس کے بعد وہ پھر راک کے ساتھ لیب میں کام کرنے لگیں لیکن اس ایک دہائی میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ اس وقت تولیدی کام زیادہ بچے ٹیوب میں تیار کرنے کا نہیں تھا بلکہ زیادہ بچے پیدا ہونے سے بچانے کا کام ہونے لگا تھا۔
راک اور ان کی لیب کا بنیادی مشن اب مانع حمل کے آسان طریقے کو فروغ دینا تھا۔ یہ وہ کام تھا جس کے نتیجے میں سنہ 1960 میں مانع حمل گولیوں کی تاریخی منظوری دی گئی۔
جوں جوں راک اپنے حتمی ہدف کی طرف بڑھ رہے تھے مریم پردے کے پیچھے سے ان کے ‘لٹریری اسسٹنٹ’ کے طور پر ان کے لیے کام کر رہی تھیں۔ وہ جاپانی سپرم کے منجمد کرنے سے لے کر گھوڑوں میں بانجھ پن جیسے تحقیقی موضوعات کو کھنگالتیں۔ (ان کے ایک سوال کے جواب میں انھیں یہ لکھا گیا: ‘ڈیئر مزی، دنیا بھر کی پریشانیوں کے درمیان میں اس بات پر خوش ہوں کہ آپ کو گھوڑوں کے بانجھ پن میں دلچسپی ہے!’) انھوں نے شریک مصنف کے طور پر ایک تحقیقی مقالہ اس موضوع پر لکھا کہ کیا خواتین کی ماہواری کو روشنی سے مستحکم کیا جا سکتا ہے اور کیا ایک گرم کرنے والا جاکسٹریپ مردوں کو عارضی طور پر بانجھ رکھ سکتا ہے؟
اگرچہ ان کے بعد کے مقالے ان کے اصلی ہدف سے دور کے شعبے کے تھے لیکن مینکن بالآخر ان کے لیے ہی تعاون کر رہی تھی۔ راک کی طرح انھوں نے عمل تولید کے اسرار کی جانچ کی اور انھوں نے سائنس کی معلومات میں اضافہ کیا۔ انھیں بھی ‘بانجھ عورتوں’ کا خیال تھا اور انھیں اس ٹیکنالوجی میں اپنے تعاون پر فخر تھا جو مستقبل میں کسی دن ایسی خواتین کو ماں بننے میں مدد کرنے والی تھی۔
لیکن ذاتی طور پر انھیں آئی وی ایف کے استعمال میں دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے ایک نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں یہ کبھی نہیں کرتی کیونکہ میرے خیال سے ایسا کرنا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔ آپ اس میں بہت زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں۔۔۔ آپ ایک عفریت تیار کر سکتے ہیں۔’
اس سے زیادہ ان کی دلچسپی رحم مادر سے باہر فرٹیلائزیشن کی پہیلیوں کو سلجھانے میں تھی۔ ان کے لیے وٹرو کا کام وسیع سائنسی پروجیکٹ میں نمائندگی کا موقع تھا لیکن اس کريئر کی تکمیل پٹری سے اتر گئی۔
یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اگر ان کی زندگی مختلف ہوتی تو مریم مینکن نے کیا کارہائے نمایاں انجام دیے ہوتے، اگر انھوں نے ویلی سے شادی نہ کی ہوتی یا اگر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل گئی ہوتی۔ بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے عہد اور حالات نے انھیں ایک خاص بکس میں زبردستی رکھ دیا۔
اپنے سائنسی عروج کے سمت الراس پر بھی انھیں ایک مفقود السمت ذہن والی نئی نئی ماں کے طور پر بیان کیا گیا جنھیں ایک کامیابی مل گئی۔ لیکن کسی کو انھیں اپنے طور کی ایک سائنسداں کے طور پر دیکھنے کے لیے ان کے محتاط نوٹس، سخت پروٹوکولز، اور ان کی بہتر ڈھنگ سے تحقیق کردہ ببلیوگرافی پر نظر ڈالنی چاہیے۔
یقینا وہ صرف کسی کی حکم کی غلام نہیں تھیں۔