’میرا نام شالنی تھا، اب میں فاطمہ ہوں‘: دولت اسلامیہ میں انڈین خواتین کے موضوع پر بننے والی فلم پر تنازع، ٹریلر بھی دیکھیں

1,750

تروننت پورم :(ایجنسیز)جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں پولیس نے ایک فلم کے ٹیزر کے بارے میں موصول ہونے والی شکایتوں کے بعد قانونی ماہرین سے رابطہ کیا ہے کیونکہ اس ٹیزر کی وجہ سے ریاست میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔نئی فلم ’دی کیرالہ سٹوری‘ کے اس ٹیزر کے بارے میں ایک اداکارہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک کردار ریاست کی ان 32,000 خواتین میں سے ایک ہے جنھیں ’اسلامی دہشت گرد‘ بنا دیا گیا تھا۔ریاست کے کچھ سیاستدانوں نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک صحافی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ کے دفتر نے صحافی بی آر اروندکاشن کی جانب سے لکھا گیا یہ خط پولیس کو مزید تفتیش کے لیے بھیج دیا ہے۔کیرالہ کے دارالحکومت تھروننتا پورم کے پولیس کمشنر سپرجن کمار نے کہا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور خط پر قانونی رائے مانگی گئی ہے کہ اس سلسلے میں کیا کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘ٹیزر میں ایک برقع پوش خاتون یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ’میرا نام شالنی اننی کرشنن تھا اور میں نرس بننا چاہتی تھی۔‘’اب میں فاطمہ ہوں، دولت اسلامیہ کی دہشت گرد ہوں اور افغانستان کی ایک جیل میں ہوں۔‘

وہ لڑکی مزید کہتی ہے کہ ’میرے جیسی 32 ہزار لڑکیاں ہیں جنھیں شام اور یمن کے صحراؤں میں دفن کیا گیا ہے۔‘جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں پولیس نے ایک فلم کے ٹیزر کے بارے میں موصول ہونے والی شکایتوں کے بعد قانونی ماہرین سے رابطہ کیا ہے کیونکہ اس ٹیزر کی وجہ سے ریاست میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔نئی فلم ’دی کیرالہ سٹوری‘ کے اس ٹیزر کے بارے میں ایک اداکارہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک کردار ریاست کی ان 32,000 خواتین میں سے ایک ہے جنھیں ’اسلامی دہشت گرد‘ بنا دیا گیا تھا۔ریاست کے کچھ سیاستدانوں نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صحافی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے دفتر نے صحافی بی آر اروندکاشن کی جانب سے لکھا گیا یہ خط پولیس کو مزید تفتیش کے لیے بھیج دیا ہے۔کیرالہ کے دارالحکومت تھروننتا پورم کے پولیس کمشنر سپرجن کمار نے کہا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور خط پر قانونی رائے مانگی گئی ہے کہ اس سلسلے میں کیا کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘ٹیزر میں ایک برقع پوش خاتون یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ’میرا نام شالنی اننی کرشنن تھا اور میں نرس بننا چاہتی تھی۔‘’اب میں فاطمہ ہوں، دولت اسلامیہ کی دہشت گرد ہوں اور افغانستان کی ایک جیل میں ہوں۔‘

وہ لڑکی مزید کہتی ہے کہ ’میرے جیسی 32 ہزار لڑکیاں ہیں جنھیں شام اور یمن کے صحراؤں میں دفن کیا گیا ہے۔‘ان میں سے ایک طالب علم نے شادی کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ جب انھوں نے ملک چھوڑا تو وہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، انڈین حکام نے بتایا کہ کیرالہ سے تعلق رکھنے والی چار خواتین جو دولت اسلامیہ میں میں شامل ہو ہوئی تھیں وہاں مقید ہیں۔ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حقائق اور ریکارڈ چیک کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ ایسی خواتین کی تعداد دس یا پندرہ سے زیادہ نہیں جو 2016 سے اب تک کیرالہ سے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے مذہب تبدیل کر کے ملک چھوڑ چکی ہیں۔‘

 

مسٹر اروندکشن کا کہنا ہے کہ انھوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن، ریاستی فلم سرٹیفیکیشن بورڈز کے ساتھ ساتھ انڈیا کے وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر کو بھی خط لکھا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔انھوں نے کہا کہ یہ فلم انڈیا کے اتحاد اور خودمختاری کے خلاف ہے اور انڈیا کی تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ساکھ کو داغدار کرتی ہے۔فلم کے ٹیزر نے کیرالہ میں بھی ایک سیاسی تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے لیڈر وی ڈی ساتھیسن نے کہا ہے کہ ’یہ غلط معلومات یا جھوٹ پھیلانے کا واضح معاملہ ہے‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ فلم ’کیرالہ کی شبیہ کو خراب کرنے‘ اور ’لوگوں میں نفرت پھیلانے‘ کے لیے بنائی گئی ہے۔

کیرالہ کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے قانون ساز جان برٹاس نے بدھ کے روز وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا جس میں ان سے فلم سازوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کے سریندرننے فلم سازوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر کیرالہ حکومت کی تنقید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ میں کیرالہ میں دولت اسلامیہ میں بھرتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔‘