میاں بیوی کے جھگڑوں کی صورت میں سرپرستوں کا رول کیا ہونا چاہیے ؟

1,183

نکاح عفت وپاکیزگی کاجلی عنوان ہے،آفات نظرسے حفاظت کابہترین ذریعہ ہے،ایمان کی تکمیل کا سبب ہے،نکاح وہ پاکیزہ رشتہ ہے جومردوعورت کوایک لڑی میں پرو دیتا ہے، اوران کے مابین الفت ومحبت کوفروغ دیتاہے،عقدنکاح سے صرف مردوعورت کاہی اجتماع نہیں ہوتا؛بلکہ دوخاندانوں کا باہم اجتماع ہوتاہے،میاں بیوی کے مابین ہی تعلق وانسیت پیدا نہیں ہوتی؛بلکہ دوخاندانوں کے افراد کے مابین تعلق وانسیت پیداہوتی ہے،

زوجیت کاپاکیزہ رشتہ قائم ہونے کے بعد زن وشوایک دوسرے کے معاون ومددگاربن جاتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشی وغمی میں شریک ہوجاتے ہیں، اور اگر ازدواجی زندگی کواسلامی نہج پراستواررکھاجائے تودونوں دوجسم یک جاں بن جاتے ہیں۔

شریعت اسلامیہ کامزاج یہ ہے کہ جب مردوعورت نکاح کے رشتہ میں بندھ جائیں تویہ رشتہ مضبوط اور مستحکم ہو،محبت وہمدردی اورباہمی تعاون کی بنیادوں پراستوارہو،ایک دومہینے یاایک دوسال تک یہ رشتہ محدودنہ ہو؛بلکہ دائمی اورلازوال ہو؛اسی وجہ سے نکاح کے پاکیزہ رشتہ کو برقرار رکھنے اور اس میں محبت ومودت کارنگ بھرنے کے لئے اسلام نے زوجین کو خاص ہدایات دی ہیں،شوہراوربیوی ہرایک کے ذمہ اپنے ساتھی کے حوالہ سے کچھ حقوق مقررکیے ہیں،اگران پرعمل آوری کویقینی بنایاجائے،اورازدواجی زندگی کے سفرمیں شریعت کے نقوش جمیل کو مدنظر رکھاجائے تونکاح کارشتہ مزید پائیدار اور مستحکم ہوتا ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے لئے مخلص رفیق ثابت ہوتے ہیں، اور اگر شریعت کی ہدایات سے غفلت اور لاپرواہی برتی جائے ، ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں سستی اورسہل انگاری کامظاہرہ کیاجائے توپھرمیاں بیوی میں سے ہرایک کی زندگی تلخ اوربے مزہ ہوجاتی ہے،اورزندگی کے ہرموڑپردونوں ایک دوسرے کے لئے بجائے رفیق کے حریف ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف چوں کہ دونوں کا ہمیشہ کاساتھ ہوتا ہے، اختلاط اورہم نشینی کے مواقع ہمیشہ میسرہوتے ہیں؛اس لئے ایک دوسرے کی اخلاقی کمزوریاں بھی ان کے سامنے ظاہر ہوجاتی ہیں،جس کی وجہ سے شکایات کاپیداہوجانا ناگزیر ہے، زوجین کے مابین باہمی رنجش اوران بن ہوجاناایک فطری امرہے،یہ نہ کوئی معیوب چیزہے اورنہ شریعت کے منشاکے خلاف ہے،تاہم ایسی صورت میں میاں بیوی کے سرپرستوں کو سنجیدہ اورذمہ دارانہ کردارنبھانے کی ضرورت ہے،ایسامضبوط کردارجس میں وقتی غصہ، جذبات کاابلتاہواجوش نہ ہو، عصبیت و جانبداری سے کام نہ لیاگیاہو؛ بلکہ سرپرستوں اور زمہ داروں سے ایک ایسارول مطلوب ہوتا ہے جس میں حقائق کابے لاگ تجزیہ ہو،شیشہ وآہن کاحسین امتزاج ہو،محبت وہمدردی کے ساتھ احساس ذمہ داری ہو،شکست اور ہارماننے کاحوصلہ ہو، جب حضرات سرپرست زوجین کے باہمی چپقلش اورشکررنجی کو دور کرنے اوران کے باہمی شکایات کورفع کرنے میں سنجیدہ ہوں گے، اور غیرجانب دارانہ طورپران کے مسائل کوحل کرنے کی کوشش کریں گے تو میاں بیوی کی ازدواجی زندگی خوش گوارفضامیں بسرہوگی،اوربہت سے ازدواجی رشتے جومعمولی معمولی باتوں کی وجہ سے طلاق پرمنتج ہوتے ہیں ان میں بھی مطلوبہ حدتک کمی آئے گی،نیزطلاق وتفریق اور میاں بیوی نزاع واختلاف کی وجہ سے جوآج کل پولیس اسٹیشنوں اور کورٹ کچہریوں کے چکرکاٹے جارہے ہیں، اور غیروں کواسلام اورمسلمانوں پرجگ ہنسائی کاموقع مل رہاہے ان پربھی روک لگے گی۔

عہدنبوی جومسلمانوں کاایک مثالی اوردرخشاں دور تھا،جہاں اسلامی معاشرے کی بنیادعالی صفات اوربلنداخلاق پرتھی،محبت وہمدردی ،ایثاروسخاوت اورخلوص واپنائیت جیسے پاکیزہ صفات مدنی معاشرے کاجزولاینفک تھے،وہاں بغض وعناد، عداوت ودشمنی اورحسدورقابت کاگزرنہ تھا،جس مدنی معاشرے میں ازدواجی رشتہ ایک اٹوٹ اورمضبوط بندھن ہوتا تھا، جہاں ازدواجی رشتہ محبت ومودت اوربے لوث تعلق وانسیت کا مظہرہوتاتھا، جہاں مرد وعورت رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد زندگی کے مخلص رفیق ثابت ہوتے تھے، جو پاکیزہ سماج سکون واطمینان کی گراں مایہ دولت سے معمور تھا، ایسے پاکیزہ دورکی طرف لوٹیے،تاریخ کے صفحات پلٹئے،اوران کی روشنی میں سفرکارخ متعین کیجئے؛کیوںکہ گزری ہوئی بہارکی یادیں ہی ہمارے خزاں رسیدہ چمن کے پودوں میں ذوق ِنموپیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،اورماضی کے دھندلکوں میں چھپے ہوئے نقوش ہی ہمیں مستقبل کی راہ دکھاسکتے ہیں۔

آج کے دورمیں جب نکاح کی مجلس منعقدہوتی ہے، تو زوجین کے لئے کچھ اس طرح دعاء کی جاتی ہے:اے اللہ! زوجین کے مابین ایسی محبت والفت پیدافرماجیسی حضرت علی اورحضرت فاطمہؓ کے درمیان تھی؛لیکن اس پہلوکوہم نظر انداز کردیتے ہیں کہ سیدناحضرت علی ؓاورجگرگوشہ ٔ رسول حضرت فاطمہ زہراؓکے مابین خوش گوارازدواجی تعلقات کا آخر کیا راز تھا؟وہ کون سے اسباب وعوامل تھے جن کی وجہ سے حضرت علی وفاطمہ ؓکے مابین پاکیزہ محبت اور ایک دوسرے کے تئیں خلوص واپنائیت کے جذبہ کوفروغ ملا؟ ازدواجی رشتہ کومثالی اورقابل ِتقلید رخ دینے کے پیچھے کیاچیزکار فرما تھی؟ آپ غورکریں گے تواندازہ ہوگاکہ حضرت علیؓ اورخاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ازدواجی زندگی میں متعدد بارنشیب وفراز آئے، ایک دوسرے سے شکایات پیداہوگئیں،ناراضگی اورخفگی کے مواقع آئے؛ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرپرست اورمربی ہونے کی حیثیت سے باہمی اختلاف کو سلجھایا، آپسی شکایات کابحسن وخوبی ازالہ فرمایا،اورنئے سرے سے محبت والفت کے ساتھ زندگی گزارنے کی زوجین کوتاکیدکی،۔

چنانچہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسولؓ حضرت فاطمہ کے دولت کدہ پرتشریف لے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ گھر پر موجود نہیں ہیں،دریافت کیاکہ تمہارے چچازادبھائی (علیؓ) کہاں ہیں؟فاطمہؓ نے کہا: میرے اورعلی ؓکے مابین کچھ ان بن ہوگئی ہے،جس کی وجہ سے وہ ناراض ہوکر گھرسے باہرچلے گئے ہیں،اورگھرمیں قیلولہ بھی نہیں کیا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوبھیجاکہ دیکھوعلی کہاں ہیں؟اس نے آکراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ مسجدنبوی میں سورہے ہیں،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجدنبوی میںتشریف لائے،دیکھاکہ حضرت علیؓ آرام کررہے ہیں،اورچادران کے پہلوسے گرگئی ہے، اور ان کے جسم کوگردوغبارلگ گیاہے، سرورِکائنات حضرت علیؓ کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے،اوران سے کہنے لگے :اے ابوتراب! اٹھو،اے ابوتراب!اٹھو۔(بخاری)

مذکورہ بالاحدیث خاندانی تعلقات کوخوش گواراورمضبوط ومستحکم بنانے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، اور زوجین کے مابین رنجش اورجھگڑاہوجانے کی صورت میں ایک سرپرست کاکیارول ہوناچاہیئے اس پہلوکوبھی یہ حدیث اجاگر کرتی ہے،اورایسے رہنمایانہ خطوط متعین کرتی ہے جس پرعمل آوری ازدواجی زندگی کوکامیاب اور بہتر سے بہتربنانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔

زوجین کی خبرگیری: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوپہرکے وقت اپنے دامادحضرت علیؓ کے گھرتشریف لے گئے،غالبااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ مقصدہوگاکہ زوجین کی خبرگیری کی جائے،اوران کے احوال سے واقفیت حاصل کی جائے،اس سے یہ سبق ملتاہے کہ سرپرست اور حضرات ذمہ داران کالڑکے یالڑکی کی شادی کردینا اور اپنے آپ کوہرقسم کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآسمجھ لینادرست نہیں ہے،جیساکہ آج اس کارجحان روزافزوں ہے؛بلکہ شادی کے بعدبھی لڑکے اورلڑکی کی خبرگیری کرنااوران کے احوال سے واقفیت حاصل کرتے رہنابھی سرپرستوں کی ذمہ داری ہے، اس کے لئے داماداوربیٹی کووقتا فوقتا گھربلانے کااہتمام کیا جائے، اورخودبھی وقت نکال کرداماد کے گھرجانے کوشش کی جائے،آمدورفت رکھنے سے خاندانی تعلقات مضبوط اورمستحکم ہوتے ہیں،اورزوجین کے مابین بھی محبت واعتماد میں اضافہ ہوتاہے۔

لڑکی کے دل میں شوہرکی عظمت پیداکی جائے:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ فاطمہ ؓکے مکان پرتشریف لے گئے ،اورحضرت علیؓ کو آپؐنے موجود نہیں پایا، تو آپؐ کی نگاہ ِبصیرت نے یہ محسوس کرلیاکہ ضرور زوجین کے مابین رنجش ہوئی ہے،اوردونوں کے تعلقات معمول پرنہیں ہیں،میاں بیوی دونوں ایک دوسرے سے کبیدہ خاطرہیں،ایسے وقت آپ نے ضرورت محسو س کی کہ سیدہ فاطمہ کواپنے رفیق ِحیات کے حوالہ سے جوخفگی اورناراضگی ہے اسے دور کیا جائے، اور دونوں کے تعلقات کوازسر ِنوخوش گواربنایاجائے،چنانچہ اس مقصد سے آپؐنے سیدہ فاطمہ ؓسے یہ دریافت نہیں کیاکہ علی کہاں ہیں؟بلکہ ایک رشتہ کاحوالہ دے کردریافت کیاکہ تمہارے چچازادبھائی کہاں ہیں؟ تاکہ سیدہ فاطمہؓ زہرارضی اللہ عنہاکی حضرت علیؓ سے ناراضگی کے ناخوش گواراثرات ان کے دل سے دورہوجائیں، اور قرابت ورشتہ داری کی اساس پرحضرت علیؓ سے صلح صفائی کرلیں،اس میں لڑکی کے سرپرستوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو جھکنا سکھائیں،لڑکیوں کویہ تعلیم دیں کہ جب شوہر ناراض ہوجائے تواسے مناناتمہارافریضہ ہے، لڑکیوں کو یہ سکھائیں کہ اگر تمہاری غلطی ہوتوبہرصورت تمہیں معافی مانگنا ہے، اور اگر تمہاری غلطی نہ ہوتب بھی اپنی غلطی تسلیم کرلینااورشوہرسے معافی چاہ لینااعلی اوربلنداخلاق وکردارکی دلیل ہے، جو ازدواجی رشتہ کومضبوط سے مضبوط تربناتاہے، اور باہمی محبت واعتمادکوپروان چڑھاتاہے۔

ناخوش گوارواقعہ پرصبر:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گھرمیں حضرت علیؓ کونہیں پایا،جب کہ یہ دوپہر کاوقت تھا،اورحضرت علیؓ کے گھرمیں موجود رہنے اورقیلولہ کرنے کاوقت تھا تو آپؐ نے ان کے بارے میں دریافت کیا،حضرت فاطمہؓ نے کہا:کسی بات پرمجھ سے ناراض ہوکرباہرگئے ہیں،یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ سید ہ فاطمہ ؓنے باہمی رنجش کی وجوہات کواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان نہیں کیا،اورنہ ہی اللہ کے رسولؐ نے اس بارے میں تفصیلات معلوم کرنامناسب سمجھا،حضرت فاطمہؓ کا یہ طرزعمل سسرال میں رہنے والی خاتون کویہ پیغام دیتاہے کہ وہ صبروتحمل اوربرداشت کرنے کاخودکوعادی بنائیں،شوہرکی طرف سے یاشوہرکے گھروالوں کی طرف سے کوئی ایسی بات پیش آجائے جوطبیعت پرناگوارہو،اورمزاج لطیف پرگراں ثابت ہوتواس کوبرداشت کرنے کاخودکوعادی بنائیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پرکبیدہ خاطرہوجانااوراوراس کی اپنے گھروالوں کو وقتا فوقتااطلاع دیتے رہنا مسئلہ کاحل نہیں ہے؛بلکہ اس سے مزیدمسائل پیدا ہوتے ہیں،باہمی تعلقات پربرااورمنفی اثر پڑتا ہے،اس سے نہ صرف میاں بیوی کی ازدواجی زندگی تلخی کی شکارہوتی ہے؛بلکہ دوخاندانوں کے تعلقات بھی متاثرہوتے ہیں،نیزاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاطرزعمل بھی حضرات سرپرست اورحضرات ذمہ داران کے لئے نمونہ ہے،لڑکی کے سرپرستوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ لڑکی سے یہ خبرلیتے رہناکہ تمہیں سسرال میں کیا تکلیف ہے؟شوہراوراس کے گھروالے تمہارے ساتھ کیسارویہ برتتے ہیں؟یہ ایک ایسی چیزہے جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی؛کیوں کہ بحیثیت انسان ہرشخص میں کچھ نہ کچھ اخلاقی کمزوریاں ہوتی ہیں،اورہرایک کامزاج ومذاق قسام ازل نے فطری طورپرمختلف رکھاہے،اس لئے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایک کودوسرے سے شکایات پیدا ہوجانا ناگزیرہے،ایک کودوسرے کارویہ پسند نہ آنا فطری بات ہے، اب اگرتفصیلی رپورٹ لی جائے گی، اور سسرال میں بیٹی کوجس رویہ اورسلوک کاسامناہے اس کاباریک بینی سے جائزہ لیا جائے گاتویادرکھئے کہ اس سے باہمی تعلقات کونقصان پہونچے گا اور آپس میں عداوت ودشمنی کی فضاپیداہوگی،تعاون و ہمدردی کاصالح جذبہ رفتہ رفتہ سردپڑے گا،اوریہ چیز بسا اوقات تفریق اورعلاحدگی کابھی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

مسئلہ کوجلدسے جلدحل کرنے کی کوشش:مذکورہ بالاواقعہ سے یہ بھی سبق ملتاہے کہ جب زوجین کے مابین ناچاقی پیش آجائے توسرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر زوجین کے مابین مصالحت کرانے کی کوشش کریں،اوردونوں کی ازدواجی زندگی کوبحال کرنے کویقینی بنائیں،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوجوں ہی اطلاع ملی حضرت علیؓ خفا ہوکر گھرسے باہرگئے ہیں، توآپؐ نے اسی وقت ایک شخص کو بھیجا، اوراس سے فرمایاکہ دیکھو!علی کہاں ہیں؟اورجب آپ ؐکو معلوم ہوا کہ وہ مسجدنبوی میں آرام کررہے ہیں توآپ وہاں تشریف لے گئے،واقعہ بھی یہی ہے کہ جب کسی مسئلہ کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے،اوراس کوآئندہ وقت کے لئے ٹال دیا جائے، تو بسا اوقات اس سے بڑے نقصانات ہوسکتے ہیں،جیسے ایک چھوٹی سی چنگاری کو یوں ہی جلتاچھوڑدیاجائے،اوراسے معمولی سمجھ کر نظراندازکردیاجائے توپھرکچھ ہی دیرمیں یہی چنگاری شعلۂ جوالہ بن جاتی ہے، اور اپنے اردگردکی چیزوں کوخاکسترکرکے رکھ دیتی ہے،اسی طرح میاں بیوی جن کاہمیشہ کاساتھ ہوتاہے ، ہرایک کاقلبی سکون واطمیان اپنے رفیق حیات سے مربوط ہوتاہے،اگرکسی وجہ سے ان کے مابین رنجش ہوجائے،اوراس کو حضرات سرپرست یوں ہی نظراندازکردیں،اوراس کو فوری طورپرحل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کریں تو آگے چل کر بڑے مسائل بھی کھڑے ہوسکتے ہیں،جن کوآسانی سے حل کرنا بسااوقات ممکن نیں ہوتا۔

دامادکااحترام:مذکورہ واقعہ سے یہ بھی سبق ملتاہے کہ ایک خسر کو اپنے دامادکااحترام کرناچاہیئے،اس کی عزت وتوقیر کا خیال رکھنا چاہئے، سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کوجب اطلاع ملی کہ سیدناعلیؓ مسجدنبوی میں آرام کررہے ہیں،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خودوہاں پہونچتے ہیں،اورپیاربھرے انداز میں فرماتے ہیں:اے ابوتراب!اٹھو،اے ابوتراب! اٹھو، حضرت علیؓ کواللہ کے رسول کایہ دیاہوالقب اتناخوش گوار محسوس ہوتاہے کہ وہ اس کواپنے نام کاحصہ بنالیتے ہیں،اوراس لقب سے اگر انہیں کوئی آوازدیتاتوخوشی ومسرت کا اظہار فرماتے۔(بخاری)پھراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جسم سے گردوغبارکوجوفرش پرسونے کی وجہ سے ان کے جسم پرلگ گیاتھااپنے بابرکت ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں، اندازہ لگائیے کہ وہ ذات جوسرورکائنات ہے،افضل الخلائق ہے، مجبوب رب العالمین ہے،جس کے ایک معمولی اشارے پرحضرات صحابہ اپنی جان کانذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار رہتے تھے،آپؐکے رعب اورجلال کایہ عالم تھاکہ کسی بھی آدمی کو آنکھ میں آنکھ ڈال کربات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی،اس بابرکت ذات گرامی نے دامادکونہ ڈانٹانہ اس سلسلہ میں بازپرس کی،بلکہ ان کے ساتھ محبت وہمدردی کامعاملہ کیا،ان کی عزت وتوقیر فرمائی، ظاہرہے کہ جب لڑکی کے سرپرست کی طرف سے دامادکی عزت افزائی کی جائے گی،اس کے ساتھ احترام اور توقیر کامعاملہ کیاجائے گاتواس کے دل میں بھی لڑکی اورلڑکی کے گھروالوں پیداہوگا، جو ازدواجی زندگی کوخوش گواربنانے میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص ؓکاواقعہ بھی ہمارے لئے بڑاعبرت آموزاورسبق آموزہے،حضرت عبداللہ بن عمروبن عاصؓ فرماتے ہیں کہ میرے والدنے میرانکاح ایک قریشی خاتون سے کیا، جو خوب صورت ہونے کے ساتھ ایک اچھے اونچے خاندان سے تعلق رکھتی تھی،میرے والداپنی بہوکاخاص خیال رکھتے تھے،ایک مرتبہ انہوں نے بہوسے پوچھاکہ تمہاراشوہرکیساہے؟اس کاتمہارے ساتھ کیسابرتاؤ ہے؟بہونے کہا:بہت اچھے آدمی ہیں، بسترپرنہیں آتے، اور حقوق زوجیت ادانہیں کرتے ہیں،حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میرے والدنے میرے متعلق یہ شکایت سنی تومجھے بہت ڈانٹا، اورکہاکہ میں نے ایک معززخاتون سے تمہارانکاح کیا ہے،اورتم زوجیت کے حقوق ادانہیں کرتے ہو،جب ان کی زجروتنبیہ کامجھ پرکوئی خاص اثرنہیں ہوا تو انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی،اوربیوی کے حوالہ سے جومیرارویہ تھااسے اللہ کے رسولؐ کے سامنے بیان کیا، آپؐ نے مجھے طلب کیااورفرمایا:مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم مسلسل دن میں روزے رکھتے ہو،اوررات بھرنمازیں پڑھتے ہو،میں نے کہایہ اطلاع صحیح ہے، آپؐنے فرمایا:تم کچھ دن روزہ رکھو،اورکچھ دن روزہ نہ رکھو،تھوڑی دیرکے لئے رات میں نمازپڑھو،اوربقیہ حصہ رات میں آرام کرو،کیوں کہ تمارے اوپرتمہارے جسم کابھی حق ہے،تمہاری آنکھوں کابھی تمہارے اوپرحق ہے،تمہاری بیوی کابھی تمہارے اوپرحق ہے، اور مہمانوں کابھی تمہارے اوپرحق ہے۔(مسنداحمد)

مذکورہ بالاواقعہ میں سرپرستوں کے لئے یہ پیغام ہے کہ بچوں کی شادی کرنے کے بعدبچوں کی تربیت سے کنارہ کشی اختیارکرلینادرست نہیں ہے،اپنی اولاد کے ازدواجی مسائل سے دلچسپی نہ لینا صلحاء ، متقی اورپرہیزگارلوگوں کاشیوہ نہیں ہے؛ بلکہ سرپرستوں کی جہاں یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے اورلڑکی کے لئے ایک دین دارشریک حیات کاانتخاب کریں،اورشادی کی عمرکوپہونچتے ہی انہیں شادی کے رشتہ میں منسلک کردیں،اسی طرح یہ بھی ذمہ داری ہے کہ شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی نگرانی بھی کریں،اورزوجین کوباہمی فرائض ادا کرنے کاپابندبنائیں،نیززوجین کی عائلی زندگی کی نگرانی صحیح اورمنصفانہ بنیادوں پرہونی چاہیے، اگرسرپرست کویہ محسوس ہوکہ میرے لڑکے یالڑکی سے غلطی ہورہی ہے،جقوق کی ادائیگی میں میرابچہ یامیری بچی کوتاہ ثابت ہورہی ہے تواسے نظراندازکردینااوراس پرخاموشی اختیارکرلیناصحیح نہیں ہے؛بلکہ محبت اور خیر خواہی کے ساتھ لڑکے یالڑکی کواس کی غلطی پر متنبہ کیاجائے،اوراسے اصلاح حال پرآمادہ کیاجائے، اگرسرپرست کویہ احساس ہوکہ میری پندونصیحت کالڑکے یالڑکی کوخاطرخواہ فائدہ نہیں ہواہے،اوروہ اپنی سابقہ روش پربرقر ارہے توکسی معتبرعالم دین یامعاملہ فہم دیندارشخص سے رجوع کیاجائے، اور اصلاح حال کی کوشش کی جائے،جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص ؓنے اپنے صاحبزادے کی فہمائش کی، بازنہ آنے پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوان کی حرکتوں کی اطلاع دی،اوران کی اصلاح کی درخواست کی۔

آج کے دورمیں ازدواجی جھگڑے آئے دن پیش آتے رہتے ہیں،میاں بیوی میں رنجش اورشکررنجی ہوتی رہتی ہے، ایک دوسرے پرالزامات لگائے جاتے ہیں، پولیس اسٹیشنوں میں اس طرح کے کیس درج کرائے جاتے ہیں،طویل قانونی لڑائیاں اس کے لئے لڑی جاتی ہیں،جس کی وجہ سے ایک طرف خاندانوں میں دوریاں پیداہوتی ہیں،آپس میں بغض وعداوت کے شرارے بھڑکتے ہیں،دوسری طرف ایسے ناخوش گوارماحول میں نسل نوکے بھی اخلاق متاثرہوتے ہیں،نئی نسل کی تعلیم وتربیت سے مجرمانہ غفلت ہوتی ہے،ظاہرہے کہ اس کے جہاں بہت سارے اسباب وعوامل ہیں وہیں ایک بنیادی اور اہم سبب سرپرستوں اورذمہ داروں کی مجرمانہ غفلت بھی ہے، ضرورت ہے اس بات کی کہ سیرت طیبہ کی روشنی میں سرپرست اپنی ذمہ داریوں کومحسوس کریں،اوراس کونبھانے کی کوشش کریں،شادی کے بعدبھی اپنے بچوں پرخاص نظر رکھیں، اوراپنے شریک حیات کے حقوق اداکرنے کاانہیں پابند بنائیں توان شاء اللہ اس سے ایک صالح اورخوش گوار معاشرہ وجودمیں آئے گا،جوسکون واطمینان اورچین کاگہوارہ ہوگا۔
مفتی محمدعبداللہ قاسمی
استاذ فقہ وادب دارالعلوم حیدرآباد
موبائل نمبر :8688514639