میانمار میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ باگو شہر میں ہونے والے مظاہروں پر سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ مرنے والوں کی لاشیں فوجی اپنے ساتھ لے گئے ہیں جس کی وجہ سے شاید ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں علم بھی نہ ہو سکے۔
عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا اور جو بھی چیز حرکت کرتی اسے گولی مار دی جاتی۔
میانمار میں فوج اپنی طاقت قائم رکھنے کے لیے تشدد میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔
رنگون کے قریبی شہر بھاگو میں ہونے والی تازہ ہلاکتیں جمعہ کے روز ہوئیں تاہم وہاں سے تفصیلات باہر آنے میں ایک دن لگ گیا۔ یہاں کے رہائشی قریبی دیہاتوں میں فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔

نگراں گروہوں نے اسسٹنٹ ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز کو بتایا کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد شاید بہت زیادہ ہو۔
مظاہرے کے منتظمین میں سے ایک یے ہتوت نے خبر رساں یا ادارے میانمار ناؤ کو بتایا کیا یہ قتل عام کی طرح ہے وہ ہر سائے تک کو گولی مار رہے تھے۔
میانمار جسے برما کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے وہاں یکم فروری کو فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے اور ایک سال تک ایمرجنسی نافذ کرنے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کے دوران فراڈ کی اطلاعات ملی ہیں۔ انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی رہنما آنگ سان سوچی کامیاب ہو کر اقتدار میں آئی تھیں تاہم اس الزام کی الیکشن کمیشن نے تردید کی ہے۔

جمعے کو میانمار کے معزول ارکان اسمبلی اور قوامِ متحدہ میں ملک کے سفیر نے میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی فوج کے خلاف کارروائی کرے جس میں پابندیوں کے علاوہ اسلحے پر پابندی اور نو فلائی زون شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں خبردار کیا گیا ہے کہ میانمار ریاست کی ناکامی کے دہانے پر ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر مشیر رچرڈ ہارسے کا کہنا ہے کہ فوج کے اقدامات سے ایسی صورت حال پیدا ہو رہی ہے جس سے کوئی ملک ناقابل حکمرانی یا بے لگام ہو جاتا ہے۔