میانمار نے ملک میں غیر ملکی کرنسی کی ادائیگیوں پر پابندی لگا دی

ینگون، 26 مئی (یو این آئی/ژنہوا) میانمار کے مرکزی بینک (سی بی ایم) نے ملک میں زر مبادلہ کی شرح کو مستحکم کرنے کے لیے مقامی طور پر غیر ملکی کرنسی سے ادائیگیوں پر پابندی لگا دی ہے۔بینک نے سرکاری ایجنسیوں سے کہا کہ وہ صرف میانمار کی کرنسی کیات میں ادائیگی کریں۔بینک نے کہا کہ ملکی ادائیگیوں کے لیے غیر ملکی کرنسی کا استعمال ڈالر کی مانگ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جس سے شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آئے گا۔بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں، مرکزی بینک نے کہا کہ سی بی ایم نے پایا ہے کہ کچھ سرکاری ایجنسیاں اور تنظیمیں مقامی طور پر ادائیگیوں کے لیے غیر ملکی کرنسیوں کا استعمال کر رہی تھیں۔ اس کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا۔

مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر ون تھاؤ نے کہا’’کچھ سرکاری ایجنسیاں اپنی سرگرمیوں کے لیے غیر ملکی کرنسیوں کا استعمال اور قبول کر رہی تھیں جیسے کہ زمین کے کرائے کی ادائیگی، انشورنس کے کاروبار میں سرمایہ لگانا اور مشترکہ منصوبوں سے آمدنی۔

انہوں نے کہا کہ سی بی ایم کو معلوم ہوا ہے کہ ملک میں ہوٹلوں، ریستورانوں، بین الاقوامی اسکولوں، دکانوں اور جائیدادوں کو غیر ملکیوں کو کرائے پر دینے کے لیے امریکی ڈالر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام وزارتوں، خطوں، ریاستی حکومتوں، نیپیداؤ، ینگون اور منڈالے سٹی کی میونسپل کمیٹی کو ملک میں خرید و فروخت میں صرف کیات استعمال کرنے کے لیے معلومات جاری کر دی گئی ہیں۔