امریکہ نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج کی ظلم و زیادتی کو باضابطہ طورپر نسل کشی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس سے میانمار کی فوجی جنتا پر بین الاقوامی دباو میں اضافہ ہوگا۔

ایک امریکی عہدیدار نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکہ نے میانمار میں فوج کی جانب سے روہنگیا نسلی اقلیتوں کے خلاف طویل مدت سے جاری تشدد اور ظلم و زیادتی کو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن پیر کے روز واشنگٹن میں ہولوکاسٹ میوزیم میں اپنے خطاب کے دوران باضابطہ طورپر اس کا اعلان کریں گے۔ اس میوزیم میں ‘برما کا نسل کشی کا راستہ’ کے عنوان سے تصویروں کی ایک نمائش منعقد کی جارہی ہے جس میں میانمار میں روہنگیاوں کے استحصال کو پیش کیا جائے گا۔

انٹونی بلنکن نے گذشتہ سال دسمبر میں ملائیشیا کے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکہ اس بات پر ‘بہت سنجیدگی سے ‘غور کر رہا ہے کہ آیا روہنگیا کے ساتھ سلوک ‘نسل کشی’ ہو سکتا ہے۔

بدھ مت اکثریتی ملک میانمار کے راکھین صوبے میں سن 2017 میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو جان بچانے کے لیے دوسرے ملک میں فرار ہونا پڑا تھا۔