• 425
    Shares

اتر پردیش کے پریاگ راج میں پیر کی شام اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی مشتبہ حالت میں موت کے بعد ان کا 8 صفحات پر مبنی خودکشی نوٹ سامنے آیا ہے۔ اس خودکشی نوٹ میں انھوں نے شاگرد آنند گری، لیٹے ہنومان مندر کے پجاری اَدیا تیواری اور اس کے بیٹے سندیپ تیواری کو اپنی موت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پولیس انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خودکشی نوٹ میں مہنت نریندر گری نے لکھا ہے ’میں مہنت نریندر گری 13 ستمبر 2021 کو خودکشی کرنے جا رہا تھا۔ لیکن ہمت نہیں کر پایا۔ آج آنند گری کی وجہ سے بہت پریشان ہو گیا۔ آج ہریدوار سے خبر ملی کہ ایک دو دن میں آنند موبائل کے ذریعہ سے کسی خاتون یا لڑکی کے ساتھ غلط کام کرتے ہوئے تصویر وائرل کر دے گا۔ سوچا تھا صفائی دوں، لیکن بدنامی کا خوف تھا۔ میں جس عزت کے ساتھ جی رہا ہوں، بدنامی میں کیسے جیوں گا۔ اس سے غمزدہ ہو کر میں خودکشی کرنے جا رہا ہوں۔‘‘
اس خودکشی نوٹ کے صفحہ 2 پر لکھا ہے ’’میں خودکشی کرنے جا رہا ہوں۔ میری موت کی ذمہ داری آنند گری، اَدیا پرساد تیواری، سندیپ تیواری ولد اَدیا پرساد تیواری کی ہوگی۔ میں پریاگ راج کے سبھی پولس اور انتظامی افسران سے گزارش کرتا ہوں کہ میری موت کے ذمہ دار مذکورہ لوگوں پر کارروائی کی جائے، تاکہ میری روح کو سکون مل سکے۔‘‘

مہنت نریندر گری نے اپنے خودکشی نوٹ کی شروعات ’میں مہنت نریندر گری‘ الفاظ کے ساتھ کی ہے اور ہر صفحہ پر نیچے اپنا نام اور تاریخ لکھتے ہوئے دستخط کیا ہے۔ خودکشی نوٹ کے ہر صفحہ پر مہنت نریندر گری نے اپنی پریشانی کھل کر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ وصیت کی طرح لکھے اس نوٹ میں نریندر گری نے ہدایت دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پیارے بلویر مٹھ مندر کے انتظام کی کوشش ویسے ہی کرنا جیسے میں نے کیا ہے۔ آشوتوش گری، نتیش گری اور مندر کے سبھی مہاتما کا تعاون کرنا۔‘‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔