از قلم سیّد عمران
ہر دور میں وبائی امراض وغیرہ کی وبائیں نہ صرف انسانی بستی میں بلکہ حیوانات میں بھی مختلف شکلوں میں پھیلتے رہیں اور اتنی شدید کے بستی کی کثیر تعداد اُسکی وجہ سے ہلاک ہوئی اور وقت کے ساتھ خود ہی بستی سے نکل بھی گئی لیکن اتنا ہنگامہ جتنا کرونا کے بہانے سال 2019 سے شروع کیا گیا تاریخ میں نہیں ملتا باضابطہ میڈیا کے ذریعے بہت بڑے پیمانے پر اسکی تشہیر عمل میں آئی WHO سے لے کر ہر ملک کی حکومت اور ہر عملے کو بخوبی استعمال کیا گیا عالمی ادارہ صحت کی باتوں کو وحی الہٰی سمجھا جانے لگا جس نے اب تک اس کے روک تھام کا یہی حل بتایا ہے کہ ہر طرح کی سرگرمیاں بند کرکے گھر میں محصور ہوا جائے بھلے ہی اس علاقے میں یہ وبا پہنچی ہو یا نہیں اور اگر پہنچ گئی تو لگا کہ ہر طرف موت کا فرشتہ موجود ہے اور ایسا ماحول بنادیا گیا کے عام انسان کے دماغ معاؤف کردیئے گئے دوسرے مذاہب کی بات نہ کرتے ہوئے جنکے پاس چونکہ اپنی تاریخ محفوظ کرنے کا کوئی قابلِ عتبار ذریعہ نہیں ہے اسلام جیسے دین کے پیروں کاروں کی بات اگر کی جائے جنکے پاس خود اپنی تاریخ کے ساتھ اپنی خدا کی وحی محفوظ ہے اپنے نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ موجود ہے جنکے دین نے اُنہیں زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی کی ہے کہ وبائی امراض سے ڈیل کرنے کا طریقہ بھی بتایا بلکہ مریض سے کس طرح پیش آیا جائے اُسکی تیمار داری کس طرح کی جائے یہ بھی بتایا، مگر آج امت مسلمہ اپنے زوال اور جس فکری کج روی میں مبتلا ہے۔ اس موضوع پر سنجیدہ بحث نہیں کرسکی افسوس کے اسی دین کے دانشوروں نے علماء نے جنہیں اُمّت کا وارث قرار دیا گیا حکومت کی گائیڈ لائن کو جو عالمی ادارہ صحت سے حکومت کو موصول ہوتی ہے جو ہر ہفتہ اپنے ہی بات کو ردّ کرکے کُچھ دوسری گائیڈ لائن پیش کرتا ہے کو وحی الہٰی سمجھ کر نہ صرف اپنی ذاتی بلکہ مسلمانوں کے اجتماعی زندگیوں میں بھی عمل کرنے پر مجبور کرایا گیا مسجد کے ممبر و محراب جہاں سے اللہ اور اسکے رسول اللہﷺ کے احکمات کی بات کی جاتی ہے مگر وہاں سے ویکسین کے فائدے نہ لینے پر نقصان حکومت کےعملے کا ہر طرح سے تعاون جیسے خطبات دیے اور اس میں اتنے بڑھے کے فرض اور واجب کو تک بالائے طاق رکھ دیا، فاصلوں سے نمازوں کا اہتمام تو اس طرح کرایا مانو وحی الہٰی انہی پر نازل ہوئی اور اُسکی اطاعت نہ کرانے پر انہیں اپنے رب کے حضور جواب دہ ٹھہرنا ہوگا اور پوری اُمّت کا اجتماعی وبال انکے سر لاد دیا جائیگا یہ تک نہ سونچا کے اس طرح فاصلوں سے نماز پڑھنے کی دلیل نہ آپﷺ نہ صحابہ اکرام کے ادوار سے ثابت ہے کیا رسول اللہﷺ نے فاصلوں کی نماز کا اہتمام کروایا؟ کیا صحابہ اکرام نے کروایا؟ شکر ہے کسی نے اس میں پہل کی تو دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ،بنوری ٹاون نے کرونا کے حالات میں فاصلوں سے نماز پڑھنے کی شرعی حیثیت پر فتویٰ دیا جو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:
موجودہ حالات میں علماء اور حکومت وقت نے سوشل ڈسٹینس کے نام پر فاصلہ رکھنے کا کہا اور مساجد میں ایک دوسرے کے درمیان ایک میٹرکا فاصلہ رکھنے کو کہا گیا. ایک تو یہ خلافِ سنت ہے دوسرا سوال کہ جس وجہ سے یہ فاصلہ رکھنے کا کہا گیا اس کی نفی حدیث کی رو سے ہوتی ہے کہ کوئی بیماری اللہ کے امرکے بغیر لگ سکتی نہیں، اب ان حالات میں کیا کیا جائے؟ گھر میں اکیلے نماز پڑھنے سے مسجد میں جماعت چھوڑنے کے ثواب سے محرومی اور مسجد میں جاکرفاصلہ دیکھ کربھی دل مطمئن نہیں ہوتا!

جواب:

صفوں کا اتصال سنتِ مؤکدہ ہے، صفوں کے اتصال کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھے کو کندھے سے ملائیں،ٹخنوں کی سیدھ میں ٹخنہ رکھیں، صفوں کے درمیان خلا نہ چھوڑیں اور دوصفوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہ چھوڑیں کہ ایک صف مزید بن سکے، اس کے خلاف کرنا مکروہِ تحریمی ہے، احادیثِ مبارکہ میں صفوں کے اتصال کی بڑی تاکید آئی ہے، صفوں کے اتصال کو فرشتوں کا طریقہ اور اس کی خلاف ورزی کو آپس کے اختلافات اور رنجشوں کا سبب قرار دیا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہﷺہماری صفیں (اس طرح) برابر (سیدھی) کیا کرتے تھے کہ گویا تیر بھی ان صفوں سے سیدھا کیا جا سکتا تھا، یہاں تک کہ ہم بھی آپﷺسے (صفوں کی برابر کرنے کی اہمیت) سمجھ گئے۔ ایک دن رسول اللہﷺ(مکان سے نکل کر) تشریف لائے اور (نماز کے لیے ) کھڑے ہوگئے اور تکبیر (تحریمہ ) کہنے ہی کو تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے کچھ نکلا ہوا ہے آپﷺنے دیکھ لیا، چنانچہ (یہ دیکھ کر ) آپﷺنے فرمایا کہ: " اے اللہ کے بندو! اپنی صفیں سیدھی کر و، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : تم اپنی صفوں کو برابر رکھا کرو، کیوں کہ صفوں کو برابر رکھنا نماز کی تکمیل میں سےہے۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :(ایک روز) رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھا دیکھ کر فرمایا کہ : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورت میں (بیٹھے ہوئے) دیکھ رہا ہوں ؟ (یعنی اس طرح الگ الگ جماعت کر کے نہ بیٹھا کرو، کیوں کہ یہ نا اتفاقی اور انتشار کی علامت ہے)، پھر اسی طرح (ایک روز) رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ (نماز میں) اس طرح صف کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اللہ کے حضور (بندگی کے لیےکھڑے ہونے کے واسطے) صف باندھتے ہیں۔ہم نے عرض کیا کہ : "یارسول اللہ ﷺ ! فرشتے اپنے پروردگار کے حضور کس طرح صف باندھتے ہیں؟ فرمایا : پہلی صفوں کو پوری کرتے ہیں اور صف میں بالکل (برابر، برابر) کھڑے ہوتے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اپنی صفیں ملی ہوئی رکھو (یعنی آپس میں خوب مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان قرب رکھو (یعنی دو صفوں کے درمیان اس قدر فاصلہ نہ ہو کہ ایک صف اور کھڑی ہو سکے )، نیز اپنی گردنیں برابر رکھو (یعنی صف میں تم میں سے کوئی بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو، بلکہ ہم وار جگہ پر کھڑے ہو، تاکہ سب کی گردنیں برابر رہیں ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں شیطان کو بکری کے کالے بچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتا ہوں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : صفوں کو سید ھی کرو، اپنے کندھوں کے درمیان ہم واری رکھو، صفوں کے خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو (یعنی اگر کوئی آدمی تمہیں ہاتھوں سے پکڑ کر صف میں برابر کرے تو اس کا کہنا مانو) اور صفوں میں شیطان کے لیے خلا نہ چھوڑو اور (فرمایا) جس آدمی نے صف کو ملایا ( یعنی صف میں خالی جگہ پر جا کھڑا ہو گیا) تو اللہ تعالیٰ اسے (اپنے فضل اور اپنی رحمت سے) ملا دے گا اور (یاد رکھو) جو شخص صف کو توڑے گا تو اللہ تعالیٰ اسے توڑ ڈالے گا (یعنی مقام ِقرب سے دور پھینک دے گا)۔
لہذاصفوں کے درمیان ایک صف سے زائد کا فاصلہ رکھنایا مقتدیوں کا ایک دوسرے سے دائیں بائیں فاصلے سے کھڑا ہونا سنتِ مؤکدہ کے خلاف اور مکروہِ تحریمی ہے۔
کسی بھی وبائی مرض یا وائرس کے خدشے کی وجہ سے دائیں بائیں فاصلے کے ساتھ کھڑا ہونا مکروہِ تحریمی ہے، یہ عمل نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے عمل کے خلاف ہے۔
پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ وبا / طاعون کے خوف سے بھاگنا اور دینی احکام میں تبدیلی واقع کرنا شریعتِ مطہرہ کی روح کے خلاف ہے، شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ : شام میں طاعون واقع ہوا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : اس سے دور ہو جاؤ ، کیوں کہ یہ گندگی ہے، یہ بات حضرت شرحبیل تک پہنچی، انہوں نے فرمایا کہ: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہا ہوں، میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ : یہ طاعون اللہ تعالی کی رحمت ، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے گزرے ہوئے مؤمنین کی موت ہے، لہذا اکٹھے رہو، بھاگو مت تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : انہوں نے سچ کہا۔
لہذا وبا / طاعون وغیرہ کا پھیلنا اللہ تعالی کی جانب سے مؤمنین کے لیے آزمائش ہے، اس آزمائش کی گھڑی میں مؤمنین کا رجوع اللہ تعالی کے احکام اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کی جانب سے مزید بڑھ جانا چاہیے، لہذا اگر مساجد آباد کی جائیں اور شرعی احکام میں سنتوں کی پابندی کی جائے تو ان شاء اللہ اس وبا سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرلیا جائے گا۔
نیز یہ ملحوظ رہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کوئی مرض بذاتِ خود متعدی نہیں ہوتا، بلکہ سبب کے درجے میں اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوسرے انسان کو مرض لگتا ہے ورنہ نہیں لگتا، اسباب کے درجہ میں احتیاط کرنا توکل اور منشاءِ شریعت کے خلاف نہیں ہے، لیکن کسی خاص مرض کے ہر حال میں دوسرے کو منتقل ہونے کا عقیدہ نہیں ہونا چاہیے………….۔)

حد تو تب ہوئی جب لوگوں کو مسجد کے مینارِ سے اذان ( آؤ نماز کو طرف) کی آواز کے بعد آواز سنائی دینے لگی کے نماز کے لیے مسجد نہ آئیں گھر پر ہی ادا کرے جو لوگ مسجد آئیں انھونے مسجدوں کو قفلوں سے بند پایا مسجدوں کوبڑے بڑے غلافوں سے ڈھانک دیا گیا وبائی امراض میں رب سے ناطہ جوڑا جانا کسی کو یاد نہیں رہا، دیگر مذاہبِ میں عبادت گاہیں اس طرح آباد نہیں رہتیں جس طرح اسلام میں مساجد آباد رہتی ہیں منادر اور گرجا گھروں میں مخصوص دنوں میں انکے ماننے والے جاتے ہیں ورنہ عام دنوں میں مذہبی پیشوا پوجا پاٹ کرکے سب کا کفارہ ادا کردیتے ہیں لیکن اسلام میں ایسا نہیں ہے یہاں مساجد میں پانچ وقت نماز پڑھنا ہر مسلم فرد کے لیے ضروری ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اور بعد کے اَدوار میں بھی طاعون وغیرہ کی وبائیں پھیلی ہیں، جن کی ہلاکت خیزی تاریخ کے قاری پر مَخفی نہیں ہے، لیکن سلفِ صالحین نے سخت ہلاکت کے مواقع پر بھی مساجد کی بندش اور جُمعہ بالکلیّہ ترک کرنے کے فتاویٰ اور اَحکام صادر نہیں فرمائے، بلکہ ان کے اَدوار میں مساجد کی طرف رُجوع مزید بڑھ گیا، جیساکہ قاضی عبد الرحمن القرشی الدمشقی الشافعی اپنے زمانہ میں 764 ھ کے طاعون سے متعلق لکھتے ہیں:

’’جب طاعون پھیل گیا اور لوگوں کو ختم کرنے لگا، تو لوگوں نے تہجّد، روزے، صدقہ اور توبہ واستغفار کی کثرت شروع کردی اور ہم مردوں، بچوں، اور عورتوں نے گھروں کو چھوڑدیا اور مسجدوں کو لازم پکڑ لیا، تو اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا‘‘۔

قال قاضي صفد محمد ا لقرشي (ت: بعد ٧٨٠هـ) في (شفاء القلب المحزون في بيان ما يتعلق بالطاعون/مخطوط) ‏متحدثًا عن الطاعون سنة ٧٦٤هـ:

‏«وكان هذا كالطاعون الأول عمّ البلاد وأفنى العباد، و كان الناس به على خير عظيم: ‏مِن إحياء الليل، وصوم النهار، والصدقة، والتوبة …. ‏فهجرنا البيوت؛ ولزمنا المساجد، ‏رجالنا وأطفالنا ونساءنا؛ ‏فكان الناس به على خير".

مگر آج جبکہ اُمّت کو ایسے علماء و دانشور قیادت کی ضرورت تھی جو اسلام کی روشنی میں کچھ حل پیش کرتے مگر ہر چھوٹا بڑا مفتی اور دانشور حکومت کی اطاعت میں دوقدم آگے نکل جانے کے لیے تیار نظر آیا اس بات پر اجتماعی سطح پر کوئی غور وفکر نہیں ہوا اور یکطرفہ طور پر سرخم کردیے گئے اور ہر کوئی حکومت وقت کی آنکھوں میں جگہ بنانے کیلئے ایک قدم آگے نکلنے کی کوشش میں شریعت محمدی کا جنازہ نکالتا رہا،
مگر حکومت کو جب بھی ضرورت محسوس ہوتی پوری طرح لاک ڈاؤن ہٹا لیا جاتا اور بڑے بڑے پروگرام اور الیکشن کے تشہیری جلسے اس طرح کروائے جاتے ہیں گویاکوئی بیماری تھی ہی نہیں اور سبھ کُچھ معمول کے مطابق پہلے جیسا چلنے لگا پھر چند دن کے بعد بیماری کی تشہیر شروع ہوجاتی اسی طرح کا س سخت لاک ڈاؤن لگا دیا جاتا اور میڈیا میں بڑے پیمانے پر اموات دکھائی جاتی اور ضروری اشیاء کے نام پر منشیات بھی کھلی رکھی گئی لیکن کیا اسی طرح انبیاء کے وارثین نے مساجد میں باجماعت نماز کو اپنی ضروریات زندگی کے سامان سے زیادہ اہم سمجھا؟ جہاں پوچھا گیا وہاں جواب ملا کے مسجد کا معاملہ ہے کوئی کاروائی ہوجائیگی کاروائی کے ڈر سے تم کھانے پینے سے نہیں رکے غیراللہ کے عبادت کرنے والو نے سینا ٹھوک کر اپنی عبادت گاہیں آباد رکھی مگر کاروائی کے ڈر سے اُمّت کے دانشوروں نے مساجد میں باجماعت نماز روکوا دی حکومت ہند کو باجماعت نماز روکنے کا جواز پہلی بار ملا دیکھنا یہ ہے کہ آگے اسے حکومت کس طرح استعمال کریگی۔

کُچھ مقامات پر عام مسلمانوں نے حکومت کے فیصلے کے برعکس اسلام کی تعلیمات کو ترجیح دی اور مساجد کو بند کرنے کے فیصلہ کو ردّ کردیا وہاں مسلمانوں نے اللہ کی کھلی مدد بھی دیکھی مہاراشٹر کے ضلع تھانہ کا ایک گاؤں پڑگھا جس میں اکثریتی مسلم علاقہ ہے دس ہزار کے قریب آبادی ہے کرونا کا لاک ڈاون وہاں بھی ہوا ایڈمنسٹریش نے مساجد کو نوٹس بھی دی مگر وہاں کے مسلمانوں نے وحی الہٰی اور حکومت وقت کے فیصلہ میں فرق کو سمجھا گفتگو ہوئی مسلم فریق نے پہلے ہی مرحلے میں یہ بات واضح کردی کے مساجد بند نہیں کی جائیگی نماز باجماعت ہوتی رہیگی باقی بازار وغیرہ بند کرنا ہے تو وہ کرلیں مقامی پولیس نے ایس پی تک معاملہ پہنچایا مساجد میں نماز اور جمعہ کی ویڈیوز بھی مخبروں نے بنائی ہر طرح کے دباؤ کے باوجود وہاں کی مساجد میں ویسے ہی نماز اور جمعہ قائم رہا اور اب تک ہے جس طرح لاک ڈاون سے پہلے تھا پہلے ہی دن وہاں کے مسلمانوں نے صاف کہ دیا کہ ہماری لاشوں سے ہوکر کوئی مسجد بند کراسکے گا شروع میں لاٹھی ڈنڈے وغیرہ سے پہرے داری بھی ہوئی مگر مسلمان پیچھے نہیں ہٹے اور نماز باجماعت جاری رہی۔

مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہاں کے مسلمانوں کو ہماری دانشور حضرات کیا نام دیں گے شاید انکے پاس جذباتی اور جاہل سے بڑے الفاظ نہیں ہونگے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں انکی حمیت کو سلام پیش کرتا ہو یقیناً ان کے ساتھ اللہ کی مدد ضرور رہی ہوگی ورنہ یہاں تو حاکم وقت کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے حکومت کی جانب سے ابھی کوئی گائیڈ لائن پہنچی نہیں اور مساجد کو مقفل کیا جارہا ہے مساجد کے باہر اور وضو خانہ پر پوسٹر لگائے جارہے ہیں حد ہے بھائی۔۔۔حد موت برحق ہے کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ – ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر ایسی اُمّت موت سے ڈرے جسے بتا دیا گیا ہے کے یہ دنیاوی زندگی چند دنوں کی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشگی والی ہے بتا دیا گیا ہے کے وبائی مرض میں مرنے والا شہید ہے اسے جنّت کا سرٹیفکیٹ دیا جارہا ہے اور وہ بھاگ رہا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کے یا تو ہمارا ایمان اللہ پر کمزور ہوچکا ہے یہ پھر ہم دنیا کے محبت میں مگن ہے اور آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت کے ساتھ ساتھ دین غیرت و حمیت بھی عطاء کرے۔
آمین۔