ممبئی:کوروناوائرس کے بڑھتے ہوئے  قہر کے دوران ہریدوار میں مہا کنبھ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس شاہی اسنان  میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا ، جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہیں۔ تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ کووڈ-19  گائیڈ لائنز کی  دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ بہت سے لوگ اس مذہبی تقریب میں  امڈی بھیڑ پر  سوشل میڈیا کے ذریعہ حکومت اور انتظامیہ  پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

اس پر بی ٹان اسٹار بھی اپنی رائے دے رہے ہیں۔ اداکارہ رچا چڈھا ، دیوولینا بھٹاچاریہ کے بعد اس بارے میں سورا بھاسکر نے بھی اپنی رائے دی ہے۔ سوورا بھاسکر  شاہی اسنان کے دوران بھیڑ کی تصویر شیئر کر  ہر ہندوستانی کو خود سے ایک سوال کرنے کے لئے کہا ہے ۔

دراصل ، سوارا نے ایک صارف کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا ہے ، جس میں لکھا ہے ‘ تصور کرکے دیکھئے  کہ ان کے چہرے پر داڑھی ہے اور سر پر ٹوپی ہوتی ہے !!  کرکے دیکھئے ، اپنے آپ خون کھلنے لگے گا ، کیونکہ ٹوپی والوں کو ٹارگٹ کرنا سب سے آسان ہے ۔ جماعتی تو انجانے میں  کورونا کا شکار ہوئے تھے  ، لیکن  ‘ کمبھاتی ‘ تو سب جانتے ہیں ۔ مگر یہ لیکن یہ  نیکی ہے  اور وہ ایک گناہ تھا ؟اس ٹویٹ کو  ری  ٹویٹ کرکے ، سوارا نے لکھا’ہر ہندوستانی جو  تبلیغیوں سے ناراض تھا .. ذرا خود سے یہ سوال  پوچھے ۔

کیا ہے  تبلیغی جماعت  معاملہ 
تبلیغی جماعت سن 2020 میں اس وقت زیربحث آئی جب ہندوستان میں مارچ کے مہینے میں کورونا کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ لاک ڈاؤن کے دوران ، دہلی کے مرکز میں تبلیغی جماعت  کی کانفرنس  ہوئی تھی ، جس میں تقریبا 2000 افراد نے شرکت کی تھی۔ کانفرنس میں شریک ہونے  والوں میں سے کئی لوگوں کے کورونا  مثبت  ہونے کی اطلاعات آئی تھیں  اور کچھ لوگوں کی موت بھی ہوئی تھی ۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد تبلیغی جماعت کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔