ممبئی : 18 مارچ (یو این آئی)مہاراشٹرا کے ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی بلدیاتی اداروں میں، جہاں ریزرویشن 50 فی صد سے زیادہ ہے وہاں پر سپریم کورٹ کے 4 مارچ کے احکامات پر عمل آوری کے تحت ، ریاستی الیکشن کمیشن نے ریاست میں چھ ضلع پریشدوں اور پنچایت سمیتیوں میں او بی سی کی مخصوص نشستوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے نتیجے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

واضح رہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ضلعی پریشدوں اور پنچایت سمیتیات کی تمام او بی سی نشستیں خالی ہوگئی ہیں، اس طرح  سمجھ کر کہ ان اداروں کی باقی مدت کے لئے نشست کو عام زمرے سے بھرنا چاہئے۔ اس حکم سے تمام مقامی اداروں میں او بی سی ریزرویشن متاثر ہوگا۔جس کے باعث دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والوں میں بےچہنی پھیل گئی ہے۔

اگرچہ کمیشن نے چھ ضلعپریشدوں اور پنچایت سمیتیوں کے بارے میں احکامات جاری کیے ہیں،  اس آرڈر میں کمیشن نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مستقبل قریب میں ہونے والے تمام بلدیاتی اداروں میں او بی سی ریزرویشن سے متعلق بھی یہ طریقہ کار اختیار کیاجائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ریاست میں چھ ضلعی پریشدوں اور پنچایت سمیتیوں میں او بی سی ریزرویشن کو منسوخ کرنے کا جو  فیصلہ سپریم کورٹ کے 4 مارچ کے حکم کے تحت کیا ہے ۔ تاہم ، ایسا کرتے ہوئے ، ناگپور ضلع میں سات پنچایت کمیٹیوں میں ، اکولہ ضلع میں ایک اور ضلع واشم میں دو کی جہاں پر مجموعی ریزرویشن 50 فیصد سے زیادہ نہیں تھی اور او بی سی نشستیں برقرار رکھی گئیں تھیں ، وہ بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔  ان میں ، ناگہور ، ناگپور گرامین ، واشیم اور  اکولہ ضلوں کی بلدیجات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ، کمیشن نے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کی ترجمانی اور اس کے مضمرات کے بارے میں اپنے پینل کے وکلاء کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ اور اسکے مطابق ، ریاستی حکومت بلدیاتی انتخابات میں پسماندہ طبقے کی ریزرویشن کی فیصد کے بارے میں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں لے سکتی جب تک کہ اس ضمن میں عدالتی حکم کے مطابق  شرائط مکمل نہ کرلے۔اس معاملے میں، وکاس کسن راؤ گولی نے ، بمبئی ہائی کورٹ کے ناگپور بینچ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں ریاست کے حکومت سے درخواست  کی گئی ہے کہ وہ او بی سی کمیشن کی تقرری کرے اور عدالت عظمی کے حکم کے مطابق پسماندہ طبقے کی مردم شماری کرے۔