• 425
    Shares

فیصلےکا خیرمقدم ، تاہم دیر سے اٹھایا گیا قدم : سماجی قائدین کا موقف

ممبئی/ اورنگ آباد : 7 اکتوبر (یو این آئی)کورونا وائرس سے پیدا شدہ، تشویش ناک وبائی صورتحال کے باعث، کوویڈ-19 مرض سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا اور مختلف احتیاطی تدابیر کے ذریعے سے اس مرض کے پھیلاو پر قابو پانے کی کوشیشیں کی،جو بڑی حد تک کامیاب ہوئیں، اور اسی سبب سے حکومت کی جانب سے اس ضمن میں عوام پر لگائی گئی مختلف پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے بطور مہاراشٹرا کی ریاستی سرکار نے عبادت گاہوں میں جمع ہونے اور اجتماعی عبادت پر لگائی گئی پابندی کو آج 7 ستمبر سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اب مہاراشٹرا میں تقریبا چھ ماہ کے بعد آج تمام مذاہب کی عبادت گاہیں کھول دی گئیں ہیں۔

کوویڈ 19 کی تیسری لہر کے ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد، اس کے اثرات کم ہوتے دیکھائی دینے پر حکومت کی جانب سے لیے گئے ایس فیصلے پر جہاں ایک طرف عوام نےسکون کی سانس لی اور خوشی کا اظہار کیا ہے ونہی دوسری جانب مختلف مذاہب کی سرکردہ شخصیات اور مذہیب رہنماوں نے اس فیصلے پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اسے دیر سے اتھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔

عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے بعد، آج ریاست بھر میں، حکومتی ہدایات اور کوویڈ پروٹوکول پر کی مکمل عمل کرتے ہوئے مختلف مذہبی سرگرمیوں کو انجام دیا گیا۔ مندروں میں گھنٹیاں بجائی گئیں ، مساجد میں اذانیں دی گئیں ، گرجا گھروں میں گیت گائے گئے ، گرودواروں میں گروانی ، نیز ممبئی اور ریاست کے دیگر حصوں میں دیارسروں ، بدھ وہاروں ، آتش مندروں وغیرہ میں دعائیںکی گئیں۔

تمام مذہبی عبادت گاہوں نے طویل پابندی کے بعد پہلی بار کھولے جانے اور پوجا، نماز اور دیگر مذہبی رسومات کی آدائیگی کے لیے آنے والے ہزاروں افراد کے لیے ، عبادت گاہوں کی خصوصی صفائی اور انتظامات کیے گئے۔جس کے بعد عبادت گاہوں اور درگاہوں میں چندن کی خوشبو ، بخور اور اگربتیوں کی خوشبو پھیل گئی۔ ممبئ کی مشہور حاجی علی درگاہ بابابہاوالدین کی درگاہ نل بازار میں واقع پھولوں کی مارکیٹ کے گل فروش ببلو سید نے بتلایا کہ آج جمعرات درگاہ میں ہزاروں عقیدت مندوں نے حاضری دی ۔

مراٹھواڑہ کے آتھوں اضلاع میں بھی عوام نے اس حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا اور بڑے پیمانے پر عبادت گاہوں او درگاہوں پر گئے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے رکن اور مسلم مجلس مشاورت کے کارگزار صدر مجتبیٰ فاروق ( اورنگ آباد ) نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلےکو دیر سے اٹھایا گیا ایک قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” ہم اس فیصلے کااستقبال کرتے ہیں، لیکن حکومت کو جو کام پہلے کرنا تھا وہ سب سے اخر میں کیا گیا۔ پہلے عبادت گاہیں کھولنی چاہیے تھیں جو کہ سماج میں اچھائی اور ایک مثبت رخ کے فروغ میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔انھیں بعد میں کھولا گیا۔ اسی طرح اورنگ آباد ‘مسلم نمائیدہ کونسل’ کے صدر ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ یہ بہت ہی ضروری تھا کہ حکومت جلد ہی یہ فیصلہ لیتی، کیوںکہ عبادت گاہوں کے بند ہونے کے سبب سماج میں اس کے خراب اثرات پڑھ رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے شراب خانے پہلےکھولے اور بعد میں عبادت گاہوں کو کھلا۔

وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اپنی اہلیہ رشمی اور بیٹے آدتیہ کے ساتھ جو کہ وزیر سیاحت ہیں ، جنوبی ممبئی کے مشہور ممبادیوی مندر میں پوجا کی، کیجبکہ نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور وزیر جینت پاٹل کے ساتھ پربھادیوی کے شری سدھی ونایک گنپتی مندر میں پوجاکی۔ اسی طرح ممبئی کے گورڈین وزیر اسلم شیخ نے وسطی ممبئی کی ماہم درگاہ میں نماز ادا کی۔ ان کے علاوہ دیگر وزراء نے مختلف عبادت گاہوں میں مشہور شخصیات اور عام لوگوں کے ساتھ اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادت کی ۔

دریں اثناء عبادت گاہوں کے کھلنے سے مقامی معیشتوں کو تقویت ملی ، ہزاروں دکاندار پوجا ، پرساد ، پھول ، ہار ، ‘چادر’ ، مذہبی کتابیں ، صحیفے ، مقدس پانی کی بوتلیں ، تصاویر ، موم بتیاں ، چراغ ، جھنڈے ، تہوار ، مقدس یادداشتیں ، اور دیگر عقیدت سے متعلقہ مواد بھی گاہکوں کو فروخت کرتے نظر آئے، جبکہ گرودواروں نے اپنے روایتی ‘لنگروں’ اور کچھ درگاہوں میں عقیدت مندوں کے لیے ‘نیاز’ تیار کیا گیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔