مہاراشٹر کے 20 وزرا میں سے 15 کو فوجداری مقدمات کا سامنا! اے ڈی آر کی رپورٹ سے انکشاف

578

ممبئی: ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آڑ) نے مہاراشٹر میں 3 دن قبل ایکناتھ شندے حکومت کی کابینہ میں حلف لینے والے وزرا کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس کے مطابق مہاراشٹر کے 75 فیصد وزرا کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے ہیں۔ اس کا اعلان خود وزرا نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں کیا ہے۔

خیال رہے کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے نے وزیر اعلیٰ اور فڈنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا، اس کے بعد کافی دنوں تک کابینہ کی توسیع پر غوروخوض جاری رہا اور 41 دن بعد 9 اگست کو پہلی توسیع کی گئی۔ مہاراشٹر حکومت میں اب وزیر اعلی سمیت وزرا کی تعداد 20 ہے۔

کابینہ میں توسیع کے بعد اے ڈی آر اور مہاراشٹر الیکشن واچ نے 2019 میں اسمبلی انتخابات کے دوران پیش کیے گئے تمام وزرا کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا۔تجزیہ کے مطابق، 15 (75 فیصد) وزرا نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے اور 13 (65 فیصد) نے اپنے خلاف سنگین فوجداری مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ تمام وزرا کروڑ پتی ہیں اور ان کے اثاثوں کی اوسط قیمت 47.45 کروڑ روپے ہے۔

اے ڈی آر نے کہا کہ سب سے زیادہ اعلان کردہ اثاثوں کے مالک وزیر منگل پربھات لودھا ہیں، جو مالابار ہل سیٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے اثاثوں کی قیمت 441.65 کروڑ روپے ہے۔ سب سے کم اعلان کردہ اثاثے وزیر بھومارے سندیپن راؤ آسارام کے پاس ہیں، جو پیتھن سیٹ سے منتخب ہوئے ہیں، ان کے پاس 2.92 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔

شندے کی وزارتی کونسل میں کوئی خاتون رکن نہیں ہے۔ 8 (40 فیصد) وزرا نے اعلان کیا ہے کہ ان کی تعلیمی قابلیت 10ویں اور 12ویں جماعت کے درمیان ہے۔ جبکہ 11 وزرا (55 فیصد) نے گریجویشن یا اس سے زیادہ تعلیمی قابلیت کا اعلان کیا ہے۔ ایک وزیر کے پاس ڈپلومہ ہے۔

اس کے علاوہ چار وزرا کی عمر 41 سے 50 سال اور باقی کی عمر 51 سے 70 سال کے درمیان ہیں۔ 18 نئے وزرا میں سے 9 بی جے پی اور 9 شندے دھڑے سے ہیں۔ خیال رہے کہ شندے اور شیوسینا کے دیگر 39 ارکان اسمبلی نے جون میں پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کر دی تھی، جس کی وجہ سے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہا وکاس اگھاڑی حکومت گر گئی تھی اور ایکناتھ شندے اور دیوندر فڈنویس کی قیادت والی مخلوط حکومت وجود میں آئی۔