مدھیہ پردیش میں ’کورونا ریٹرن‘ کا خطرہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ریاست میں کورونا کے مریضوں کی تعداد لگاتار بڑھی ہے اور اس سے اندیشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ کورونا کی واپسی ہو سکتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے احتیاطی قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور کئی مقامات پر ماسک لگانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ کئی تقاریب کے انعقاد پر بھی روک لگا دی گئی ہے، لیکن ابھی لاک ڈاؤن جیسے حالات نہیں بنے ہیں۔ حالانکہ اگر بڑھتے کیسز پر قابو نہیں پایا گیا تو کچھ بھی ممکن ہے۔

 ریاست کی موجودہ حالات پر غور کریں تو مریضوں کی تعداد 350 کے قریب پہنچ رہی ہے۔ فروری کے آغاز میں یہ نمبر 150 تک ہی تھا۔ دھیرے دھیرے اس تعداد میں تبدیلی آئی اور مریض بڑھنے لگے۔ سب سے زیادہ مریض اندور اور بھوپال سے سامنے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اضلاع میں ماسک لازمی کر دیا گیا ہے۔ کئی حصوں میں رات کا کرفیو لگائے جانے کی بات بھی چل رہی ہے اور بازار کے کھلنے اور بند ہونے کے وقت میں بھی تبدیلی کا اعلان ہو سکتا ہے۔

کورونا کے مریضوں کی تعداد پر حکومت کی نظر ہے۔ ریاست سے بڑی تعداد میں مزدور پڑوسی ریاست میں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں۔ حکومت ان لوگوں کو گاؤں میں ہی منریگا کے ذریعہ روزگار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے صاف کر دیا ہے کہ ریاست کی معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، اس لیے لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا۔

ریاست میں سب سے زیادہ مریض اندور، بھوپال اور بیتول میں سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان نے اندور، بھوپال، بیتول، جبل پور، چھندواڑا وغیرہ اضلاع میں خاص احتیاط کرنے پر زور دیا ہے۔ اندور میں 139، بھوپال میں 70، بیتول میں 15، جبل پور میں 14 اور چھندواڑا میں 9 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اندور کی پازیٹویٹی ریٹ 6 فیصد اور بھوپال میں 4.5 فیصد ہے۔

کورونا کے مریضوں کے بڑھنے کے سبب پچمڑھی، بیتول، چھندواڑا وغیرہ میں لگنے والے میلے ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بالاگھاٹ، سیونی، بیتول وغیرہ سرحدی اضلاع سے مزدور روزانہ مہاراشٹر کام کے لیے جاتے ہیں۔ منریگا میں انھیں گاؤں میں ہی کام دلائے جانے کی ہدایت وزیر اعلیٰ چوہان نے دی۔ وہیں مہاراشٹر سے آنے والے لوگوں کی اسکریننگ ریاست کی سرحد پر لازمی طور سے کی جائے گی۔ کووڈ نگیٹو لوگوں کو ہی ریاست میں داخل کیا جائے گا۔