مہاراشٹر کی شندے فڈنویس حکومت ’لو جہاد‘ قانون لانے کی کر رہی تیاری، شردھا قتل واقعہ کا اثر!

415

مہاراشٹر کی ایکناتھ شندے حکومت نے ’لو جہاد‘ پر قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے، اس کی جانکاری بی جے پی لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے میڈیا کو دی۔

اتر پردیش جیسی کچھ بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ’لو جہاد‘ قانون نافذ ہو چکا ہے، اور اب مہاراشٹر میں بھی اس طرح کا قانون لانے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت شردھا قتل واقعہ پر جاری تنازعہ کے درمیان کی گئی ہے۔ دراصل آفتاب پونہ والا کے ذریعہ شردھا والکر کے قتل کو کئی لوگ ’لو جہاد‘ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل مہاراشٹر میں بی جے پی رکن اسمبلی رام قدم نے شردھا قتل واقعہ کی جانچ لو جہاد کے اینگل سے کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ حالانکہ کئی لوگوں نے اس کو مذہبی چشمہ سے دیکھنے کی تنقید کی ہے۔

بہرحال، مہاراشٹر کی ایکناتھ شندے حکومت نے ’لو جہاد‘ پر قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس معاملے کی جانکاری بی جے پی لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے میڈیا کو دی۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس نے کہا کہ ان کی حکومت لو جہاد پر قانون کا مطالعہ کر رہی ہے کہ الگ الگ ریاستوں میں اس سلسلے میں کس طرح کے قوانین ہیں۔ اس جائزہ اور مطالعہ کی بنیاد پر ہی آگے کا فیصلہ لیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی رام قدم نے دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑا کو گزشتہ دنوں ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر وہ ملزم صرف معمولی کمائی کر رہا تھا تو وہ پیسہ کیسے اکٹھا کر رہا تھا؟ اس کی پوری جانچ ہونی چاہیے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اب تک جو جانکاری سامنے آئی ہے وہ لو جہاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دہلی پولیس کو اس نظریہ سے جانچ کے لیے ایک خصوصی ٹیم بنانی چاہیے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بھی شردھا قتل واقعہ کو لو جہاد سے جوڑا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ لو جہاد ایک حقیقت ہے اور دہلی میں شردھا والکر کے بہیمانہ قتل سے یہ ثابت ہو گیا ہے۔ انھوں نے پہلے بھی اس معاملے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں لو جہاد کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔