مہاراشٹر کی سیاست میں اس سے پہلے بھی لسانی اور مذہبی کارڈ کو استعمال کیا جاتا رہا ہے ،۱۹۹۲ سے پہلے شیو سینا صرف بے روزگار نوجوانوں اور مراٹھوں کے لیے آواز اٹھانے والی ایک پارٹی تھی لیکن بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ممبئی فسادات نے شیو سینا کو اقتدار عطا کیا جو صرف اور صرف مذہبی اور لسانی بنیادوں پر عطا ہوا۔

۲۰۱۴ میں مرکز میں بی جے پی کو اقتدار بھی مسلم مخالف پالیسیوں کی بنا پر ہی ملا ہے۔ اور آج بھی مرکزی و ریاستی الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کے پیچھے صرف دھاندلی اور ای وی ایم، مشینوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، بلکہ ہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ اس کے پیچھے بھی مذہب کی سیاست ہی کار فرما ہے۔مہاراشٹر میں جب بی جے پی کی ادھو ٹھاکرے سے نہیں بن پائی تو نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود سیاسی اختلافات زیادہ سنگین ہوگئے ،دوسری وجہ سارے ملک میں بی جے پی اقتدار پر قابض ہوکر بھی عروس البلاد ،اور تجارتی مرکز ممبئی پر اس کا کنٹرول نا ہونا اس کے لیے انا کا مسئلہ ہے۔مہا وکاس آگھاڑی سے اشتراک کرنے کے بعد شیو سینا نے لچک دکھاتے ہوئے مذہب اور لسانی بنیادوں کو نا چھیڑتے

ہوئے ترقیاتی اور سیکیولر رویہ کو اختیار کیا ہوا ہے، جب مذہب کی سیاست شیو سینا کے لیے سیاسی مفاد میں نا رہی تو بی جے پی کو کوئی اور مہرہ چاہیے تھا جو شیو سینا کا سیاسی حریف اور زبان کا دھنی ہو ،اپنی زہر افشانی سے ماحول کو گرما سکتا ہو ،اور مذہب کا کارڈ کھیل کر آنے والے کارپوریشن الیکشن میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے ،باقی اس کا ہر طرح تعاون اور الیکشن میں اشتراک کے لیے خود بی جے پی اس کے ساتھ ہے،وہ مہرہ کوئی اور نہیں راج ٹھاکرے ہے۔ تاریخ پھر اپنے کو دہرا رہی ہے مذہب کی جو سیاست ۱۹۹۲ سے پہلے بال ٹھاکرے نے کی تھی وہی آج راج

ٹھاکرے سے کروائی جارہی ہے، اور بعید نہیں کہ راج ٹھاکرے ممبئی کے سنگھاسن پر براجمان ہوکر پورے مہاراشٹر کا میدان اپنے حق میں تیار کرلے، آج ہندوتوادی جماعتوں اور بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں نے ہندو نوجوانوں کے ذہنوں میں کافی حد تک زہر گھول دیا ہے جو جنونیت اختیار کرتا جا رہا،راج ٹھاکرے کی سیاست کو گرمانے کے لیے گڑی پاڑوے کا انتخاب کیا گیا یہ ایسے ہی ہے جیسے ممبئی کے شیواجی پارک میں ہر سال ہندوؤں کے تہوار دسہرہ کے موقع پر بال ٹھاکرے خطاب کیا کرتے تھے، اسی طرح راج ٹھاکرے نے خطاب کیا اور مذہبی منافرت کے ذریعے اپنی سیاست کا ماسٹر اسٹروک لگانے کے لیے اذان کے خلاف زہر اگلا ۔اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد بی جے پی کے مرکزی وزیر نتن گڈکری راج ٹھاکرے سے ملاقات کے لیے آگئے، جس سے با آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ راج ٹھاکرے کا اذان مخالف بیان محض اتفاقی نہیں تھا۔کل یعنی مورخہ ۱۳/اپریل کو ممبئی کے ہی اجلاس میں راج ٹھاکرے نے پھر اذان پر بیان دیا اور ایسا کہ گویا ایک جنگ کا اعلان کردیا، جس میں اذان سے کراہیت، مسلمانوں سے نفرت اور حکومت وقت کو چیلینج ہے، راج ٹھاکرے کا لاؤڈ اسپیکر پر پابندی پر بیان دینا اذان پر پابندی کی بات کرنا ہے۔ جس کے لیے ۳ مئی تک کا وقت حکومت کو دیا گیا ہے،بصورت دیگر ہنومان چالیسہ ہر مسجد کے سامنے بجانے کی دھمکی بھی دی ہے،جس کی پہلے بھی کوشش کی جا چکی ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جس سے نا صرف ملک اور بطور خاص مہاراشٹر کی فضا مکدر ہوگی بلکہ یہ مطلوبہ سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش لگتی ہے۔ ان سب باتوں سے مسلمانوں کو نا تو خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نا تحفظات کی بلکہ انہیں ملک میں چل رہے حالات کے تناظر میں منظم منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔”شر کا مقابلہ نا تو شر سے ہو اور نا ہی ڈر سے”،اپنے جان، مال،عزت، آبرو کی حفاظت اور دفاع کا اختیار انہیں آئینی طور پر حاصل ہے اور یہ دین کی تعلیمات کا حصہ ہے