پرم بیر سنگھ نے ایک درخواست میں ایچ ایم انیل دیشمکھ کے بارے میں سی ایم ادھو ٹھاکرے سے شکایت کی تھی اور بھتہ خوری کا الزام لگایا تھا

ممبئی: ممبئی ہائی کورٹ نے ممبئی پولیس کے سابق سربراہ پیر بیر سنگھ کے خلاف لگائے گئے الزامات کی ابتدائی تحقیقات کرنے کا سی بی آئی کو حکم دینے کے چند گھنٹوں بعد ہی مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے "اخلاقی بنیادوں” کا حوالہ دیتے ہوئے آج استعفیٰ دے دیا۔

"میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے فائز نہیں رہنا چاہتا کیونکہ میرے خلاف تحقیقات جاری ہے۔”

مسٹر دیشمکھ نے گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ کہتے ہوئے کہ "انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے” استعفیٰ دینے کے مطالبات کو مسترد کردیا تھا

ان کی پارٹی نے بھی ان کو ہٹانے سے انکار کردیا تھا اور متعدد ملاقاتوں کے بعد ، وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا بھی اتحاد کے اندر تناؤ کے باوجود انیل دیشمکھ کا دفاع کررہی تھی

واثح رہے کہ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کی جانب سے ریاست کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف بد عنوانی کے الزامات کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کروانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ پرم بیر سنگھ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انیل دیشمکھ نے معطل پولیس عہدیدار سچن وازے کو ماہانہ سو کروڑ روپئے کی وصولی کرنے کے لیے کہا تھا۔