مہاراشٹر : مبینہ ‘پاکستان زندہ باد’ کی وائرل ویڈیو؛ لیکن پونے پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا! ویڈیو دیکھیں

2,070

پونہ : (ورق تازہ نیوز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کارکنوں نے جمعہ کو سہ پہر تین سے پانچ بجے کے درمیان پونہ کے کلکٹر آفس کے روبرو احتجاج کیا۔ لیکن پونے پولیس نے احتجاج پر پابندی لگا دی تھی۔ پھر بھی کارکنوں نے احتجاج کیا اور پولیس نے فوری طور پر پی ایف آئی کے 42 کارکنوں کو پولیس وین میں لاد کر گرفتار کر لیا۔ جمعہ 23 ستمبر کو یہ احتجاج سہ پہر تین سے پانچ کے درمیان ہوا۔

مبینہ پاکستان زندہ باد کےنعروں کی خبر 24 ستمبر بروز ہفتہ صبح 10 بجے ایک پورٹل نیوز پر شائع کیا گیا۔

تقریباً پندرہ گھنٹے بعد مبینہ پاکستان زندہ باد کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، ان پندرہ گھنٹوں کے دوران ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ہم خیال تنظیموں کا ایک منتخب گروپ پیر کو کمشنر سے ملاقات کرے گا تاکہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے غلط معلومات دے کر دو برادریوں کے درمیان دراڑ پیدا کی اور اپنے پورٹل کی خبروں کی تشہیر کی، جو پونے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کر رہی ہے۔ انجم انعامدار؛ سماجی کارکن پونے

مظاہرین کے خلاف غیر قانونی ہجوم جمع کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

‘پاکستان زندہ باد’ کی وائرل ویڈیو؛ لیکن پونے پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا!

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے حامیوں نے جمعہ کو پونے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران ‘مبینہ پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگانے والے مظاہرین کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ اس احتجاج میں مظاہرین نے مبینہ ‘پاکستان زندہ باد’ جیسے نعرے نہیں لگائے۔ پونے پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس وقت مظاہرین کی طرف سے ‘پاپولر فرنٹ زندہ باد، پی ایف آئی زندہ باد’ جیسے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ پونے پولیس نے بتایا کہ مظاہرین کے خلاف غیر قانونی بھیڑ جمع کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مرکزی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے حامیوں کی گرفتاری کے خلاف کل پونے میں پی ایف آئی کے حامیوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر جمع تھی۔ اس وقت کی وائرل ویڈیو میں مظاہرین طرح طرح کے نعرے لگاتے نظر آ رہے ہیں۔

بنڈگارڈن پولیس کی معلومات

کل پاپولر فرنٹ آف انڈیا تنظیم کے حامیوں کو پونے شہر میں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کے باوجود اس تنظیم نے کلکٹر کے دفتر کے سامنے غیر قانونی بھیڑ جمع کر لی تھی۔ اس وقت پولیس نے فوری طور پر 41 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ بنڈ گارڈن پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر پرتاپ منکر نے اس اطلاع پر ردعمل ظاہر کیا کہ بنڈاگارڈن پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔