• 425
    Shares

ممبئی: بی جے پی حکومت کی کسان اور کاروباری مخالف پالیسیوں کے خلاف متعدد تنظیمیں ممبئی میں 27 ستمبر کوبھارت بند کا اہتمام کرنے جا رہی ہیں۔ سنیوکت کسان مورچہ کی طرف سے دی گئی کال پر اس بھارت بند میں تقریباً 100 قومی سیاسی جماعتیں، کسان تنظیمیں، ٹریڈ یونینیں، اساتذہ، خواتین، نوجوان، مزدور اور دیگر افراد کے گروپ شامل ہوں گے۔

یہ فیصلہ اے آئی ٹی یو سی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر بھال چندر کانگو کی صدارت میں تمام گروپوں کی ریاستی سطح کی میٹنگ میں لیا گیا۔ آل انڈیا کسان سبھا کے صدر ڈاکٹر اشوک دھوالے نے بتایا کہ پیر کے روز یہاں ہونے والے اجلاس میں تقریباً 100 تنظیموں کے 200 سے زائد لیڈروں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ مقررین نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی-آر ایس ایس حکومت کی ’دیوالیہ پالیسیوں‘ کے خلاف کسانوں، مزدوروں کے مسائل اور ‘بھارت بند’ کی اہمیت کے بارے میں بات کی گئی۔ اس میٹنگ میں ریاست اور دیگر مقامات کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے حامیوں کو متحرک کریں اور مہاراشٹر میں ‘بھارت بند’ کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کریں۔

ایک وفد نے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، این سی پی کے ریاستی صدر اور وزیر جینت پاٹل، ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار اور این سی پی کے سینئر وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہر سے ملاقات کی، جنہوں نے اگلے پیر کو ملک گیر بند کے لیے مہا وکاس اگھاڑی نے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔