مہاراشٹر سے عمران پڑتاپ گڑھی سے پہلے بھی شاعر سکندر علی وجد راجیہ سبھا اور قاضی سلیم لوک سبھا کیلئے منتخب ہوچکے

ممبئی،11،جون(یواین آئی)مہاراشٹر سے عمران پڑتاپ گڑھی ایک اکیلئے شاعر نہیں جو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے بلکہ ان سے پہلے بھی مہاراشٹر سے سکندر علی وجد راجیہ سبھاکیلئے اور قاضی سلیم لوک سبھا کیلئے منتخب ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ عمران پرتاپ گڑھ کا نام محمد عمران ہے اور وہ اردو کے معروف شاعر ہیں۔عمران 6 اگست 1987 کو اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے اور مشاعروں میں بہتر انداز میں اپنا کلام پیش کیااور مشاعرے جیت لیے۔2019 میں مراد آباد لوک سبھانشست سے کانگریس پارٹی سے الیکشن بھی لڑا تھا،لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔سکندر علی وجد مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد کے ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ انہیں غزل گوئی اور نظموں پر یکساں مہارت حاصل تھی۔

سکندر علی وجد کی پیدائش 22 جنوری 1914ء کو ہندوستان کے شہر اورنگ آباد میں ہوئی جو اب صوبہ مہاراشٹر کا حصہ ہے۔ سنہ 1935ء میں حیدرآباد سول سروسز کے لیے ان کا انتخاب ہوا۔ بعد ازاں وہ جوڈیشیل سروسز میں بحیثیت منصف مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیشن جج ہو گئے۔ سنہ 1972ء میں صوبہ مہاراشٹر سے راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے۔سکندر علی انجمن ترقی اردو کے صدر تھے۔ حکومت مہاراشٹر نے انہیں سنہ 1970ء میں ادبی خدمات کے لیے پدم شری اعزاز سے نوازا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے ان کے تیسرے مجموعے "اوراق مصور” کا اجرا کیا۔ اس سے قبل ان کے شعری مجموعے "لہو ترنگ”، "آفتاب تازہ” اور "بیاض مریاں” بالترتیب 1944ء، 1952ء اور 1974ء میں شائع ہوئے۔

انہیں اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں یکساں قدرت حاصل تھی۔ قدرت نے انہیں خوبصورت آواز سے بھی نوازا تھا۔ جب بھی وہ اپنی نظم یا غزل گنگناتے تو سامعین محو ہو جاتے۔ ان کی نظموں اجنتا، ایلورا، تاج محل اور کاروان زندگی بہت مشہور ہیں۔16 جون 1983ء کو اورنگ آباد ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ اورنگ آباد کا سکندر علی وجد میموریل ٹرسٹ شہر میں ادبی و ثقاتفی خدمات اور ان کے فروغ کے لیے خاصا مشہور ہے۔ نیز ان کی یاد میں ٹاؤن ہال کے نزدیک ایک آڈیٹوریم بھی بنایا گیا۔