مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا کے ریاستی صدر ایم اے غفار صاحب کی کامیاب نمائندگی اردھاپور ( شیخ زبیر ) اردو اساتذہ تنظیم مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا کے ریاستی صدر جناب ایم اے غفار صاحب کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے. اساتذہ کے ہر مسئلے کو حل کرنے کے لئے آپ ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں. آپ کی کامیاب نمائندگی کی بدولت بہت سے حل طلب مسائل حل ہوئے ہیں اور اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے میں آپ ہمہ تن مصروف رہتے ہیں. جب ریاست تامل ناڈ نے کووڈ کی وجہ سے دسویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرتے ہوئے طلباء کو پرموٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اسی اثنا میں غفار صاحب نے حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا تھا کہ دسویں جماعت کے طلباء کو تامل ناڈ کی طرح امتحان منسوخ کرتے ہوئے انہیں پرموٹ کیا جائے. بالآخر حکومت مہاراشٹر نے بھی دسویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرکے طلباء کو پرموٹ کردیا. اس مانگ کا سب سے پہلے مطالبہ حکومت سے غفار صاحب نے ہی کیا تھا. اسکے علاوہ اساتذۂ کو رمضان المبارک کی عید منانے کی غرض سے غفار صاحب نے حکومت سے سب سے پہلے یہ مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو عید منانے کی غرض سے اپنی سرکاری رہائش گاہ(ہیڈ کوارٹر) سے منتقلی کی اجازت فراہم کی جائے تاکہ دیگر اضلاع کے اساتذہ کو اپنے خود کے ضلع اور گاؤں میں عید منانے کا موقع ملے. رمضان عید کے موقع پر اساتذۂ کی جلد از جلد تنخواہوں کا مطالبہ اس سال بھی غفار صاحب نے کیا ہے. غفار صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماہ اپریل کی اساتذۂ کی تنخواہ عید کی وجہ سے 7 مئی سے قبل ادا کی جائے. اس ضمن میں انشاءاللہ بہت جلد حکومت کا فیصلہ آنے گا. علاوہ ازیں جب حکومت مہاراشٹر نے پانچویں اور ساتویں کے اسکولر شپ کے امتحانات منعقد کرنے کا فیصلہ 23 مئی کو کیا تو ایم اے غفار صاحب نے حکومت مہاراشٹر سے یہ مطالبہ کیا کہ کووڈ کی لہر اور تیسری لہر کی پیشن گوئی اور طلبہ کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے اور اس مہلک مرض سے بچاؤ کی خاطر احتیاطی تدبیر کے طور پر امتحان ملتوی کئے جائیں. حکومت مہاراشٹر نے اس مطالبہ کو منظور کرلیا ہے اور بہت جلد اس ضمن میں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے حکم نامہ پیر تک جاری بھی کیا جائے گا. اس طرح کی بروقت نمائندگی کی وجہ سے طلباء، اولیاے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے میں غفار صاحب کا کلیدی کردار رہا ہے. اساتذہ کے تبادلے میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ حکم نامہ میں تبدیلیوں اور تبادلوں میں شفافیت لانے کی غرض سے بھی غفار صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے چاہے وہ تبادلے ضلعی حدود کے ہوں یا پھر ضلعی حدود سے باہر، آنلائن ہوں یا پھر آف لائن اس میں مناسب عمل آوری اور اردو اساتذہ کے ساتھ انصاف کی غرض سے غفار صاحب کی نمائندگی بھی قابل تعریف ہے. بات چاہے ٹی ای ٹی کے امتحانات کی ہو یا پھر اساتذۂ کے تقررات کی، دسویں جماعت و بارہویں جماعت کے بورڈ کے سالانہ پرچوں میں کی گئی غلطیوں کی، ان حالات میں غفار صاحب ہمیشہ ایک دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور حکومت و انتظامیہ سے اپنے جائز مطالبات منواکر رہتے ہیں. نہ صرف اساتذہ کے مسائل بلکہ وظیفہ یاب ملازمین کے مسائل اور ان کے مطالبات کی بھی کامیاب قیادت غفار صاحب نے انجام دی ہے. اساتذہ کے جی پی ایف سے متعلق مسائل ہو یا اس قسم کے تمام مسائل کو حل کرنے کی پہل صرف اور صرف غفار صاحب کی طرف سے ہی ہوتی ہے. اساتذہ، اولیاء طلباء، طلبہ و طالبات ،تعلیمی نوعیت کے مسائل، تعلیمی پالیسی سے متعلق مسائل، ملازمین کے انتظامیہ سے متعلق مسائل، امتحانات سے اور بورڈ سے متعلق مسائل، اساتذۂ کے تقررات سے متعلق مسائل، نئے اردو مدارس کے قیام سے متعلق مسائل غرض یہ ایسے تمام مسائل اور ان کے حل کے لئے ایم اے غفار صاحب ہمہ تن مصروف رہتے ہیں. بے شک موصوف کی یہ خدمات ناقابل فراموش ہے. اردو برادری و اساتذۂ کو آپ پر فخر ہے. آپ کی ان بے لوث خدمات کو لاکھوں سلام.ضلع پریشد ہائی اسکول حدگاوں کے مدد گار معلم جناب ظہیر احمد ولد محمد حیات کی جانب سے ایم اے غفار صاحب کی کامیاب قیادت و نمائندگی پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی ہے اور ساتھ میں بارگاہ الہی میں یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایم اے غفار صاحب کو ہمیشہ صحت مند رکھے، آفتوں، بلاؤں سے، وبائی امراض سے بچائے اور دراز عمر عطا کرے اور آپ کا سایہ اردو برادری پر ہمیشہ رہے. آمین.