مہاراشٹرکانگریس میں سات ایم ایل اے غدار ٗمراٹھواڑہ کے تین تاچار نام شامل ٗفہرست تیار

2,090

ممبئی :6اگست (ورق تازہ نیوز) ایک طرف شیوسینا کی اندرونی کشمکش جاری ہے؟ جہاں یہ انتہا کو پہنچ چکی ہے وہیں دوسری طرف مہاراشٹر کانگریس میں بھی تصویر یہ ہے کہ فی الحال سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ موہن پرکاش کی رپورٹ میں سنسنی خیز معلومات ملی ہیں، جنہیں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کانگریس کے سات ایم ایل ایز کے کراس ووٹنگ کے معاملے کی تحقیقات کے لیے دہلی سے انسپکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ کیا اس رپورٹ کے بعد ان سات ایم ایل ایز کے خلاف کارروائی ہوگی؟ یہ دیکھنا ضروری ہے۔

قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دن ہی شیو سینا سے شنڈے گروپ الگ ہوگیا، کانگریس میں اندرونی کشمکش کا آغاز ہو گیا۔ اب ایک تشویشناک اطلاع سامنے آئی ہے کہ کانگریس کے کچھ لیڈروں نے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کانگریس کے امیدوار چندرکانت ہنڈور کو ہٹانے کی پہل کی ہے۔ موہن پرکاش کی رپورٹ سے، جنہیں کانگریس ہائی کمان نے انسپکٹر کے طور پر یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا تاکہ گھر کا بھیدی کون ہے معلوم ہو، اب ان سات ایم ایل اے کے نام سامنے آرہے ہیں۔شمالی مہاراشٹر کے ایک ایم ایل اے، مراٹھواڑہ کے دو سے تین ایم ایل اے اور ممبئی کے دو ایم ایل ایز کی کراس ووٹنگ رپورٹ ہائی کمان کو سونپی گئی ہے… ایک طرف تو قانون ساز اسمبلی میں سات ایم ایل اے کی کراس ووٹنگ کا معاملہ ابھی تازہ ہی تھا کہ، شندے-فڑنویس حکومت کے اکثریتی امتحان کے دوران کانگریس کے 11 ایم ایل ایز غیر حاضر رہے۔

ان پے در پے واقعات سے اپنے ہی ایم ایل اے سے ملنے والے جھٹکوں کی وجہ سے کانگریس کے لیے مہاراشٹر میں شرمناک صورتحال بن گئی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے کہ کانگریس سے گھریلو یلغار پر جلد کارروائی کی جائے۔ قانون ساز کونسل کے لیے کانگریس کے ناکام امیدوار چندرکانت ہنڈور نے اپنی شکست کے بعد کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔