اورنگ آباد:9جنوری(نمائندہ خصوصی )وقف بورڈ کے موجودہ سی ای او کوعارضی چارج دیاگیاتھا جب کہ وقف ایکٹ 1995 کے تحت کسی بھی چیف ایگزیکٹیو آفسر کاتقررایڈیشنل (عارضی یا اضافی) عہدہ کاچارج غیر قانونی ہے۔یہ بات میں ذاتی اورقانون کے جانکار کی حیثیت سے کہہ رہاہوں ۔ مرکزی وقف ایکٹ میں اپنی سی ای او کاکوئی عہدہ نہیں ہے ۔ ان خیالات کااظہار مہاراشٹر وقف بورڈ کی میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خالد قریشی(رکن وقف بورڈ)نے کیا ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ پھرتو مہاراشٹروقف بورڈ کے سی ای او ڈپٹی سی او کی تقرری ہی غیرقانونی تھی تو انہوں کہاکہ میں اس تعلق سے قانونی وضاحت کرچکا ہوں ۔

خالد قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سی ای اوکاتقرر غیر قانونی تھاتوانہوں نے جو فیصلے کئے ہیں وہ غیرقاننونی تھے کیا؟اس پر قریشی نے کہا کہ سی ای او کے تقرر سے متعلق ممبئی ہائی کورٹ او ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں مقدمات زیرسماعت ہیں او راس تعلق سے کورٹ کافیصلہ نہیں آیااس لئے وہ بحیثیت ایڈیشنل سی ای او کے عہدے پرفائز رہے ۔جب ان سے پوچھاگیا کہ وقف بورڈ کہ ایڈیشنل سی ای او 30جنوری کوریٹائر ہورہے ہین تو کیا ان پرمستقل سی ای او کی حیثیت سے تقرری کاحکومت کی جانب سے دباوتھا و انہوں نے کہا کہ دیکھے گورنمنٹ سے تو دباوتھا ہی کہ آپ انیس شیخ صاحب کو ہی مستقل سی ای او کی حیثیت سے تقرر کیاجاسکے ۔اسطرح کادباوبورڈ ممبران پرتھا ۔خالد قریشی سے پوچھاگیا کہ انیس شیخ پریس کاسامنانہیں کرتے تو قریشی نے کہاکہ وہ تو ہم ممبران کابھی سامنانہیں کرتے ۔انکابرتا وٹھیک نہیں انکے خلاف بے شمارشکایات ہیں اسلئے ان کامستقل سی ای او کی حیثیت سے تقرر نہیں کیاجاسکتا ۔

ڈپٹی سی ای او کا تقرر غیرقانونی ہے ۔ اس سے متعلق میں نے وزیر اوقاف نواب ملک ، وزیراعلیٰ اور سی ای او کوشکایات پر مبنی مکتوب ارسال کیا ہوں۔ان کی تقرری کا حکم نامہ مانگا ہے لیکن دو ماہ ہوچکے ہیں اب تک موجود نہیں دیا گیا۔ وقف بورڈ کے دفتر کی ممبئی منتقلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ دفتر کی منتقلی سے زیادہ ضروری ہے کہ پریشان حال افراد کے کام ہونا چاہیے ۔فائل چوری کا الزام وزیر اوقاف نہیں آپ لگا تھا اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات بے بنیاد ہے کیونکہ جو فائلیں میرے پاس روانہ کی گئی تھیں تو قانونی مشورہ حاصل کرنے کے لیے دی گئی تھیں کرونا بیماری کے باعث واپسی میں تاخیر ہوئی تھی ۔رکنیت کالعدم قرار دینے سے متعلق انہوںنے کہا کہ ہائی کورٹ سے میں نے سرکاری حکم پر اسٹے حاصل کیا ہوں ۔ان سے پوچھا گیاکہ وقف بورڈ کے ملازمین پر آئے دن بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کیاکرتے ہوئے کہا کہ ہاں یہ بات سچ ہے ۔وقف بورڈ سے۸۱۵ فائلیںکی ممبئی منتقلی سے متعلق وزیر اوقاف سے پوچھنا چاہیے ۔وقف بوڈر کو کمزور کردیا گیا ہے ۔ وقف بورڈ سے متعلق افراد پریشان ہوتے ہیں ۔ سی ای او صاحب کسی کی سنتے ہی نہیں ۔ گورنمنٹ کے افسران وقف بورڈ کی نہیں سنتے ۔بدعنوانیوں کی شکایات روز موصول ہوتی ہیں ۔ غیر قانونی وقف املاک کی خریدو فروخت میں وقف بورڈ کے ملازمین کے ملوث ہونے کے الزامات درست ہیں ممبران کے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے ویڈیو وائرل ہورہے ہیں ۔ممبئی میں وقف املاک میں بدعنوانیاں ہورہی ہیں یہ بات سچ ہے ۔واضح ہوکہ آج کی میٹنگ میں ایڈوکیٹ خالد قریشی ، امتیاز قاضی صرف دو ہی ممبران موجود تھے ۔جب کہ رضوانہ بیگم مغربی اور ڈاکٹر مدثر لامبے آج کی میٹنگ میں حاضر نہیںتھے۔ میٹنگ ایڈوکیٹ خالد قریشی کی صدارت میں منعقدہ ہوا ۔ ۵۴ موضوعات اور نکات کو منظور کیاگیا۔ان سے پوچھے جانے پر کہ آج کی میٹنگ کو غیر قانونی بتایا جارہا ہے تو انہوں نے کہا کہ سی ای او نے قانون کے مطابق میٹنگ طلب کی ہے تو غیر قانونی کیسے ہوسکتی ہے۔