مہاراشٹر : شیوسینا وزیر ایکناتھ شندے کی قیادت میں 35 اراکین اسمبلی کی بغاوت’ سورت کی ہوٹل سے فوٹو وائرل

ممبئی:۔(محمدیوسف رانا)گزشتہ ڈھائی برسوں سے کانگریس، این سی پی اور شیوسینا کے مضبوط اتحاد سے بنے والی مہا وکاس آگھاڑی سرکار پر اس وقت’خطرہ‘ منڈلا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برسراقتدار پارٹی کے تقریباً 35؍ اراکین اسمبلی مہاراشٹر سے غائب ہوچکےہیں جس کی قیادت شیوسینا کے قدآور سینئر لیڈر ایکناتھ شِندے کر رہے ہیں۔

بتایا جارہاہے کہ یہ تمام ایم۔ایل۔ایز گجرات میں سورت کے میریڈئین ہوٹل میں ہیں اورسب کے سیل فون نیٹورک سے باہربتائے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق جن کے فون کی گھنٹیاں بج رہی ہیں وہ لوگ اپنے رہنما یعنی وزیر اعلیٰ اور شیوسینا چیف ادھو ٹھاکرے کے فون بھی نہیں اٹھا رہےہیں

ذرائع کے مطابق یہ سب کھیل ایم ایل سی انتخابات میں کراس ووٹنگ کےذریعہ بی جے پی کے پانچ سیٹوں پر جیت کے ساتھ شروع ہوا۔بی جے پی لیڈروں کے مطابق انہیں شیوسینا کے۵۶؍میں سے۵۲؍ووٹ، این سی پی کو۵۳؍میں سے۵۷؍ اور کانگریس کو۴۴؍میں سے۴۱؍ووٹ ملے۔ اس کے ساتھ ہی۱۰۶؍ کی تعداد رکھنے والی بی جے پی کو ۱۳۳؍ووٹ ملے۔ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی کے حق میں کراس ووٹنگ کے بعد، کل ایم ایل سی انتخابات میں بھی اس صورتحال کے بعد پیش رفت تیزی سے بڑھ گئی۔ وزیر ایکناتھ شندے کئی ایم ایل ایز کے ساتھ آدھی رات کے بعد گجرات کے سورت پہنچے۔

صبح کئی ایم ایل اے کے وہاں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بی جے پی کے کئی رہنما ان ایم ایل اے کے رابطے میں ہیں۔اگر شیوسینا کے ۱۳ سے زائد ایم ایل ایز بغاوت کرتے ہوئے بھاجپا کےساتھ ہوگئے تو یقینی طورپر مہاراشٹر سے شیوسینا۔کانگریس اور این سی پی اتحاد والی مہاوکاس اگھاڑی کی گر جائے گی۔بہرحال اب مہاوکاس اگھاڑی کا مستقبل غیریقینی ہوچکاہےایکناتھ شندے کی غداری کا اثر معمولی نہیں رہےگا وہ بڑے لیڈر ہے۔جب سے مہاراشٹر میں غیر بی جےپی سرکارآئی ہے تب سے ہی اس کو گرانے کے تانے بانے گجرات اور دہلی سے بنے جا رہے تھے۔مہاراشٹر سرکار کا تختہ پلٹنے کی سازش کا یہ پلاٹ سب سے گہرا اور خطرناک ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں ملک پر مرتب ہوں گے۔

قانون ساز کونسل کے نتائج میں مہاوکاس اگھاڑی کو بڑا جھٹکا لگنے کے بعد شیوسینا میں چل رہی ناراضگی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔کل شام سے شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے کی قیادت میں کم و بیش ۲۲؍اراکین اسمبلی مہاراشٹر سے غائب بتائے جا رہے ہیں۔ان کے سیل فون بھی ناٹ ریچیبل ہوگئے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ شیو سینا کے لیڈر ملند نارویکر اور رویندر پھاٹک، ایکناتھ شندے اور دیگر شیو سینکوں کومنانے کے لیے سورت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔گجرات پولیس نے بی جے پی کے گڑھ سورت کی ہوٹل میریڈئین کے باہرسخت سیکورٹی بھی لگا دی ہے۔

ایکناتھ شندے اور دیگر کچھ ایم ایل ایز کے غائب ہونے کی خبر ملنے پر وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ورشابنگلے پر تمام ایم ایل ایز کو طلب کیا ہے۔فوری طور پر ادھو ٹھاکرے ایکناتھ شندے کو لیجسلیچر پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ اجے چودھری کو دے دیا ہے۔

عیاں رہے شیوسینا کے دس ممبران اسمبلی رات کو ممبئی سے سورت کے لیے روانہ ہوئے۔ آدھی رات کو ایکناتھ شندے کچھ ایم ایل اے کے ساتھ سورت کے لیے روانہ ہوئے۔کہاجارہاہے کہ ایکناتھ شندے کے ساتھ جو اراکین اسمبلی مہا وکاس آگھاڑی سرکار کو گرانے کی کوشش کرنے والے اراکین اسمبلی کے قائدایکناتھ شندے ( کاپری)، عبدالستار (سلوڑ) شمبھوراج دیسائی ( ستارہ)، سندیپن بھومرے(پیٹھن، اورنگ آباد)، راجپوت ادے ( کنڑ،اورنگ آباد)، بھرت گوگاوالے( مہاڈ) نتن دیشمکھ (بالاپور،آکولہ)، انیل بابر (خانپور،سانگلی)، وشوناتھ بھویر(کلیان ویسٹ)، سنجے گائیکواڑ ( بلڈھانہ)، سنجے رامولکر (مہیکر)،مہیش شندے(کورے گاوں ستارہ)، شاہجی پاٹل( سنگولا،شولاپور)،پرکاش ابیتکر( رادھاپوری، کولہاپور)،سنجے راٹھور( دیگرا،ایوت محل)، گیان راج چوگلے( عمرگہ، عثمان آباد) تانا جی ساونت( پروڈہ، عثمان آباد)، سنجے شرسات(اورنگ آباد ویسٹ)، رمیش بورنارے( بیجا پور، اورنگ آباد) راجکمار دیارام پٹیل (میلگھاٹ۔ امراوتی)،شانتارام مورے(بھیونڈی دیہی، تھانے)کشور پاٹل(پاچورہ،جلگاؤں) وغیرہ شامل ہیں۔یہ فہرست سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے، یہ تو کچھ دیر بعد پتہ چلے گا جب شندے صحافیوں سے بات کریں گے۔مہاراشٹر حکومت پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں شکست کے بعد شیوسینا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ شیوسینا لیڈر اور کابینہ وزیر ایکناتھ شندے کے ساتھ۲۱؍اراکین اسمبلی لاپتہ ہیں۔ خبر کے مطابق وہ گجرات کے سورت میں ہیں۔ یہاں حکومت کو بچانے کے لیے سی ایم ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار نے ایم ایل اے کی ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔تو دوسری جانب کانگریس نے بھی اراکین اسمبلی کو طلب کیا ہے۔کیونکہ شیوسینا کے ساتھ ساتھ کانگریس میں بھی پھوٹ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔موصولہ اطلاع کے مطابق کانگریس کے۱۰؍اراکین اسمبلی اس قدرناراض ہیں کہ انہوں نے پارٹی چھوڑنے تک کا اشارہ دیا ہے۔مہاراشٹر کی تازہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر کانگریس ہائی کمان نے مدھیہ پردیش کے سینئر کانگریس لیڈر کمل ناتھ کو مہاراشٹر کا مبصر بنایا ہے۔کانگریس کے ایک لیڈر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں اچانک کوئی سیاسی زلزلہ نہیں آیابلکہ ایک ہفتہ سے شیوسینا میںہنگامہ جاری تھی۔واضح رہے ایکناتھ شندے کی بغاوت سے پہلے ادھو حکومت کو۱۶۹؍اراکین اسمبلیکی حمایت حاصل تھی۔جس میں شیوسینا۵۵؍،این سی پی۵۲؍اور کانگریس ۴۴؍اراکین اسمبلی شامل تھے۔

اس کے علاوہ۲؍سماج وادی پارٹی،پی۔جے۔پی۔۲،بی۔وی۔اے۔۳ جبکہ۹؍آزاد اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔تازہ ترین صورتحال کے پیش نظراس وقت۲۲؍سے زیادہ ایم ایل اے شندے کی قیادت میںسورت میں ہیں۔مہاراشٹر کے سینئر لیڈراور مہا وکاس آگھاڑی کے محرک شرد پوار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔ میں آپ سے سن رہا ہوں کہ ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن آیا وہ واقعی بننا چاہتا ہے یا نہیں؟ مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات ہے کہ تینوں جماعتیں باہمی رضامندی سے اکٹھی ہیں۔ اس میں وزیر اعلیٰ شیوسینا سے ہے، نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ این سی پی کے پاس ہے اور محکمہ محصولات کانگریس کے پاس ہے۔ وزیر اعلیٰ کا تعلق شیوسینا سے ہے اس لیے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ جس کا فیصلہ انہوں نے کرنا ہے، وہ اس پر کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ تاہم شیوسینا کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے۔میں آج صدارتی انتخاب کے لیے بلائی گئی میٹنگ کے بعد ممبئی جاؤں گا۔ ابھی تک میں نے اس موضوع پر کسی سے بات نہیں کی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہکہاں ٹھہرے ہیں۔ پوار نے کہا کہ کانگریس، این سی پی اور شیوسینا ساتھ ساتھ ہیں۔ جب تک اصل مسئلہ سامنے نہیں آتاشیوسینا اس معاملے میںکچھ نہیں کہتی تب تک ہم بھی اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ سے بات کرنے کے بعد جب پارٹی کو زمینی حقائق کا علم ہو گا تب ہی آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔این سی پی سربراہ شرد پوار نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا ہے کہ مہاراشٹر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پہلی بار نہیں ہو رہا، مہاراشٹر میں تیسری بار حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے۔ ایسی کوششیں ڈھائی سال سے ہو رہی ہیں۔ حکومت پوری طرح چل رہی ہے۔ پوار نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں حکومت جاری رہے گی۔ کل ہوئے انتخابات میں این سی پی کے دو امیدوار تھے انہیں تمام ووٹ ملے ہیں ان کا ایک ووٹ بھی مخالف خیمے میں نہیں پڑا۔ ہماری کسی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی اپنے ہی ایم ایل اے کے ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔ ہم اس کے بارے میں بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوسکتا ہے۔اطلاع کے مطابق مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر اس بحران کے بعد کانگریس کے تمام ممبران اسمبلی کو ممبئی طلب کیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر اور ایم وی اے حکومت میں وزیر وشواجیت کدم نے بھی اجیت پوار سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں سماجی انصاف کی وزارت کے کام کاج کے علاوہ موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی وقت ادھو ٹھاکرے کی میٹنگ میں شرکت کے لیے۱۸؍اراکین اسمبلی ورشا بنگلے پہنچنے کی بھی اطلاع ہے۔ مہاراشٹر میں جاری سیاسی پیش رفت کے درمیان یہ خبر بھی ہے کہ ایکناتھ شندے اپنی الگ پارٹی بنا سکتے ہیں۔اگر ذرائع کی مانیں تو شیوسینا کے اعلیٰ لیڈروں کی ایکناتھ شندے کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔

شندے کا کہنا ہے کہ ہم شیوسینا میں رہنا چاہتے ہیں، لیکن شیوسینا کو کانگریس-این سی پی کے ساتھ بننے والی حکومت سے باہر نکلنا پڑے گا۔ کیونکہ اس مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت میں صرف شیوسینا گر رہی ہے اور این سی پی سارا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اس حکومت میں تمام بڑے وزراء کے کھاتے این سی پی کے پاس ہیں۔ شیوسینا کے پاس اہم قلمدان نہیں ہیں۔ شیو سینا کے ایم ایل اے کو بھی فنڈز نہیں دیے جا رہے ہیں جب کہ این سی پی اپنے ایم ایل اے کو کاموں کے لیے کافی فنڈز دے رہی ہے۔ این سی پی شیوسینا کوختم کر رہی ہے۔مہاراشٹرا کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت پر خطرے کے درمیان شیو سینا نے ڈیمیج کنٹرول مشق شروع کر دی ہے۔ شیوسینا اپنے دو سینئر لیڈروں کو سورت بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ شیوسینا کے یہ لیڈر ایکناتھ شندے کو ادھو ٹھاکرے کا پیغام دیں گے۔ اس کے بعد شندے کا معاملہ ادھو تک پہنچایا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ شندے کچھ شرائط کے ساتھ ماتوشری سے بات کرنے کو تیار ہیں۔