چنڈی گڑھ، 19 نومبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کے مرکزی زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہریانہ حکومت نے اسے گرو نانک جینتی پر کسان طبقے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی تحفہ قرار دیا ہے۔مودی کے اس اعلان کے بعد ریاست کے کنڈلی اور سنگھو بارڈرپر احتجاج کرنے والے کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن شروع ہو گیا۔ کسانوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے لڈو اور جلیبیاں تقسیم کر کے منہ میٹھا کیا۔ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے ایک ٹویٹ میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہہم گروپرب کے مبارک موقع پر زرعی قوانین کو واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سماجی امن اور بھائی چارے کی بحالی کے لیے یہ قدم قابل تحسین ہے۔ میں تمام کسان تنظیموں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہم کسانوں کے مفاد کے لیے ہمیشہ کوششیں کرتے رہیں گے۔

دریں اثنا کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے وزیر اعظم کے ذریعہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے اعلان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ کسانوں کی تحریک اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک مرکزی حکومت انہیں پارلیمنٹ میں واپس نہیں لے گی۔ اس کے علاوہ ایم ایس پی گارنٹی قانون، احتجاج کے دوران اور پرالیاں جلانے پرکسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے،تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے اہل خانہ کو نوکری اور مناسب معاوضہ جیسے دیگر مسائل بھی ہیں جن پرمتحدہ کسان مورچہ کی مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت ہونیہے۔ ان تمام مسائل کو حل کیے بغیر کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے اور واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مورچہ کی نو رکنی کمیٹی کی میٹنگ آج ہوگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ریاست کے وزیر داخلہ و صحت انل وج نے تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے مودی کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہگرو نانک دیو جی کے پرکاش اتسو کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے اعلان پر سبھی کسان تنظیموں کو چاہئے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی جی کے تئیں اظہار تشکر کریں اور فوری طور پر اپنا دھرنا ختم کرکے اپنے اپنے گھروں کو جائیں اور اپنے معمول کے کاموں میں لگ جائیں۔

اسمبلی کے اسپیکر گیان چند گپتا نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کے مفاد میںبڑا دل دکھا کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں کسان دوست ہیں اور یہ ایک بڑا فیصلہ ہے۔ تاہم وہ کسانوں کو ان قوانین کی وضاحت کرنے میں ناکام رہے۔کانگریس کے رہنما اور ریاست کے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے’دیر آئے پر درست آئے‘فیصلہ قرار دیا۔ اس پر انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان پچھلے ایک سال سے احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران کئی کسانوں کی جانیں گئیں لیکن آخر کار جیت کسانوں کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اب کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی فیصلہ لینا چاہئے اور زراعت کو منافع بخش بنانے کے بارے میں بات چیت ہونی چاہئے۔

ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر اوم پرکاش دھنکر نے ٹویٹ کر کے اپنے ردعمل میں کہا کہ گرو پرو کے موقع پرکشادہ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے وزیر اعظم کے فیصلے کا خیرمقدم اور مبارکباد۔ہریانہ ریاست کانگریس کی صدر کماری سیلجا نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے مرکز کے فیصلے کو ہندوستانی جمہوریت، آئین اور سچائی کی جیت قرار دیا۔ اپنے ٹویٹ میںانہوں نے کہاکہ کسانوں کے ستیہ گرہ نے متکبراقتدار کو جمہوریت کی طاقت کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ یہ جیت نہ صرف کسان اور مزدور بھائیوں کی ہے بلکہ ہندوستانی جمہوریت، ہمارے آئین اور سچائی کی ہے۔انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) کے سینئر رہنما ابھے سنگھ چوٹالہ نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسان طبقے کی جدوجہد کی جیت کو سلام کرتے ہیں اور ان کسانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس تحریک میں اپنی جانیں گنوائیں۔ انہوں نے ایم ایس پی پر قانون بنانے، احتجاج میں ہلاک ہونے والے کسانوں کو شہید کا درجہ دینے اور ان کے اہل خانہ کو مالی امداد دینے اور کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔