پریاگ راج:اتر پردیش کے پریاگ راج (الہ آباد) میں 10 جون کو ہونے والے تشدد کے ‘ماسٹر مائنڈ’ محمد جاوید عرف جاوید پمپ کے دو منزلہ بنگلے کو اتوار کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی میں دو منزلہ مکان کو 3 جے سی بی کی مدد سے مسمار کر دیا گیا۔ ایسے میں جاوید کی بیٹی نے اس اقدام کو غلط قرار دیا ہے۔ تو دوسری جانب جاوید پمپ کی بیوی نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔ جاوید کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مکان ان کے نام پر تھا نہ کہ ان کے شوہر جاوید کے نام پر۔ دوسری جانب ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنی جانب سے نقشہ پاس نہ کرنے کی وجہ سے اس مکان کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک ‘ پر شائع خبر کے مطابق جاوید کی اہلیہ پروین فاطمہ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گھر جاوید پمپ کا نہیں بلکہ پروین فاطمہ کا ہے یعنی ان کے نام پر ہے اور یہ گھر انہیں ان کے والد نے شادی سے قبل تحفے کے طور پر دیا تھا۔ انہوں نےکہا جاوید کے پاس مالکانہ حقوق نہیں ہیں اس کے باوجود انہیں نوٹس دیا گیا اور انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر اس مکان کو مسمار کر دیا۔

الہ آباد یونیورسٹی کے تیسرے سال میں زیر تعلیم جاوید کی چھوٹی بیٹی سمیہ کے مطابق یہ گھر ان کے نانا نے ان کی والدہ پروین فاطمہ کو تحفے میں دیا تھا اور اس کی تعمیر سال 2001 میں مکمل ہوئی۔ اس کا ہاؤس ٹیکس اور واٹر ٹیکس بھی اس کی والدہ کے نام پر آتا تھا، جسے وہ وقت پر جمع کرایا جاتا ہے ۔

ایسے میں پریاگ راج اتھارٹی نے 9 پوائنٹس میں بتایا ہے کہ پی ڈی اے نے جاوید پر کیوں کارروائی کی ۔ پی ڈی اے کی طرف سے جاری کردہ خط میں بتایا گیا کہ 04.05.2022 کو کریلی، جے کےآشیانہ کالونی کے کچھ لوگوں کی جانب سے شکایت کی گئی کہ جاوید ولد محمد اظہر کی دو منزلہ تعمیر ماضی میں ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے نقشہ منظور کرائے بغیر کی گئی ہے۔ جس میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا دفتر کھولا گیا ہے۔ دور دراز سے لوگ دفتر آتے ہیں اور سڑک پر گاڑیاں بے ترتیب کھڑی کر دیتے ہیں جس سے کالونی کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ رہائشی علاقے میں دفتر کے استعمال کی وجہ سے کالونی کے مکینوں کو آئے دن مشکلات کا سامنا تھا اور نقشہ منظور نہ ہونے کی وجہ سے اتھارٹی کو مالی نقصان بھی ہو رہا تھا۔ عمارت کی تحقیقات کرکے قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

پی ڈی اے نے کہا کہ 12 جون کو صبح 11 بجے تک گھر خالی کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ معیاد ختم ہونے کے بعد پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی زبانی ہدایات پر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں عمارت کو مسمار کر دیا گیا۔

بتادیں کہ تشدد کےمبینہ مرکزی ملزم جاوید پمپ کے گھر کو گرائے جانے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں 6 وکلاء کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس گھر کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا ہے۔ جو جاوید کا نہیں بلکہ ان کی اہلیہ پروین فاطمہ کا ہے۔ خط پٹیشن میں پی ڈی اے کی کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔