Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

مکاتب و مدارس دینیہ اور مساجد کے سفراء ِ کرام موجودہ حالات میں سفر کرنے سے گریز کریں ۔

IMG_20190630_195052.JPG

مفتی آصف انجم ملی ندوی 9822249411
یہ ایک ناقابل ِ انکار حقیقت ہے کہ اس ملک میں مساجد اور مکاتب ِ قرآنیہ و مدارسِ دینیہ کا قیام ، مسلمانانِ ہند کی سب سے اہم ضرورت ہے اور یہ بھی واقعہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی تعاون سے یہاں مساجد و مدارس اور مکاتب کا نظام نہایت استحکام سے قائم اور جاری و ساری ہے ۔ بالخصوص ماہ ِ شعبان المعظم اور ماہ ِ رمضان المبارک میں مسلمان مدارس و مکاتب کا جس قدر تعاون کرتے ہیں وہ سرکار کی امداد و اعانت سے مسلمانوں کو بے نیاز کرنے میں بہت حد تک کافی اور مدارس ومکاتب کا نظام چلانے میں کافی ممد و معاون ثابت ہوتا ہے ۔ اسی لئے اکثر انہی دو مہینوں میں ملک بھر کے ہزاروں مدارس و مکاتب کے نمائندگان اور سفراء ِ کرام ( جن میں زیادہ تر اپنے اپنے ادارتے کے اساتذہ و معلمین اور ذمہ داران ہی ہوتے ہیں ) سفارت پر نکلتے ہیں اور شہر در شہر ، قریہ قریہ ، بستی بستی مسلمانوں کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے تعاون حاصل کرتے ہیں ۔

سفارت کا یہ کام از خود ہی نہایت پُر مشقت ہے ۔ پھر اپنے وطن سے دوری ، اہل و عیال سے مہجوری کے علاوہ اس راہ میں سفر کی صعوبتیں جھیلنا ، قیام و طعام کی دقتیں اور لوگوں کے طعن و تشنیع اور نکتہ چینی ، ناگوار تبصرے ، لوگوں کی ترش روئی و تلخ بیانی اور ٹال مٹول کے بعد معمولی معمولی سی رقموں سے تعاون کرنا جیسی بے شمار تکلیف دِہ باتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ یہ ان علماء ِ کرام ہی کا حوصلہ ہے کہ سب کچھ خندہ پیشانی کے سہتے ہیں اور اپنے کام میں مگن رہتے ہیں ۔ امسال بھی تمام مدارس و مکاتب اپنے سالانہ نظام کے مطابق برادران ِا سلام اور اہل ِ خیر حضرات کی خدمت میں حاضر ہو کر تعاون حاصل کرنے کی منصوبہ بنا چکے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ ملک میں نافذ ’’ لاک ڈاؤن ‘‘ ختم ہو تو وہ اپنا کام شروع کریں ۔ ارباب ِ مدارس کی یہ فکریں  بے شک بجا ہیں لیکن تقدیری طور پر حالات ایسے نہیں ہیں کہ ہمارے سفراء ِ کرام اور ارباب ِ مدارس کا یہ منصوبہ اس سال پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے ۔ کرونا وائرس کی دہشت اور سراسیمگی خاص طور سے برادرانِ وطن پر جس طرح سے طاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جا سکتا ہے امسال دورانِ سفر ٹرینوں اور بسوں میں مسلمانوں کا باآسانی سفر کرنا ناممکن نہ سہی لیکن پُرخطر ضرور ثابت ہو سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں سفرائے کرام کے لئے غربت میں کسی لاج ، مہمان خانہ ، کسی مسجد یا مدرسہ میں قیام کا مسئلہ ، ان کے لئے تصدیقات کا حصول ، ان کے کھانے پینے کا مسئلہ سب مستقل فکر مندی کا باعث ہیں ۔ اگر لاک ڈاؤن ختم ہو بھی جاتا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ دفعہ 144 نافذ رہے اور اس کی وجہ سے انتظامیہ کو بھی چاک و چوبند رہنا پڑے ۔ جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ ہمارے سفراء ِ کرام کو جگہ جگہ جانچ پڑتال اور پوچھ تاچھ کے مراحل سے گذرنا پڑے ۔

پھر اس بات کا فکر بھی ستانے کے لئے کافی ہے کہ اتنی ساری مشقتوں سے گذر کر کوئی سفیر اگر کہیں پہنچ بھی جائے تو کما حقہ اُس کا کام ہو گا یا نہں ؟ کیوں کہ ایک طرف لوگوں کا کاروبار اور آمدنی کے ذرائع بالکل ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اہلِ خیر حضرات پوری فراخدلی اور حوصلہ مندی کے ساتھ نہ صرف اپنی زکوٰۃ بلکہ عطیات و صدقات کی صورت میں بھی فقراء و مساکین کے لئے اناج ، غلہ دیگر اشیاء ِ ضروریہ کی فراہمی میں مشغول ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان اہل ِ خیر حضرات کو ماہِ رمضان میں سفراء ِ کرام سے معذرت چاہنی پڑے اور ان کو فی الحال کے لئے ٹالنا پڑے ۔ اس لئے اس صورت ِ حال میں ملک کے تمام ہی چھوٹے بڑے مدارس و مکاتب کے ذمہ داران کو چاہیئے کہ اپنی حکمت ِ عملی کو اس مرتبہ تبدیل کریں ۔ مثلًا اپنے مقام پر رہتے ہوئے مخیِّرین اور ہمدردان ِ قوم و ملت سے رابطہ قائم کرنے ، بینک کے ذریعہ یا آن لائن تعاون وصول کرنے کی کوئی تدبیر اختیار کی جائے ، ماہ ِ رمضان المبارک کے بعد کسی موقع کے لئے اس کو اٹھا رکھیں ۔ یا ہر مقام پر اپنے شناسا و معتمد افراد کو اپنا نمائندہ مقرر کر دیا جائے ، جن کے پاس چندہ دہندگان اپنے تعاون کی رقمیں جمع کروا دیں ۔ نئے اور پرانے داخلوں اور مفت قیام و طعام کا نظم ختم کر کے یا کچھ تخفیف و رعایت کے ساتھ طلبہ پر کچھ فیس مقرر کریں ۔

مقامی سطح پر چندہ کرنے کو ترجیح دی جائے ۔ مقامی مسلمانوں کے سامنے دینی تعلیم و تربیت اور ایمان و اسلام کی اہمیت کو اُجاگر کیا جائے ۔ بڑے مدارس وفاق بنائیں اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور اپنے اطراف کے دیہاتوں میں قائم مدارس دینیہ و مکاتب قرانیہ کی سرپرستی کریں اور ان مدارس و مکاتب کے بانیان و نظماء کرام نیز معلمین و اساتذہ بڑے مدارس کے رفیق بن کر اخلاص کے ساتھ دینی تعلیم کی نشر و اشاعت کا فریضہ انجام دیں ۔ غیر ضروری اخراجات ، بالخصوص غیر ضروری تعمیرات کا بار کم کیا جائے ۔ غرض ہر علاقہ کے علماء ِ کرام اور اربابِ حل و عقد اپنے اپنے علاقہ کے مدارس و مکاتب کا نظام بہ سے بہتر طریقہ پر ایک پائیدار و دیرپا نظام قائم کر سکتے ہیں ۔ یہ گویا منجانب اللہ ایک انتظام ہے تاکہ ملک کے مسلمان ایک مضبوط لائحۂ عمل کے ساتھ کام کرنے کے عادی بن جائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق بخشیں ۔ آمین