مچھروں کو دور بھگانے والے 7 گھریلو نسخے

3,199

کیا آپ کو معلوم ہے کہ مچھر دنیا کا سب سے خطرناک جاندار ہے ؟ اور یہ دعویٰ عالمی ادارہ صحت کا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ مچھر کی بدولت ملیریا، ڈینگی اور اب مختلف ممالک میں زیکا وائرس جیسے امراض پھیل رہے ہیں جن کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

اب مچھر آپ کی جانب کیوں لپکتے ہیں اس کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔

یہاں ہم ایسے گھریلو نسخے بتارہے ہیں جو مچھروں کو آپ سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مالٹے کے چھلکے

مالٹوں کی ترش مہک مچھروں بلکہ چیونٹیوں اور مکھیوں کو دور بھگاتی ہے، کیڑوں کو ترش مہک پسند نہیں ہوتی۔ اس نسخے کو آزمانے کے لیے مالٹے کے چھلکوں کو پیس لیں اور مچھروں سمیت کیڑوں سے متاثرہ جگہ پر چھڑک دیں۔ اگر مچھر کاٹ لے تو تازہ مالٹے کے چھلکے جلد پر رگڑنے سے جلن ختم اور نشان مدھم ہوجاتا ہے۔

کافور

کافور ایک عام ملنے والی چیز ہے اور مچھروں سے نجات کا ایک اچھا گھریلو ٹوٹکا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کمرے کے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کریں اور کافور کو جلا کر آدھے گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔ جب آپ کچھ وقت بعد کمرے میں آئیں گے تو ایک مچھر بھی وہاں نہیں ملے گا۔

لہسن

سائنسدان پریقین تو نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ مچھروں کو لہسن پسند نہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ لہسن کے پیسٹ کو اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مل لیتے ہیں انہیں مچھروں کا ڈر نہیں رہتا۔ اس کے لیے آپ لہسن کے تیل، پیٹرولیم جیل اور موم کو ملا کر ایک سلوشن بنالیں جو مچھروں سے تحفظ دینے والا قدرتی نسخہ ثابت ہوگا۔

ڈش واشنگ سوپ

چند قطرے ڈش سوپ کو ساسر میں ڈال کر چھوڑ دیں، جو مچھروں کو اپنی جانب کھینچ کر پھنسالیں گے اور آپ سے دور رکھیں گے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سوپ مچھروں کو قدرتی طریقے سے ختم بھی کردیتا ہے۔

نیم کا تیل

نیم کے تیل کو ناریل کے خالص تیل میں یکساں مقدار میں ملائیں اور اپنے جسم کے کھلے حصوں پر لگادیں۔ اس مکسچر کی تیز بو مچھروں کو کم از کم 8 گھنٹوں تک دور رکھنے پر مجبور کردے گی۔

پودینہ

کاٹنے والے کیڑوں کو پودینے کی مہک پسند نہیں ہوتی، تو آپ پودینے کے پتوں کو پیس کر اپنی جلد پر مل لیں تو مچھروں کو دور رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر مچھر کاٹ لیں تو ان پتوں کے استعمال سے خارش پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

تلسی

یہ جڑی بوٹی متعدد مقاصد کے لیے استمعال کی جاسکتی ہے جس میں سے ایک مچھروں کو دور بھگانا بھی ہے۔ مچھروں کی اس کی مہک پسند نہیں تو اس کے تازہ پتوں کو جلد پر رگڑیں یا اس کا تیل استعمال کریں۔

مچھر‘ مکھی اور لال بیگ! گھریلو ٹوٹکوں سے بھگائیے

رینگتے کیڑے آپ کے گھر کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتے ہیں اور کیڑے مار زہریلی دوا کے استعمال سے ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا جہاں ایک روایتی طریقہ سمجھا جاتاہے وہاں یہی کیڑے مار دوا خاص طور پر بچوں کے لیے خطرناک بھی ہوسکتی ہے، بلکہ سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے یا کھا لینے سے جان کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔آئیے ہم آپ کو کچھ غیر زہریلے اور ماحول دوست گھریلو نسخے بتاتے ہیں جنہیں آپ اپنے گھر کو ان پریشان کن کیڑوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔مچھروں سے نجات: گھر میں کھڑا پانی یا گارڈن مچھروں کی

افزائش کی زبردست جگہیں ہوتی ہیں، اس لیے ابلتے گٹر اور کھڑے آلودہ پانی کو صاف کریں اور غیر ضروری طور پر بالٹی میں پانی بھر کر نہ رکھیں، گھر کے اوپر یا زیر زمین موجود ٹینکیوں، سوئمنگ پول یہاں تک کہ سوڈا کی بوتلوں کو بھی ڈھانپ کر رکھیں۔ اپنے لان کی گھاس کو باقاعدگی سے تراشیں، جبکہ گھر کے گرد جالیوں یا کھڑکیوں اور دروازوں پر معیاری جالیاں آپ کے گھر کو اڑنے والے کیڑوں سے بچاتی ہیں۔ کچھ ایسے بھی پودے ہیں جن میں مچھر بھگانے کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں اس لیے مچھروں سے نجات کے لیے ان کو بھی اُگایا جاسکتا ہے۔ مکھیوں سے نجات:مکھیاں کوڑا کرکٹ پر پیدا

ہوتی ہیں اور گلے سڑے یا بچے کچے کھانوں، انسان اور جانور کے فضلات، نالیوں کے گندے پانی اور مٹی پر اپنے انڈے دیتی ہیں۔ چنانچہ اپنے کھانا رکھنے کی جگہ کو صاف رکھیں اور غیر استعمال شدہ کھانے کو المونیم فوائل سے ڈھانپ کر رکھیں۔ شکر، آٹے، مصالحوں جیسے خشک اجزا کو سیل پیک پلاسٹک کی تھیلیوں میں بھرکر کس کر بند کیے ہوئے جار میں رکھیں۔ کوڑا کرکٹ باہر پھینکیں اور گندے برتنوں کو سنک میں زیادہ دیر تک نہ رہنے دیں۔مکھیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے گھر پر ہی برتنوں کے

صابن کا چوتھائی حصہ پانی میں ملا کر محلول تیار کرلیں اور اسپرے بوتل میں ڈال دیں، اس اسپرے کا استعمال مکھیوں کی تعداد کم کرنے میں بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔چونٹیوں سے نجات: ان کی پسندیدہ خوراک میں ہر قسم کی چیزیں شامل ہیں مگر چونٹیاں خاص طور پر میٹھی چیزوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں جیسے مٹھائی، پھل، جوس وغیرہ۔ اگر آپ ان کی موجودگی کی نظر انداز کردیںگے تو تھوڑے ہی وقت میں ان کی فوج میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جہاں چونٹیوں کی قطار نظر آئے اس جگہ پر بورک ایسڈ یا بوریکس پائوڈر چھڑک دیں۔ بورک ایسڈ میں تھوڑا آٹا اور شکر کو آپس میں ملاکر

چیونٹیوں کے بل کے قریب چھڑک دیں۔ بورک ایسڈبڑی تیزی سے ان کے تمام بلوں کا صفایا کردے گا۔ لال بیگ سے نجات: رات کے وقت نکلنے والے یہ لال بیگ ایک سے ڈیڑھ انچ تک بڑے ہوسکتے ہیں۔ یہ باتھ رومز، باورچی خانوں اور گرم پائپوں جیسی اندھیری، گرم اور نم جگہوں پر پرورش پاتے ہیں مگر عملی طور پر کہیں پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ لال بیگ گھر میں موجود کسی بھی قسم کی کھانے کی چیز سے متوجہ ہو جاتے ہیں اس لیے اپنے کھانے پکانے اور کھانا رکھنے کی جگہ کو خشک اور صاف ستھرا رکھیں۔ اپنے گھر کو بہتر طور پر صاف رکھنے کی عادات جیسے باقاعدگی سے کچرا باہر پھینکنا، ہر بار کھانے کے

بعد برتن دھونا، ڈائننگ ٹیبل کو صاف رکھنے اور باورچی خانے میں نکاسی کی نالیوں کو اچھی طرح صاف رکھنا لال بیگ سے پیدا ہونیوالے جراثیم پر کنٹرول رکھ سکتی ہیں اگر آپ کے گھر میں لال بیگ کی ایک بڑی پلٹن موجود ہے تو ان سے چھٹکارا پانے کا یہ آسان سا طریقہ استعمال کرکے دیکھیں‘ مکھن کے ایک چھوٹے چمچ میں ایک چمچ شکر، بورک ایسڈ، آٹا اور پانی ملائیں، اس آمیزے کو گوندھ لیں اور اس کی چھوٹی چھوٹی گولیاں بنالیں جہاں لال بیگ زیادہ نظر آتے ہیں وہاں یہ گولیاں رکھ دیں مثلاً سنک، باورچی خانے کی سلیب، اوون اور چولہے کے گرد وغیرہ ان بالز سے بہت ہی جلد لال بیگ کا خاتمہ ہو جائے گا