مولوی عبد الوہابؒ:تحریکِ اسلامی کاعظیم سپاہی نہ رہا

318

✍🏻 *سید عمیر علی* کھڑکپورہ، ناندیڑ

۱۳ اکتوبر کو بعد نمازِ عشاء میں معمول کے مطابق مدرسہ چلا گیا۔ وہاں اپنا سبق یاد ہی کررہا تھا کہ ۹ بجے کہ قریب استاد جی حافظ محمد زاہد کا فون بجا۔ فون پر بات ہونے کے بعد حافظ جی نے مجھ سمیت پانچ طلباء کو کہا کہ مولوی عبدالوہاب کی طبعیت بہت ناساز ہے۔ چلیے جاکر سورہ یس پڑھنا ہے۔

ہم لوگ مولوی صاحب کے گھر پہنچے جب کمرے میں داخل ہوۓ تو میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب سوۓ ہوۓ تھے جسم بالکل ساکت تھا۔لیکن جیسے ہی ہم لوگوں نے تلاوت شروع کی تو علالت کی وجہ سے آنکھیں تو نہ کھلی مگر سانس زور زور سے لینے لگے جیسے جیسے سورہ یس کی تلاوت کی آواز بڑھ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ یہ مردِمومن ہواؤں سے نہیں قرآن کی آیتوں سے سانس لے رہا ہے۔

میں دورانِ تلاوت انہیں دیکھتا جارہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ قرآن کی آیات کو محسوس کررہے ہوں۔ یقینا قرآن میں زندگی گزارنے والے اس شخص کو قرآن سے اتنا لگاؤ تھا خدا کی رحمت نے انتقال سے پہلے چھے لوگوں کو اس کے قریب بٹھا کر کے انہیں قرآن سنایا۔

مولوی صاحب سے میرا تعلق بہت پرانا تھا ۔ وہ نہایت ہی صالح طبیعت کے مالک تھے۔ صلاحیت اور صالحیت دونوں اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ چونکہ وہ میرے دادا جان مولوی ادریسؒ کے شاگرد بھی تھے اور بہت قریبی دوست بھی تو اس تعلق کی وجہ سے وہ مجھے بہت محبت اور الفت سے پیش آتے تھے۔

میں نے بچپن میں گھنٹوں ان کے پاس گزارا ہوں۔ انکی صحبت میں بیٹھا ہوں مگر خدارا اللہ گواہ ہے کہ کبھی کوئی لغو بات نہیں کرتے تھے کبھی ایسی بات نہیں کرتے تھے جو بے سود ہو۔ ہمیشہ تحریک کی باتیں، اسلام کی باتیں انہوں نے ہی مجھے تحریکِ اسلامی کی فکر کو سمجھایا جب بھی انکے پاس بیٹھا کبھی مولانا مودودیؒ، کبھی امام حسن البناءؒ، کبھی زینب الغزالیؒ، کبھی سید قطب شہیدؒ تو کبھی تحریک آزادی کی تاریخ نہ جانے کتنے بیش قیمتی خزانے انہوں نے مجھ پر کھولے۔ میں نے جماعت اسلامی کی فکر انہی سے سیکھی اقامتِ دین کا مطلب سمجھا، ملک کی تقسیم، حیدرآباد کا انضمام، نظام کی حکومت، پولیس ایکشن نہ جانے کیا کیا وہ مردِ مومن مجھے سکھاتا گیا اور میں سیکھتا گیا* میری کم عمری کی وجہ سے میں بہت زیادہ تو انکی صحبت میں نہ رہ سکا لیکن چلڈرن سرکل کے توسط سے کافی مضبوط تعلق قائم ہوگیا تھا۔ جس کی بنا پر کم وقت میں وہ مردِ مومن مجھے بہت کچھ سکھا گیا۔

مزاج بالکل نرم تھا۔ چلڈرن سرکل میں بچوں کی شرارتوں پہ کبھی غصہ نہ ہوۓ۔ ہر بار یہی کوشش کرتے کہ کس طرح ان بچوں میں تحریکی روح پھونک دو۔ ہمیشہ بچوں کو سیرت کے اسباق، صحابہ کے قصصے، تابعین کی باتیں اور اسلاف کی کہانیاں سنا سناکر صبغتہ اللہ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے تھے۔

خود بھی سنتوں کے پابند تھے۔ خوش اخلاقی، نرم گفتگو، چہرے پہ ہمیشہ مسکراہٹ آپؒ کے مزاج کا حصہ تھی ۔ مجھے اکثر میرے دادا جی کے بارے میں بتا تھے وہ دادا جی کے انتقال کے بعد بھی انکا بڑا احترام کرتے تھے۔
صالحیت کے ساتھ ساتھ صلاحیت میں بھی بہت اعلی تھے بیک وقت اچھے مقرر، بہترین مصنف، اعلی درجے کے شاعر اور ممتاز مدرس تھے۔ سچائ، امانت داری، محبت، خوش مزاجی آپ کی اعلی صفات تھی۔مطالعہ کے بڑے شوقین تھے عمر کے *آخر وقت تک مطالعہ کرتے رہیں ۔* آخر وقت میں تو میں خود حیران رہ گیا کہ یہ اس عمر میں بھی اتنے ذوق کے ساتھ کیسے مطالعہ کرتے ہیں وہ بھی اتنی پابندی سے ۔

ساری زندگی تحریک کے کاموں میں گزاری جوانی تو جوانی بڑھاپے میں بھی تحریک کا کام نہ چھوڑا ضعیف العمری کے باوجود پابندی سے چلڈرن سرکل کے پروگرام لیتے رہیں۔
لاک ڈاؤن کے بعد سے طبعیت خراب ہونا شروع ہوئ پچھلے ایک سال سے کافی علیل تھے۔ آخر کار 14 اکتوبر 2022 کو تحریک کا یہ عظیم سپاہی اپنے رفیقِ اعلی سے جا ملا۔اللہ مولوی عبدالوہابؒ کی مغفرت فرماۓ، درجات کو بلند فرماۓ، جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔
آمین

کچھ اس طرح گئے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔