• 425
    Shares

تحقیقات کے لئے شخصی طور پر پوچھ تاچھ ضروری ہے، جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے وکلاء کی پر زور مخالفت

ممبئی ۔23؍ ستمبر ( پریس ریلیز )معروف اسلامی اسکالر مظفر نگر پھلت سے تعلق رکھنے والے مولانا کلیم صدیقی صاحب جنہیں یوپی اے ٹی ایس نے ۲۱؍ ستمبر کی رات میں گرفتار کر لیا تھا اور ان پر تبدیلی مذہب ،غیر قانونی فنڈنگ اور اس جیسے کئی سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں کل لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے ۱۴؍ دن کی عدالتی تحویل دی تھی اور پولیس کسٹڈی دینے سے انکار کر دیا تھا ۔لیکن آج پھر سے یوپی اے ٹی ایس نے عدالت میں درخواست داخل کی کہ مولانا سے شخصی طور پر تحقیقات کرنا ضروری ہے ،کہ اس جرم میں ان کےساتھ کون کون لوگ ملوث ہیں ،ملک اور بیرون ملک سے کن کن لوگوں نے فنڈنگ کی ہے اور اس فنڈ کا استعمال کیسےہوا ؟ ،اور اس نیٹورک میں کون کون لوگ واسطہ بالواسطہ شریک ہیں اور اور اس جیسے دیگر الزامات کی تحقیقات اور چھان بین کے لئے پولیس حراست ضروری ہے ،اس قسم کی بحث یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے کی گئی ہے ۔جس کی بناء پر عدالت نے مولانا کو دس دن کے لئے پولس کسٹڈی میں رکھنے کی منظوری دی ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہا کہ آج جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے وکلاء سینیر کریمنل ایڈوکیٹ ابو بکر سباق سبحانی ، ایڈوکیٹ نجم الثاقب خان ، ایڈوکیٹ اکرم خان ، ایڈوکیٹ سا جد خان نے لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں زوردار بحث کی اور مولاناکلیم صدیقی کو پولیس حراست میں دیئے جانے کی پرزور مخالفت کی جس میں نمایاں طور پر ان کا یہ کہنا ہے کہ مولانا کلیم صدیقی پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ پورے طریقے سےبے بنیاد ہے ،اور یوپی کے سیاسی پس منظر میں منصوبہ بند سازش کے تحت انہیں پھنسایا گیا ہے اور ان پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں اس کا کوئی قانونی شواہد یا جواز موجود نہیں ہے ۔بالفرص اگر یہ سارے الزامات مان بھی لئے تب بھی مولانا کلیم صدیقی صاحب کو عدالت میں رکھ کر بھی تحقیقات دی جا سکتی ہے اس لئے پولیس حراست کی ضرورت نہیں ہے ۔

طویل بحث و مباحثہ کے بعد لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 14 ؍ دن کی عدالتی تحویل میں سے دس دن کے لئے پولیس ریمانڈ دے دی ہے ،پولیس تحویل کی اس مدت کو ختم کرانے کے لئے جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان بذات خود لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں بحث کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پولیس تحویل کی مدت کم سے کم ہو جائے یا اس مدت میں مزید اضافہ نہ ہو سکے ۔جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ ہمیں پہلے سےمعلوم تھا کہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کو پولیس تحویل میں لیا جائے گا ، کیو نکہ اس طرح کے کیس میں پوچھ تاچھ کے لئے پولیس کسٹڈی حاصل کی جاتی ہے آج ہمارے وکلاء کی ٹیم نے عدالت میں زودار دار بحث کی ہے جلد ہی سینر وکلاء کی ٹیم سے مشورہ کرکے پولیس کٹسڈی کی مدت ختم کرانے کی کوشش کریں گے ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔