لکھنؤ۔شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریباً دو مہینے سے لکھنؤ واقع گھنٹہ گھر پر مظاہرہ کر رہی خواتین نے آج مذہبی رہنما مولانا کلب صادق کی اپیل پر اپنا مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر ملک کے کئی حصوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہرہ ختم کر دiئے گئے ہیں۔ شاہین باغ میں بھی صرف علامتی مظاہرہ جاری ہے، جہاں صرف پانچ خواتین پیٹھ رہی ہیں اور باقی تخت پر صرف جوتے رکھے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے گھنٹہ گھر مظاہرین کو ہٹانے کی ہرممکن کوشش کی تھی لیکن یہ مظاہرین وہاں سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس سے قبل گھنٹہ گھر پر مظاہرہ کر رہی خواتین کے اہل خانہ کو پولس نے نوٹس بھیج کر اس مظاہرہ کو ختم کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس میں بھی انھیں کامیابی نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پولس نے بڑی تعداد میں پہنچ کر خواتین پر مظالم کر رہی ہے۔ لیکن خواتین ہر حال میں اپنا مظاہرہ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔