نئی دہلی، 3مئی (یو این آئی) مایہ ناز عربک اسکالر، جید عالم دین، صدارتی ایوارڈ یافتہ، دارالعلوم دیوبند کے شعبہ عربی کے استاذ اور معروف عربی جریدہ‘الداعی‘ کے مدیر اعلی مولانا نور عالم خلیل الامینی آج علی الصبح تقریباً تین بجے میرٹھ کے ایک اسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً 69 سال تھی۔ پسماندنگان میں اہلیہ کے علاوہ چار لڑکیاں اور تین بیٹے ہیں۔


مولانا امینی گزشتہ چند دنوں سے بیمار تھے، چند روز قبل ہی انہیں بہتر علاج کے لئے دیوبند سے میرٹھ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ شوگر کے مریض تھے اور اس کے علاوہ انہیں سانس کی بیماری بھی لاحق تھی۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے مقبول ترین اساتذہ میں تھے خاص طور پر عربی زبان سے تعلق رکھنے والے طلبہ ان سے خاص تعلق رکھتے تھے۔ مزاج ہمیں ہمہ گیریت تھی۔ طلبہ سے نہایت شفقت سے پیش آتے تھے۔


مولانا نور عالم کی ابتدائی تعلیم مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، دارالعلوم مؤ اور دارالعلوم دیوبند میں ہوئی۔مولانا کی فراغت دہلی کے معروف مدرسہ امینیہ سے ہوئی تھی۔دارالعلوم دیوبند میں دوران تعلیم مولانا وحیدا لزماں کیرانوی کے خاص شاگرد تھے اور عربی زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنے میں مولانا وحیدا لزماں کیرانوی کا خاص کردار تھا۔ ان کے علاوہ دیوبند میں مولانا محمد میاں دیوبندی، مولانا معراج الحق صاحب، مولانا محمد حسین بہاری، مولانا نصیر احمد خان صاحب بھی ان کے خاص اساتذہ میں تھے۔ فراغت کے بعد مولانا نور عالم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے وابستہ ہوئے اور مولاناابوالحسن علی ندوی سے خاص تربیت حاصل کی اور ان کے چہیتوں میں شامل تھے اور تقریباً بارہ سال تک مولانا ندوہ خدمت کی۔ 1982میں وہ دارالعلوم دیوبند بلائے گئے۔ دارالعلوم دیوبند بلانے میں مولانا وحیدا لزماں کیرانوی کا خاص کردار تھا۔


مولانا امینی دارالعلوم دیوبند میں شعبہ عربی سے وابستہ ہوگئے اور طلبہ کو جدید عربی سے آشنا کرانے اور ان میں عربی تح٪ریرو تقریر کا جذبہ پیدا کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ مولانا وحیدالزماں کیرانوی کے بعد مولانا امینی دارالعلوم دیوبند عربی بہترین استاذ تھے۔ان کے فیض یافتہ طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔مولانا نور عالم کی پیدائش بہار کے ضلع مظفرپور کے ہرپور بیشی میں 18 دسمبر 1952 کو ہوئی تھی۔ ان کی کتاب فلسطین فی انتظار صلاح الدین پر آسام یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی مقالہ لکھا گیا۔ ان کی کتاب مفتاح العربیہ مختلف مدارس میں درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔2017 میں آپ ”صدارتی سرٹیفکیٹ آف آنر’کے اعزاز سے نوازا گیا۔
مولانا کی عربی اردو کتابوں میں سے،وہ کوہ کَن کی بات‘ (علامہ وحید الزماں کیرانوی کی سوانحِ حیات)’فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں‘،’پسِ مَرگِ زندہ‘، ’حرفِ شیریں‘، ’موجودہ صلیبی صہیونی جنگ‘، ’کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟‘،’خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں؟‘، ’مفتاح العربیہ‘(مکمل دو حصے)’فلسطین فی انتظار صلاح الدین’(عربی)، ’المسلمون فی الہند‘،’الصحابۃ و مکانتہم فی الإسلام‘، ’مجتمعاتنا المعاصرۃ والطریق إلی الإسلام‘. ’الدعوۃ الإسلامیۃ بین الأمس والیوم‘، ’متی تکون الکتابات مؤثرۃ؟‘، ’تعلّموا العربیۃ فإنہا من دینکم‘،’العالم الہندی الفرید الشیخ المقرء محمد طیب‘،
مولانا امینی عربی کے بہترین اسکالر تھے اور الداعی کی ادارت کے دوران اپنی عربی صلاحیت کا لوہا بھی منوایا۔ ان کے انتقال سے آج ہندوستان نے ایک بہترین استاذ، عربی اسکالر اور مشفق ومربی اور طلبہ میں عربی زبان کے تئیں سور پھونکنے والے کی کمی ہوگئی ہے۔