• 425
    Shares

پاکستان کی معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے یہ تاثر درست نہیں کہ وہ ملک میں ایک بڑا حلقۂ اثر رکھنے کے باوجود خواتین کے حقوق، لاپتہ افراد یا اظہارِ آزادی رائے جیسے معاملات پر بات نہیں کرتے اور ان معاملات پر اپنے معتقدین کی راہنمائی کرنے سے گریزاں ہیں۔بی بی سی اردو کے لیے صحافی فاروق عادل کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ملک (پاکستان) میں بے شمار مسائل ہیں، میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ اللہ سے دوری ہے۔ یہ بنیادی مسئلہ ہے اور اللہ کے بندوں کی رائے کو ختم کر دینا اسی دوری کا نتیجہ ہے۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے بندوں کو ان کا حق نہ دینا اسی وجہ سے ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی سلب کرنے والے ’اللہ کو نہیں جانتے اگر وہ اللہ کو جانیں تو ایسا کیوں کریں۔‘معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے انسانی حقوق جیسے مسائل پر کم بات کرنے سے متعلق سوال پر مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ’میرے تو سارے بیان ہی حقوق العباد پر ہوتے ہیں، میں حقوق اللہ کو بھی بیان کرتا ہوں لیکن جتنا اللہ نے بیان کیا ہے، اور حقوق العباد کو بھی اتنا ہی بیان کرتا ہوں جتنا اللہ نے بیان کیا ہے۔ اللہ نے حقوق العباد کو پھیلا کر بیان کیا ہے۔ اللہ نے اپنے حقوق مختصر بیان کیے ہیں۔’

 

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تیس برس سےانھوں نے معاشرے میں انسانیت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے اور انسانی حقوق کو اجاگر کیا ہے۔ملک میں لاپتہ افراد جیسے سنگین اور بڑے مسئلے کی مذمت نہ کرنے کے تاثر پر ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ذمے اللہ کے دین کی دعوت دینا ہے اب اس کی عملدری تو نہ میرے ہاتھ نہ میرا ذمہ ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری تبلیغ کا ایک اصول ہے، ہم مذمت نہیں کرتے، منفی بات نہیں کرتے بلکہ ہم مثبت بات کرتے ہیں۔ کسی کو برا نہیں کہتے اچھائی کو بیان کرتے ہیں، اچھائی اتنی بیان کریں کہ برائی اسی میں دب جائے۔‘

عمران خان سے قریبی تعلق:وزیر اعظم عمران خان سے قریبی تعلق اور ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے سنہ 1992 سے جس وقت وسیم سجاد قائم مقام صدر تھے سے لے کر موجودہ وزیر اعظم عمران خان تک سوائے بے نظیر بھٹو کے سب سے ملاقات کی ہے۔’ویسے تو بہت عرصے سے ہماری سلام دعا ہے لیکن بطور وزیر اعظم جب عمران خان نے مجھے بلایا اور کہا کہ مولانا میں چاہتا ہوں کہ میرے نوجوان اپنے نبی کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی زندگی کو اپنائیں، یہ بات اس سے پہلے مجھے کسی حکمران نے نہیں کہی۔‘

 

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم پہلی ملاقات میں ان سے کہا کہ ‘میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجوں اور آپ کے بیان کرواؤں۔’مولانا طارق جمیل کا کہنا تھاکہ مستقبل میں عمران خان کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن وہ ان کی سوچ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔اس سوال پر کہ ان کے خیال میں گذشتہ تین برسوں میں عمران خان نے ایسے کون سے ٹھوس اقدامات کیے ہیں جن میں ’ریاست مدینہ‘ کی تشکیل کا عنصر مل سکے، مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ‘ملک میں 72 برس کا کچرا ہے، اور ان کے پاس ٹیم بھی مضبوط کوئی نہیں ہے اور وہ اکیلے اپنی جان سے لڑ رہے ہیں تو اتنی جلدی تو تبدیلی نظر نہیں آتی۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں ہر وقت ان کے ساتھ تو رہتا نہیں ہوں کہ بتا سکوں انھوں (وزیر اعظم عمران خان) نے کیا اقدامات کیے ہیں، میرا تو اس سے ملاقات کا ایک سلسلہ ہے۔ باقی یہ تو وہ بتائیں گے جو ساتھ رہتے ہیں۔’ان یہ یہ بھی کہنا تھا کہ ’حکمرانوں کو جا کر نصیحت کرنا تو ہمارے ذمے ہیں لیکن ان سے مفاد اٹھانا یہ ایک سودے بازی کی بات ہے۔ حکمرانوں کو بات سمجھانا بھی ہماری ذمہ داری ہے، ہم کنارہ کش ہو کر بیٹھ جائیں تو غلط لوگ ان کو گھیر لیں۔‘

’برینڈ کا مقصد پیسا کمانا نہیں مدارس چلانا ہے‘

مولانا طارق جمیل نے کچھ عرصہ قبل ہی کپڑوں کا ایک برینڈ بھی شروع کیا ہے جس کا نام بھی خود ان کے نام پر ہے۔ یہ برینڈ سامنے آنے کے بعد ان پر تنقید بھی کی گئی جس کا جواب دیتے ہوئے طارق جمیل نے کہا کہ ان کے اس کاروبار کا بنیادی مقصد مدارس کو چلانے کے لیے رقم مہیا کرنا ہے۔

’ اس برینڈ کو بنانے کا مقصد کوئی پیسا بنانا نہیں ہے بلکہ یہ کوشش ہے کہ وہ مدارس جو میرے ذریعے سے چل رہے ہیں وہ لوگوں سے مانگیں نہیں، ان کو مانگنے سے منع کرنا ہے۔

’میں کوئی دس بارہ مدارس چلا رہا ہوں اور ہمارے ہاں مدارس کا نظام ہے چندہ۔ ہم چندہ مانگتے ہیں اور زکوۃ مانگتے ہیں اور اس سے یہ مدارس چلاتے ہیں۔ میں بھی گذشتہ بیس سال سے یہ ہی کر رہا ہوں۔

’لیکن جب یہ کورونا آیا اور لوگوں کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تو ہمیں وہ چندہ ملنا بھی کم ہو گیا اور خود مجھے بھی بڑی شرم آئی کہ میں اب ان سے کس منھ سے چندہ مانگوں، یہ بیچارے تو خود تنگی کا شکار ہوئے پڑیں ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں، کام ٹھپ ہو گیا ہے تو اس پر یہ مشورہ ہوا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ مدرسے کا مستقل ذریعہ آمدن بنایا جائے تاکہ ہم رہیں یا نہ رہیں مدرسہ چلتا رہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے اللہ نے اپنے فضل سے بہت کچھ دیا ہوا ہے تو مجھے کوئی ضرورت نہیں تھی مال کمانے یا بنانے کی۔ صرف اس وجہ سے یہ براینڈ بنایا ہے۔ اس میں باقی دوست بھی شراکت دار ہیں جو اپنا منافع کمائیں گے لیکن اس کا بڑا مقصد مدارس کے لیے جائے گا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں دینی یا مذہبی مزاج رکھنے والے کا تصور یہ ہے کہ وہ کچے گھر میں رہتا ہو، سائیکل پر ہوں مولانا صاحب اور اپنے لیے چندہ مانگ رہے ہوں، اپنی ضروریات لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔ تو مجھے اللہ نے مجھے اس زمیندارانہ ماحول سے سمجھا دیا، اللہ نے ہمیں وراثتی بہت کچھ دیا۔ میں نے تو کبھی ایک مرلہ زمین نہیں خریدی اور والد جو چھوڑ گئے اللہ کے فضل سے یہ ہماری اگلی نسل کے لیے بھی کافی ہے۔

’اسلام میں سارے ماڈل موجود ہیں۔ اگر میں ایک مالدار خاندان سے تبلیغ میں لگ گیا ہوں اور اللہ نے مجھے ایک وراثتی چیز دی ہوئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ کر چٹائی پر بیٹھ جاؤں۔‘

’میڈیا کوریج ہی مشہور لوگوں سے ملاقاتوں کو دیتا ہے‘

طارق جمیل سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ان کے بارے میں ایک تاثر ہے کہ ان کی توجہ اداکاروں اور بڑے سیاستدانوں پر رہی ہے جبکہ عام آدمی کو ان تک رسائی صرف ٹی وی یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں بلکہ میڈیا انھیں کوریج ہی جب دیتا ہے جب وہ ایسی شخصیات سے مل رہے ہوں اور عوام سے ان کی ملاقاتوں کو کوریج نہیں ملتی۔’

بات یہ ہے کہ آپ کا کیمرا مجھے تب کوریج دیتا ہے جب میں ایسے مشہور افراد سے ملتا ہوں۔ جب میں عام اور ایسے غریب افراد سے ملتا ہو تو آپ کا کونسا کیمرا مجھے کوریج دینے آتا ہے۔‘

معروف مبلغ نے یہ بھی کہا یہ تاثر درست نہیں کہ ان کے بیانات اور گفتگو میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے
بات نہیں ہوتی۔

’میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے صرف وراثت کے معاملات پر ہی بات نہیں کرتا ہوں، بلکہ اس کے ہر روپ میں اس کے حقوق کی بات کرتا ہوں کہ ایک عورت کے ماں یا بیوی کے طور پر کیا حقوق ہیں، بیٹی، بہن کے روپ میں کیا حقوق ہیں۔

’پھر ہمارے معاشرے میں سسرال میں آنے والی بچیوں پر ظلم کے حوالے سے میں بات کرتا ہوں، پھر ایسی بچیاں جو غصیلے یا بدزبان ہوتی ہیں، میں تو پورے معاشرے پر بات کرتا ہوں۔‘

اس سوال پر کہ حال ہی میں پاکستان بھر میں زیرِ بحث نور مقدم کیس سمیت اس جیسے موضوعات پر ان کا کوئی بیان یا پیغام دیکھنے کو نہیں ملا، طارق جمیل نے کہا کہ ’ میں کلی چیزوں پر بات کرتا ہوں، یہ جزیات ہیں کہ فلاں جگہ پر یہ واقعہ ہوا یا فلاں جگہ پر ایسا ہوا میں ان پر بات نہیں کرتا ہوں۔‘

’کہانی کا انداز دل و دماغ پر اثر کرتا ہے‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اندازِ خطابت میں افسانوی انداز کیوں اپناتے ہیں طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ’اللہ قرآن میں نصیحت کو کہانی کے انداز میں بیان کرتا ہے۔’حضرت موسیٰ کا قصہ سناتا ہے اس میں نصیحت ہے، ذوالقرنین کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے، اصحاب کہف کی کہانی سناتا ہے اس میں نصیحت ہوتی ہے۔ لہٰذا کہانی کے انداز میں چیز انسان کے دل و دماغ میں اترتی ہے۔‘اس سوال پر کہ کیا اس میں کمزور روایت کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ ’جی بالکل اس میں کمزور روایت کو پیش کر سکتے ہیں۔‘(بہ شکریہ بی بی سی اردو)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔