مولانا سید جلال الدین عمری کی وفات علمی دنیا کا بڑا خسارہ

283

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مولانا سید جلال الدین عمری (ولادت 1935) کا 26 اگست 2022 ، پونے نو بجے شب انتقال ہوگیا _ وہ 88 برس کے تھے _

مولانا عمری کا شمار عالم اسلام کے ان چند ممتاز علماء میں ہوتا ہے جنھوں نے مختلف پہلوؤں سے اسلام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور اسلام کی تفہیم و تشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر تیار کیا ہے ۔ اسلام کی دعوت ، عقائد ، عبادات ، معاشرت ، معاملات اور سیاست پر آپ کی تصانیف سند کا درجہ رکھتی ہیں ۔

مولانا نے جنوبی ہند کی معروف دینی درس گاہ ’جامعہ دارالسلام عمرآباد‘ سے 1954 ء میں سندِ فضیلت حاصل کی ، مدراس یونی ورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی ، اے (اونلی انگلش) کے امتحانات پاس کیے ۔ جامعہ عمر آباد سے فراغت کے فوراً بعد آپ مرکز جماعت اسلامی ہند رام پور آگئے تھے _ آپ نے وہاں کے اصحابِِ علم سے آزادانہ استفادہ کیا ، پھر 1956ء میں جماعت کے شعبۂ تصنیف سے وابستہ ہوگئے ۔ یہ شعبہ 1970 میں رام پورسے علی گڑھ منتقل ہوگیا اور ایک دہائی کے بعد اسے ’ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی‘ کے نام سے ایک آزاد سوسائٹی کی شکل دے دی گئی ۔ مولانا اس کے آغاز سے 2001ء تک اس کے سکریٹری ، اس کے بعد اب تک اس کے صدر تھے ۔ آپ ادارہ کے باوقار ترجمان سہ ماہی مجلہ’تحقیقات اسلامی‘ کے بانی مدیر بھی رہے ہیں ۔ یہ مجلہ اپنی زندگی کے 40/سال پورے کرچکاہے ۔ اسی دوران میں آپ نے پانچ سال (1986 تا 1990) جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی کی ادارت کے فراض بھی انجام دیے ۔

ملک کی متنوع دینی ، ملی ، دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں مولانا عمری کی سرگرم شرکت رہی ہے ۔ آپ ایک طویل عرصے تک جماعت اسلامی ہند کی مجلس نمائندگان اور مجلس شوریٰ کے معزز رکن رہے ۔ 1990 سے مارچ 2007 تک جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر تھے ۔ اس کے بعد مارچ 2019 تک اس کی امارت کی ذمہ داری نبھائی ۔ موجودہ میقات میں وہ جماعت کی شریعہ کونسل کے چیرمین تھے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے شخصی قوانین کی حفاظت ومدافعت میں سرگرم آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدر ، شمالی ہند کی مشہور دینی درس گاہ جامعۃ الفلاح بلریاگنج اعظم گڑھ کے شیخ الجامعہ اور سراج العلوم نسواں کالج علی گڑھ کے سرپرست اعلیٰ تھے _ بعض دوسرے علمی اداروں سے بھی آپ کا تعلق تھا ۔

مولانا عمری کو دورِ طالب علمی سے ہی سے مضمون نویسی سے دل چسپی تھی ۔ آپ کا مزاج تحقیقی تھا ۔مختلف موضوعات پر آپ کی تقریباً چار درجن تصانیف ہیں ۔ ان میں تجلیات قرآن ، اوراقِ سیرت ، معروف و منکر ، غیرمسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق ، خدا اور رسول کا تصور اسلامی تعلیمات میں ، احکامِ ہجرت و جہاد ، انسان اوراس کے مسائل ، صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات ، اسلام اور مشکلاتِ حیات ، اسلام کی دعوت ، اسلام کا شورائی نظام ، اسلام میں خدمتِ خلق کا تصور ، انفاق فی سبیبل اللہ ، اسلام انسانی حقوق کا پاسباں ، کم زور اور مظلوم اسلام کے سایے میں ، غیراسلامی ریاست اور مسلمان ، تحقیقاتِ اسلامی کے فقہی مباحث جیسی علمی تصانیف آپ کی تراوشِ قلم کا نتیجہ ہیں ۔ اسلام کا معاشرتی نظام مولانا کی دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے ۔ عورت اسلامی معاشرے میں ، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ ، عورت اوراسلام ، مسلمان خواتین کی ذمہ داریاں اور اسلام کا عائلی نظام جیسی تصانیف اس کا بہترین ثبوت پیش کرتی ہیں ۔ آپ کی کئی کتابیں زیرِ ترتیب تھیں ۔ ان کے علاوہ مختلف علمی اور فکری موضوعات پر آپ کے بہ کثرت مقالات ملک اوربیرون ملک کے رسائل اور مجلات میں شائع ہوچکے ہیں ۔

مولانا کی متعدد تصانیف کے تراجم عربی ، انگریزی ، ترکی ، ہندی، ملیالم ، کنڑ ، تیلگو ، مراٹھی ، گجراتی ، بنگلہ اور تمل وغیرہ میں شائع ہو چکے ہیں ۔ موضوعات کا تنوع ، استدلال کی قوت ، عقلی اپیل ، فقہی توسع ، زبان وبیان کی شگفتگی اوراعلیٰ تحقیقی معیارآپ کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔