جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا جلال الدین عمری کی رحلت

949

نئی دہلی۔۲۶؍ اگست: (محمد علم اللہ) معروف عالم دین ، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا جلال الدین عمری کا جمعہ کی شام انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ایک مستند عالم دین اور مصنف تھے۔ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۹تک آپ جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نمائوں میں سے تھے۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔ مولانا عمری جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر رہے ، اسی طرح جامعۃ الفلاح بلریا گنج کے سربراہ بھی تھے، مولانا بہت سی دینی وملی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ دار بھی تھے۔

مولانا سید سید جلال الدین عمری کی ولادت ۱۹۳۵میں جنوبی ہند تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاؤں پتّگرم میں ہوئی تھی، آپ کے والد صاحب کا نام سید حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر ۱۹۵۴میں فضیلت کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔مولانا علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے بھی فیض یافتہ تھے مولانا نے اے ایم یو سے بی اے (اونلی انگلش) پرائیوٹ سے پاس کیا تھا۔ مولانا گذشتہ کئی دنوں سے بیمار تھے۔ آج دیر گئے شام دہلی کے جامعہ نگر واقع الشفاء اسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی ، نماز جنازہ سنیچر کی صبح دس بجے مسجد اشاعت اسلام دعوت نگر دہلی میں ادا کی جائے گی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مولانا سید جلال الدین عمری کا انتقال ہوگیا اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین !تدفین کل (27 اگست 2022) بعد نماز فجر ساڑھے پانچ بجے ہوگی

رضی الاسلام کو مولانا رضی الاسلام بنانے والا چل بسا : مولانا سید جلال الدین عمری

سابق امیر جماعت ٫جماعت اسلامی ہنداپنے رفیق اعلی سے جاملے۔اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور جنت میں اعلی درجات عطا فرمائے۔ آمین (محمد رضی الاسلام ندوی)اناللہ واناالیہ راجعون