ممبئی۔ ۱۹؍اکتوبر: (نمائندہ خصوصی) اسلام مخالف اور مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ نفرت انگیز مواد نشر کرنے، اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے تعلق سے ہفوات ومغلظات بکنے والے سدرشن چینل کو مولانا ارشد مدنی نے ایک انٹرویو دیا ہے جس کے خلاف مسلمانوں میں شدید غم وغصہ ہے۔ ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر اس انٹرویو کو لے کر یوزرس میں اضطراب پایاجارہا ہے۔ اس ضمن میں معروف سوشل ایکٹوسٹ علی سہراب کاکاوانی نے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’خنزیر تو خنزیر ہوتا ہے،

مولانا ارشد مدنی اس کے ساتھ بیٹھ کر انٹرویو کیوں دے رہے ہیں، مسلم صحافی انٹرویو کےلیے کہتے ہیں تو منع کردیتے ہیں، مولانا جس کی مخالفت میں عدالت جاتے ہیں اسی سے کھلے عام اللہ و اس کے رسولﷺ کی توہین کروارہے ہیں‘‘۔

علما ودانشوران اور سماجی خدمت گاروں کے معروف وہاٹس ایپ گروپ ’’تازہ ترین نیوز ‘‘ میں علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے کہا کہ ’’یہ خبیث اس انٹرویو کو توڑ مڑوڑ کر چلائے گا،اگر اس ملعون کو انٹرویو دینے کا فیصلہ خود مولانا کا ہے تو بھی انتہائی افسوسناک ہے، اگر حوارین کے کہنے پر مولانا تیار ہوئے ہیں تو آگے بھی ایسی بے عزتی کے لئے تیار رہنا چاہئے، میرا تجربہ تو یہ ہے کہ ایسے بدمعاش اینکر کے لئے مولانا محمود مدنی کو آگے کرنا چاہئے تھا، مگر برا ہو اندھ بھگتی کا‘‘۔


ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر شکیل رشید نے لکھا کہ ’’جاہلوں سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے اور یہ حضرت ایک مہاجاہل کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے ساری امت کی عزت کو داو پر لگا رہے ہیں۔ سچ ہے آج کل ان کی تمام زعفرانیوں سے خوب نبھ رہی ہے‘‘۔مولانا اطہر دہلوی نے لکھا کہ ’’مولانا ارشد مدنی صاحب کو اس جاہل اور کھلے مسلم دشمن سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے ٹوئٹ کیا کہ ’’جس چینل کے خلاف مولانا مدنی عدالت جاتے ہیں اسی کو

انٹرویو دے رہے ہیں اور اس کے جال میں پھنس رہے ہیں، ہم لوگ انٹرویو کے لیے کہتے ہیں منع کردیتے ہیں، آج کل مسلسل مولانا سنگھی چینلوں اور اخبارات کو انٹرویو دے رہے ہیں۔ معروف صحافی و کاروان امن انصاف کے جنرل سکریٹری سمیع اللہ خان نے لکھا کہ ’’ سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ ایسے جاہل اور بدتمیز انسان کے ساتھ مولانا ارشد مدنی کو گفتگو کرنے کا مشورہ کس نے دے دیا؟ جب سے سریش کےساتھ بحث کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی ہے تب سے حساس مسلمان تڑپ اٹھے

ہیں جسے آپ ٹوئٹر پر دیکھ بھی سکتےہیں،

خود مجھے کالج و جرنلزم سے جڑے کئی لوگوں نے وہ ویڈیو بھیج کر سوال کیا ہے کہ ” یہ آپ کے مولانا مدنی کو کیا ہوگیاہے؟ کہاں جا رہے ہیں آج کل ‘‘؟ ” معروف عالم دین مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب نے لکھا کہ ’’ہر بات پر تنقید و اعتراض کرنا کوئی ضروری ہے؟مولانا مدنی نے کم از کم مہا دیو کے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے اس کا اظہار تو کر دیا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، دوسری طرف چوہان کی جہالت بھی سامنے آ گئی کہ نہ اسے اسلام کے متعلق معلوم ہے نہ ہندو دھرم کے متعلق، اگر مہا دیو سب سے بڑا ہے تو گنیش کی

پیدائش اور اپنی بیوی پاروتی کے پیدا کرنے کے متعلق معلوم کیوں نہیں تھا، ؟ دیا نند سرسوتی کے حساب سے تو مہا دیو کے لیے جسم، بال، بچے، ساس سسر ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے، مہا دیو کا معنی سب بڑا نہیں ہے بلکہ دیگر سے بڑا ہے، ،مہا دیو کا کہنا ہے کہ تپسا کے بعد بھگت کو ور دینا لازمی ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ بھسماشور مارنے کے لیے مہا دیو کو دوڑا رہا ہے اور وہ جان بچانے کے لیے چھپتے پھر رہے ہیں، یہ سب پرانوں میں ہے اور چوہان جیسے لوگ ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر بھی ڈال رہے ہیں‘‘۔

بشکریہ ممبئی اردو نیوز

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔