جمعیۃ علماء ہند کےصدر مولانا ارشد مدنی کو آج سریش چوانکے، کےساتھ سدرشن چینل پر دیکھ کلیجہ شق ہوگیا، بہت تکلیف ہوئی، یہ ملت کی بےعزتی ہے۔ سریش چوانکے ایک ایسےخبیث کا نام ہے جسے انسانوں میں شمار کرنا انسانیت پر زیادتی ہے، یہ ایک گھٹیا غنڈہ ہے جسے شرفا اپنے پاس بھی نہیں بٹھاتے، دنگے بھڑکانا اور عورتوں پر اوچھے حملے کرنا اس کی پہچان ہے، خواتین کے سلسلے میں اس گالی باز کےخلاف مجرمانہ معاملات بھی ہیں، یہ غنڈہ دن رات سدرشن چینل پر بیٹھ کر کبھی جامعہ ملیہ کے طلبا کےخلاف تو کبھی مسلم خواتین کےخلاف انتہائی وحشیانہ انداز میں کیچڑ اچھالتا ہے، اس شخص کی

زبان و ذہنیت کس قدر خباثت زدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گزشتہ دنوں اس نے لائیو چینل پر اسدالدین اویسی کو کتّے سے بھی بدتر جانور قرار دیا تھا، یہی وجہ ہےکہ کوئی بھی ذمہ دار شخص یا باعزت انسان اس کےساتھ بیٹھنا یا بات کرنا اپنی شرافت اور معیار کےخلاف سمجھتاہے، صرف مسلمان ہی نہیں؛ بلکہ سمجھدار ہندو اور اعلیٰ سطحی سیاستدان بھی اس سے بچتے ہیں، حالانکہ اگر عام سیاست دان اس کے زہریلے چینل پر جائیں تو کوئی اس کو سیریس بھی نہیں لیتا؛ کیونکہ اسے سب جان چکےہیں اور ” گینڈا جانور ” کے لقب سے اسے یاد کرتےہیں۔

سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ ایسے جاہل اور بدتمیز انسان کے ساتھ مولانا ارشد مدنی کو گفتگو کرنے کا مشورہ کس نے دے دیا؟ جب سے سریش کےساتھ بحث کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی ہے تب سے حساس مسلمان تڑپ اٹھے ہیں، جسے آپ ٹوئٹر پر دیکھ بھی سکتےہیں، خود مجھے کالج و جرنلزم سے جڑے کئی لوگوں نے وہ ویڈیو بھیج کر سوال کیا ہے کہ ” یہ آپ کے مولانا مدنی کو کیا ہوگیاہے؟ کہاں جا رہے ہیں آج کل ؟ ” اور یقینًا یہ انتہائی تکلیف دہ منظر ہے کہ مولانا ارشد مدنی کے برابر میں سریش جیسا بازاری غنڈہ بیٹھا ہوا ہے اور مولانا اس سے بحث کر رہے ہیں، مولانا مدنی صرف جمعیۃ علمائے ہند کے صدر نہیں بلکہ وہ دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذ بھی ہیں ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر وہ کوئی بات چینل پر کہنا چاہیں تو این ڈی ٹی وی یا نیشنل لیول کے کسی اعلیٰ پلیٹ فارم پر کہیں، ان کی حیثیت ہندوستان کے وزرا سے براہ راست مذاکرات کی ہوتی ہے، دارالعلوم دیوبند کی مسند پر رونق افروز اتنی بڑی شخصیت کا ایسے گلی محلے اور بازار کے بدتمیز کےساتھ بیٹھنا جہاں بحیثیت مذہبی رہنما غلط ہے وہیں مولانا حسین احمد مدنی کا فرزند ہونے کی حیثیت سے اس اعلیٰ گھرانے کے خاندانی معیار کے بھی خلاف ہے۔

ہم بہت سی دفعہ ان حضرات کی پالیسیوں سے اختلاف کرتےہیں؛ لیکن ان کے عرف کا بھی لحاظ رکھتےہیں، عام غیرمسلموں میں ہنوز انہیں مسلمانوں کا قدآور رہنما سمجھا جاتاہے، اب ہندوتوا ذہنوں کے لوگ یہ سمجھتے پھریں گے کہ دیکھو سدرشن جیسے گھٹیا چینل نے مسلمانوں کے بڑے رہنما کو گھیر لیا، اور اگر ویڈیو میں مولانا کی زبان سے کوئی بات ایسی نکل گئی جس کا ہندوتوا سماج ایشو بنا دے تو مسلمانوں کے لیے اضافی سردرد ۔ موجودہ حالات کا جوکچھ تھوڑا بہت مجھے تجربہ ہے اس کی روشنی میں، ایسے چینل پر جاکر مولانا نے اچھا نہیں کیا، اس سے دیگر قومی سطح کی میڈیا میں ان کا وقار کم ہوگا بلکہ مسلمانانِ ہند کی ملی قیادت کے معیار کو اس سے ناپا جائےگا اور سَنگھ یہی تو چاہتاہے کہ مسلمانوں کا پست معیار عام ہو اسی لیے آپ کبھی بھی سریش کےساتھ برہمنوں کے کسی بھی بڑے رہنما کو نہیں دیکھیں گے۔

جب آدمی بڑا ہوتاہے تو اسے پتا ہونا چاہیے کہ قومی سطح پر اسے کس کے ساتھ بیٹھنا ہے کس کےساتھ نہیں، اللہ جانے مولانا ارشد مدنی صاحب کے آس پاس کون لوگ ہیں؟ جو کم از کم انہیں دیانتداری کےساتھ معقولیت کی رائے بھی نہیں دیتے۔ البتہ جب ہم ان حضرات کی غلط روش پر حقیقت کا اظہار کریں تو گستاخ قرار دے دیے جاتےہیں؛ لیکن کاش ایسے لوگوں کو ملت کےساتھ ہورہی بدترین گستاخی کا احساس ہو۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔