ہندوستان کی تعمیر میں مولانا آزادکی خدمات کے تحت پروگرام کا انعقاد اور مولانا آزاد کے نام پر ایمبولینس سروس کا افتتاح
ممبئی: (ورق تازہ نیوز)
مجاہدِ آزادی، دانشور، ملک کے پہلے وزیرتعلیم اورعبقری شخصیت کے مالک مولانا ابوالکلام آزاد کی ہندوستان کی تعمیرمیں خدمات میں تحت منعقدہ ایک پروگرام میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبرپارلیمنٹ اشوک چوہان نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی کے لئے بی جے پی پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ جن لوگوں کا ملک کی آزادی کی جدوجہد میں کوئی رول نہیں تھا وہ لوگ اب نفرت کی سیاست کے ذریعے ملک میں نفرت کو بڑھاوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ پروگرام ممبراپنویل روڈ پر بھنڈارآلی میں سہیادری فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد ہوا اور اس موقع پر اشوک چوہان کے ہاتھوں مولانا آزاد کے ایمبولینس سروس کا افتتاح بھی ہوا۔
اس موقع پر اشوک چوہان نے کہا کہ جولوگ آد ملک سے محبت کا پروانہ بانٹ رہے ہیں، ان کی تاریخ ملک سے دشمنی اور غداری کی رہی ہے۔ یہ لوگ ملک میں نفرت پھیلاکر ملک کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہہوں نے کہا کہ وزیرتعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی ) آئی آئی ٹی جیسے انسٹی ٹیوٹ کو قائم کرکے ہمارے دیش کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں خود کفیل بنایا۔جس کی وجہ سے آج ہمارے دیش کے تعلیم یافتہ اور ٹیکنیکل ماہرین امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں الگ الگ فیلڈ میں ٹکر دے کر قائدانہ رول ادا کرکے دیش کا نام روشن کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے ملک کی ایکتا اور اکھنڈتا کے لئے ملک کی تقسیم کی مخالفت کی اور بھارت میں رہنے کو پسند کیا۔ ایسے ہی لوگوں کی کوششوں سے اور قربانیوں سے ملک کے لوگ ایک ساتھ ہیں۔ مولانا آزاد اپنی زندگی کی آخری سانس تک بھارت میں میں ایکتا اکھنڈتا اوربھائی چارہ بنائے رکھنے کے لئے لڑتے رہے۔ ایسی ہی بزرگوں کی وجہ سے ہمارا ملک ایک ہے۔ ہم کسی بھی قیمت میں دیش کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت جملہ بازوں کی حکومت ہے۔ اس حکومت نے نوجوانوں کو بیروزگاری، کسانوں کو ان کی لاگت کی مناسب قیمت میں ناکام ہے۔ آر بی آئی، سی بی آئی ، سی وی سی ، بینک سسٹم کی بربادی، لاءاینڈ آرڈر جےسے بہت سے مسائل سے ملک جوجھ رہا ہے۔ اپنے جھوٹ میں یہ اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک کی عوام کس حالت میں ہیں۔
اس پروگرام میں راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری رام کشن اوجھا نے بھی مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ سہیادری فاؤنڈیشن کے نائب صدر بدرعالم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی تنگ نظری سے بتادیا کہ مولانا آزاد صرف مسلمان ہی تھے۔ اس لئے ان کی یومِ پیدائش ۱۱نومبر کو صرف ۳ایم پی ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ اس موقع پر صدرالدین خان نے اشوک چوہان کا استقبال مولانا آزاد کی کتاب ’انڈیا ونس فریڈم‘ مولانا آزاد کی فوٹو شال اور گلدستہ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے درخواست کیا کہ اس کتاب کا مراٹھی میں ترجمہ کرواکر عوام میں تقسیم کیا جائے۔ سراج خان ، شاہ عالم شیخ نے عبدالرب مدنی اور صدرالدین کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بھرپور تعاون کی، جبکہ اس پروگرام میں سماجی، سیاسی، مذہبی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔