موسمیاتی تبدیلیاں اور بے حال زندگی: کیا یہ تبدیلیاں اب "نیو نا رمل” ہوتی جارہی ہیں ؟

0 24

کہیں تیز بارش،کہیں شدید قحط تو کہیں گرم لو – اس طرح کا موسم آج کل عام ہوگیا ہے۔ بدلتی موسمیاتی تبدیلیوں سے زندگی بے حال ہے۔ ایک طرف جہاں کسان غیر موسمی بارش کی وجہہ سے غیر یقینی حالات کا شکار ہیں تو وہیں دوسری جانب عام لوگ بھی پریشان ہیں- ماہرین کے مطابق یہ حالات Climate change اور گلوبل وارمنگ کی دین ہیں۔ نسبتاً کم زرخیز اور سوکھے علاقے بنجر زمینوں میں تبدیل ہونے لگے ہیں اور موسموں کی شروعات اور اختتام دونوں میں دیری ہونے لگی ہے۔ ایسے میں گرمی کی شدید لہروں نے عام زندگی کو بڑے پیمانے پر متاثر کر رکھا ہے۔

پل پل بدلتی دنیا میں دنیا کو رہنے کے لئے بہتر مقام بنانے کی باتیں آۓ دن ہوتی رہتی ہیں لیکن اسکے لئے کی جارہی کوششوں کے باوجود انکے خاطر خواہ اثرات ابھی تک نظر نہیں آۓ ہیں۔ ایسے میں ماحولیات کے عالمی خطرات کو سمجھنے اور ان پر مقامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت جیسے جنوبی ایشیائی ملک میں جہاں آج بھی گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں خاص و عام کے درمیان بحث کا موضوع نہیں ہیں وہاں دنیا کی ایک بڑی آبادی مستقبل کے خطرات سے بے خبر زندگی گزار رہی ہے۔ معاشی ترقی کے ہدف حاصل کرنے کی دوڑ میں جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک اپنے اوپر منڈ لارہے ماحولیاتی خطروں سے بے خبر ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں آۓ دن آرہی گرم لہریں یعنی Heat Waves آنے والے دنوں میں معمول بن سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کایہ بھی ماننا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں بھارت سمیت جنوبی ایشیا کو شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بھارتی محکمۂ موسمیات خود اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک کے مختلف مقامات میں گرم لو چلنے کی پیشن گوئی کرچکا ہے۔ بعد میں ان گرم لہروں سے پیدا ہوئے حالات کے، پیشنگوئی کئے گئے دنوں سے زیادہ دنوں تک برقرار رہنے کے اعلانات بھی خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔
گرمی کی یہ شدید لہریں آج سے کچھ سال پہلے تک کم ہی آتی تھیں لیکن اب یہ آۓ دن کا معمول بن چکی ہیں-

ماحولیاتی تحقیقی ادارے، IPCC کی سال 2021 اور 2022 کی رپورٹوں کے مطابق بار بار آرہی گرمی کی شدید لہریں مستقبل میں شدید بارش کی وجہہ بن سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ تشویشناک ہوتے موسم سے زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ادارے کی پیش قیاسی کے مطابق بگڑتی موسمیاتی تبدیلیوں کے دور رس اثرات مرتب ہونگے جس سے اس صدی کے آخر تک انسانی وجود کے بقا پر بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے زیادہ تر ممالک یا تو غربت کے شکار ہیں یا انکی معیشت ترقی پذیر ہے اور انکے پاس موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے معاشی نقصان سے نمٹنے کے لئے وسائل کی بھاری کمی ہے۔
اس سال شمالی بھارت میں گرمی کی شدید لہر وقت سے پہلے آگئ جس کے بعد ماہرین کے تحفظات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان گرم لہروں کی وجہہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اوسط کے مقابلے آٹھ ڈگری سیلسیس تک کی بڑھوتری درج کی گئی ہے-
ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر بھارت کی وہ ریاستیں ہیں جہاں زراعت کے لیے صورت حال پہلے سے ہی سازگار نہیں ہیں اور یہ خطے پانی کی شدید قلت سے گزر رہے ہیں۔
مغربی بھارت کی ریاست مہاراشٹر بھی انہی میں سے ایک ہے جہاں زراعت کا زیادہ تر انحصار قدرتی حالات اور موسمیات پر ہوتا ہے۔ مہاراشٹر میں ژالہ باری اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے کسانوں کی تعداد ہر سال لگاتار بڑھ رہی ہے۔ نا قابلِ کاشت زرعی رقبے میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں کسان زراعت سے کنارہ کشی کرکے دوسرے کاروبار کرنے لگے ہیں اور زرعی آمدنی پر انحصار بہت کم ہوگیا ہے۔
مہاراشٹر کے کئی شہروں میں درجہ حرارت اپریل کے مہینے میں ہی 42 ڈگری سیلسیس کے پار ہوچکا ہے۔ عام طور پر درجہ حرارت کایہ ہندسہ مئی کے مہینے میں درج کیا جاتا تھا- گرمی آۓ دن نئے ریکارڈ بنا اور توڑ رہی ہے۔
گرمی کی شدید لہریں زراعت کے ساتھ ساتھ عام زندگی کے لئے بھی خطرناک ہیں اور روز مرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے یہ حالات جان لیوا ثابت ہورہے ہیں-
بے گھر افراد، مزدور اور دن بھر سڑکوں پر ریڑھی لگانے والے غریب افراد اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حکومتوں کی پوری توجہ صرف کسانوں کو نقصان بھرپائی ادا کرنے اور اپنی ذمے داریوں سے بری ہونے پر ہے-
ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتی موسمیاتی تبدیلیوں سے نئی نسل کو وقت رہتے آگاہ کردیا جائے تاکہ حالات سے نمٹنے میں مزید تاخیر نہ ہو۔

تحریر: سید ضمیر الدین رضوی-

اورنگ آباد، مہاراشٹر، انڈیا-

+91-7972198021

(تحریر کے مصنف بھارت کے سرکاری براڈکاسٹر آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت نیوز ریڈر اور صحافی فرائض انجام دے رہے ہیں۔)