مودی کے گجرات میں بانی پاکستان قائد اعظم‘ محمد علی جناح کا آبائی گھر

1,035

انڈیا کے ’بابائے قوم‘ مہاتما گاندھی اور پاکستان کے ’قائد اعظم‘ محمد علی جناح ہیں اور ان دونوں کے والدین گجراتی تھے۔گاندھی کی جائے پیدائش گجرات کے کاٹھیاواڑ ضلع میں پوربندر نامی علاقہ ہے جبکہ جناح کے والدین کا گھر بھی کاٹھیاواڑ ضلع میں راجکوٹ کا گاؤں پنیلی موتی ہے۔دونوں کے آبائی گھروں کے درمیان تقریباً 95 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔موہن داس کرم چند گاندھی کی شادی اُن کے والدین نے بیرون ملک جانے سے قبل 13 سال کی عمر میں کر دی تھی اور جناح کے والدین نے بھی اپنے بیٹے کی شادی 16 سال کی عمر میں انگلینڈ جانے سے پہلے پنیلی موتی گاؤں کی 11 سالہ لڑکی سے کر دی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ دونوں کے والدین کو ڈر تھا کہ کہیں وہ پردیس میں شادی نہ کر لیں اس لیے انھوں نے شادی کے بعد ہی انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔پوربندر میں گاندھی کے گھر کو آج میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے لیکن جناح کے دادا اور ان کے والد کے گھر کا کیا ہوا؟
اس رپورٹ میں پڑھیں جناح کے آبائی گھر اور ان کے والد کی کراچی آمد کی کہانی۔ اس میں یہ جاننے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ جناح کے والد کا خاندان کب مسلمان ہوا۔انڈیا کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب ’جناح ، انڈیا، پارٹیشن، انڈپینڈینس‘ میں لکھا ہے کہ جناح کے دادا پونجا بھائی ٹھکر اپنے تین بیٹوں ولجی بھائی، نتھو بھائی، جینا بھائی اور ایک بیٹی مانبائی کے ساتھ پنیلی گاؤں میں رہتے تھے۔’یہ خاندان خوجہ مسلمان تھا۔ خوجہ بوہرہ مسلمانوں کی طرح امن پسند تاجر ہوتے ہیں جو دوسری ثقافت اور زبان کو بہت جلد اپنا لیتے ہیں۔ پونجا بھائی ہاتھ کی کھڈی کا کام کر کے خاندان کا خرچ چلاتے تھے لیکن اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے، جینا بھائی نے پنیلی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور نزدیک کے گوندل گاؤں چلے گئے۔ پنیلی گاؤں چھوڑنے کا یہ پہلا قدم تھا۔‘پنیلی یو پی اور بہار کے دیہات سے بالکل مختلف ہے۔ اس گاؤں میں شہروں کی طرح دکانیں، بینک ہیں اور بڑے ٹرک بھی گاؤں کے اندر آرام سے گھوم سکتے ہیں۔

اس گاؤں کے موجودہ نائب سرپنچ جتن بھائی کے مطابق گاؤں کی آبادی 13 ہزار کے لگ بھگ اور اب بھی یہاں پانچ سے چھ خوجہ مسلم خاندان رہتے ہیں۔اس گاؤں کو ’جناح کے آباؤ اجداد کا گاؤں‘ کہا جاتا ہے۔ گاؤں کا بچہ بھی آپ کو اس گھر تک پہنچا دیتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محمد علی جناح کے خاندان کا گھر ہے۔یہ گھر تقریباً 110 سال پرانا ہے اور اس کی دو منزلیں ہیں۔ دو کمرے نیچے باورچی خانے کے ساتھ اور دو کمرے اوپر والے باورچی خانے کے ساتھ۔ایسے گھر گجرات میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ گھر کے دروازے پر دستک دی تو اندر سے ایک شخص نے دروازہ کھولے بغیر پوچھا کون ہے؟میں نے اپنا تعارف کروایا تو بہت ہچکچاتے ہوئے انھوں نے دروازہ کھولا۔ اندر جانے پر انھوں نے بیٹھنے کے لیے بھی نہیں کہا۔میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے ہچکچاتے ہوئے اپنا نام ’پروین‘ بتایا۔کچھ دیر بات کرنے کے بعد انھوں نے اپنا پورا نام، پروین بھائی پوپٹ بھائی پوکیا بتایا۔ پروین بھائی کا تعلق پٹیل ذات سے ہے۔جب ان سے بات ہو رہی تھی تو ان کی 70 سالہ والدہ نندو بین بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ پروین بھائی اس بات سے بہت ناراض ہیں کہ ان کے گھر کوئی بھی کسی بھی وقت آ کر پوچھ گچھ کرنے لگتا ہے۔پروین بھائی نے کہا ’جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میں سو رہا تھا۔ اب مجھے کھیت میں کام پر جانا ہے۔ میرے سونے کا وقت بھی خراب ہو گیا اور کھیت جانے میں دیر ہو جائے گی۔‘’یہ صرف آج کی بات نہیں۔ یہ ہر روز ہوتا ہے۔ کبھی صحافی، کبھی ضلعی افسر، کبھی لیڈر تو کبھی کوئی اور۔ سچ پوچھیں تو میں اس گھر سے تنگ آ چکا ہوں۔ 2005 میں غیر ملکی میڈیا بھی اس گھر کو دیکھنے آیا۔‘اڈوانی کے دورہ پاکستان کے دوران پنیلی موتی سرخیوں میں آیاسنہ 2005 میں اس وقت کے بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی پاکستان آئے تھے۔ اڈوانی کراچی میں جناح کے مقبرے پر گئے اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، اڈوانی نے انھیں سیکولر اور ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا تھا۔جناح کی تعریف میں، اڈوانی نے وہاں کے رجسٹر پر لکھا تھا ’ایسے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جنھوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔‘اڈوانی کے اس بیان پر بی جے پی میں کافی تنازع ہوا تھا۔ بی جے پی نے اڈوانی کے بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس بیان کے بعد بی جے پی میں اڈوانی کا قد چھوٹا ہوتا چلا گیا اور ان کے بیان سے پیدا ہونے والا تنازع پنیلی موتی گاؤں تک بھی پہنچ گیا تھا۔پروین بھائی پوکیا کے بڑے بھائی چمن بھائی پوکیا کہتے ہیں کہ ’اڈوانی کے دورہ پاکستان سے سب سے زیادہ ہم پریشان تھے۔ ہر کوئی اس گھر میں آ کر جناح کو ڈھونڈ رہا تھا۔ سچ پوچھیں تو ہم اس گھر کو اب بیچنا چاہتے ہیں۔ ہم نیا گھر خریدیں گے۔ کوئی خریدار ہو تو بتاؤ، ہم اسے دے دیں گے۔ وہ چاہے تو اسے جناح کا میوزیم بنا سکتا ہے۔‘پروین کی والدہ نندو بین بتاتی ہیں کہ اس گھر میں کچھ بھی نہیں بدلا۔وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میری زندگی اسی گھر میں گزر گئی، اب تو آخری وقت ہے۔ میرے بیٹے جناح کے گھر میں ہونے سے پریشان ہو جاتے ہیں لیکن مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جب میں شادی کر کے اس گھر میں آئی تھی تب بھی ایسا ہی تھا۔ بس بجلی آئی تو تاریں اور بلب لگائے گئے۔ کہیں کہیں پلستر بھی کیا گیا۔ باقی ڈھانچا وہی ہے۔‘

پچاس برس کے پروین بھائی پوکیا کہتے ہیں کہ ’جب میں سکول میں پڑھتا تھا، تب بھی لوگ کہتے تھے کہ میرا گھر ’جناح کا گھر‘ ہے۔ میرے دادا بھی بتاتے تھے کہ یہ گھر محمد علی جناح کے والد کا تھا۔ گاؤں میں میری پہچان بھی اسی حقیقت سے ہے، جناح کے دادا اور والد اسی گھر میں رہ چکے ہیں۔ پہلے ٹھیک تھا لیکن اب لوگ جب بھی گھر آتے ہیں تو بہت مسئلہ ہوتا ہے، میں آپ کے ذریعے کہہ رہا ہوں کہ مجھے یہ گھر بیچنا ہے۔‘

گاؤں کے لوگ کیا کہتے ہیں؟:پنیلی موتی گاؤں کے 70 سالہ کرن بھیمجیانی ایک سانس میں جناح کی شناخت سے متعلق معلومات دے دیتے ہیں۔پنیلی کے نائب سرپنچ جتن بھائی کہتے ہیں ’جناح کی وجہ سے ہمارے گاؤں کا نام بھی ہے اور بٹوارے کی وجہ سے بدنام بھی ہے۔ جناح انڈیا کی آزادی کی جدوجہد میں شامل تھے، اس پر فخر ہے لیکن انھوں نے پاکستان بنایا، تو مجھے بھی تھوڑا بُرا بھی لگتا ہے۔‘جناح کا آبائی گاؤں پنیلی موتی ہونے پر تو کسی کو اختلاف نہیں مگر تاریخ دان اس پر ضرور مختلف رائے رکھتے ہیں کہ بانی پاکستان کے آبا نے کس نسل میں اسلام قبول کیا۔چمن بھائی پٹیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہری ڈیسائی کو جدید انڈیا کی سماجی اور سیاسی تاریخ کے ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔جناح کے خاندان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’پونجا بھائی ٹھکر کے بیٹے جینا بھائی ٹھکر تھے۔ یہ خاندان ہندو تھا۔ پونجا بھائی مچھلی کا کاروبار کرتے تھے۔ لوہانہ ذات قدامت پسند ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں ان کی مچھلی کی تجارت کو لے کر کافی مخالفت ہوئی تھی۔ اس احتجاج کے بعد پونجا بھائی نے اسلام قبول کر لیا تھا۔‘پاکستان کے مؤرخ مبارک علی سے پوچھا گیا کہ کیا جناح کے دادا ہندو سے مسلمان ہو گئے تھے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد خوجہ مسلم بن گئی تھی۔ جناح کے دادا اور والد کے نام جس طرح تھے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ خاندان ہندو سے مسلمان ہو گیا تھا۔‘ڈاکٹر ہری ڈیسائی کہتے ہیں کہ ’جینا بھائی کاروبار کے سلسلے میں کراچی گئے۔ محمد علی جینا بھائی نے بعد میں اپنا نام جناح رکھ دیا۔ جناح پڑھائی کے لیے نہیں بلکہ کاروبار کے لیے لندن گئے تھے۔ بعد میں وہیں بیرسٹر کی تعلیم شروع کی۔‘

جناح کے خاندان کی جڑیں:امریکی مؤرخ سٹینلے والپورٹ نے جناح پر ایک کتاب لکھی ہے ’ جناح آف پاکستان‘۔ انھوں نے اپنی کتاب میں جناح کے خاندان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’جناح ایک شیعہ مسلم خوجہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ یہ اسماعیلی اور آغا خان کے پیروکار ہیں۔‘دسویں اور 16ویں صدی کے درمیان ایران میں ظلم و ستم کی وجہ سے ہزاروں خوجہ خاندانوں کو مغربی انڈیا سمیت بہت سے علاقوں میں بھاگنا پڑا۔ جناح کے آباؤ اجداد کب آئے اس کی صحیح تاریخ معلوم نہیں۔سٹینلے والپورٹ نے لکھا کہ ’خوجہ ایک تاجر برادری ہے اور وہ کاروبار کے لیے پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے ساتھ آسانی سے گھل مل جاتے ہیں اور دوسری زبانیں بھی سیکھتے ہیں۔ وہ بہت تیز طرار اور خوش مزاج اور خوشحال بھی ہوتے ہیں۔‘اسلامی سکالر اکبر ایس احمد بھی جناح کے آباؤ اجداد کی جڑیں ایران سے جوڑتے ہیں۔لاہور سے وقار مصطفیٰ کی تحقیق ہے کہ اکبر ایس احمد نے اپنی ایک کتاب ’جناح، پاکستان اور اسلامی شناخت: صلاح الدین کی تلاش‘ کے نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے اقتباس میں فاطمہ جناح کے حوالے سے لکھا ہے: جناح کا خاندان اپنی جڑیں ایران سے ملاتا ہے اور شیعہ، سنی اور اسماعیلی اثرات کا عکاس ہے۔ گو کہ کچھ خاندانی نام – والجی، مان بائی اور نتھو – ’ہندو ناموں سے مشابہ‘ تھے۔
احمد نے لکھا ہے: اگرچہ ایک کھوجا (خواجہ سے) خاندان میں پیدا ہوئے جو اسماعیلی آغا خان کے مکتبہ فکر سے تھے، جناح ابتدائی زندگی میں سنی فرقے کی طرف چلے گئے۔ بعد میں ان کے رشتہ داروں اور ساتھیوں کی طرف سے عدالت میں پیش کیے گئے ثبوت موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخر تک ایک پکے سنی مسلمان تھے۔
’جناح کے وسیع المشرب مذہب کی بازگشت ان کی موت کے برسوں بعد ان کی بہن سے بھی ملی، جیسا کہ (جناح کے رشتے دار) لیاقت مرچنٹ نے نقل کیا ہے: ’میں نے کہا مس جناح یہاں تک کہ آپ شیعہ پیدا ہوئے ہیں۔ اس پر انھوں نے ریمارکس دیے کہ میں شیعہ نہیں، میں سنی نہیں ہوں، میں ایک مسلمان ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیغمبر اسلام نے ہمیں مسلم مذہب دیا ہے نہ کہ فرقہ وارانہ مذہب۔‘ماہر تعلیم اور ’ہسٹری آف فریڈم موومنٹ‘ کے ایڈیٹر محمود حسین کی رائے بھی احمد سے زیادہ مختلف نہیں۔انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے لیے محمد علی جناح پر کی گئی اپنی تحقیق میں، محمود حسین لکھتے ہیں: جناح ایک خوشحال تاجر، جناح بھائی پونجا اور ان کی بیوی مٹھی بائی کے سات بچوں میں سب سے بڑے تھے۔ ان کے خاندان کا تعلق خوجہ ذات سے تھا جو صدیوں پہلے ہندو سے مسلمان ہوا تھا اور جو آغا خان کا پیروکار تھا۔رواں سال مارچ میں احمد آباد میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کی طرف سے منعقدہ ایک نمائش میں 200 ایسی شخصیات کا فوٹو فیچر پیش کیا گیا، جن کی جڑیں گجرات سے ہیں۔اس میں محمد علی جناح بھی شامل تھے۔ جناح کے علاوہ انڈیا کے خلائی پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی، عظیم پریم جی، کرکٹر ونو مانکڈ، معروف اداکار ہری بھائی جری والا یعنی سنجیو کمار اور ڈمپل کپاڈیہ بھی شامل تھے۔بعد میں محمد علی جناح کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے، تب آر ایس ایس نے اس نمائش سے جناح کی تصویر ہٹا دی تھی۔آر ایس ایس نے بھلے ہی جناح کی تصویر ہٹا دی ہو لیکن پروین بھائی پوکیا اپنے گھر سے جناح کی شناخت کو الگ نہیں کر پا رہے ہیں۔
جینا بھائی سے جناح بننے کی کہانی:جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جناح کے والد جینا بھائی ٹھکر کاروبار کے سلسلے میں 1875 میں غیر منقسم انڈیا کے شہر کراچی چلے گئے۔ بمبئی کی طرح کراچی میں بھی انگریز حکمرانوں نے تجارتی چوکیاں بنا رکھی تھیں۔جسونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ’ کراچی میں جینا بھائی کی ملاقات سر فریڈرک لی کرافٹ سے ہوئی۔ وہ کراچی کی ایک اعلیٰ مینیجنگ ایجنسی ’ڈگلس گراہم اینڈ کمپنی‘ کے جنرل منیجر تھے۔ فریڈرک سے رابطہ جینا بھائی کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔‘’جینا بھائی کا کاروبار خوب پھلا پھولا اور انھیں بہت زیادہ مالی فائدہ ہوا۔ کراچی ہی میں، جینا بھائی کی بیوی مٹھی بائی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔(گجرات میں) پونجا بھائی کے گھر کے تمام مرد ارکان کے نام ہندوؤں کی طرح تھے لیکن کراچی بالکل مختلف تھا۔‘جسونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ’کراچی میں مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی اور آس پاس کے بچوں کے نام بالکل ویسے ہی تھے جو مسلمان رکھتے ہیں۔ جینا بھائی نے محسوس کیا کہ انھیں اپنے نوزائیدہ کا نام اس طرح نہیں رکھنا چاہیے کہ اس سے کوئی نقصان ہو۔ جینا بھائی نے اپنے بیٹے کا نام محمد علی جینا بھائی رکھا۔ انھوں نے کاٹھیاواڑ کے علاقے میں نام کے آخر میں والد کا نام شامل کرنے کی روایت نہیں چھوڑی تھی۔‘انھوں نے مزید لکھا ’جینا بھائی اور مٹھی بائی اپنے بیٹے محمد علی کو عقیقہ کی رسم کے لیے حسن پیر کی درگاہ پر لے آئے۔ یہ درگاہ گنود کے پنیلی گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ محمد علی جناح کی ابتدائی تعلیم باقاعدہ طور پر نہیں ہوئی تھی۔ مٹھی بائی اور جینا بھائی نے پنیلی موتی سے ایک استاد کو گجراتی سکھانے کے لیے بلایا تھا۔‘نو سال کی عمر میں انھیں پرائمری سکول بھیج دیا گیا اور بعد میں سندھ مدرسۃ الاسلام منتقل کیا گیا جہاں انھوں نے ساڑھے تین سال تک تعلیم حاصل کی۔ مدرسے کے بعد محمد علی کو کراچی کے چرچ مشن سکول بھیج دیا گیا۔‘سنہ 1892 میں نومبر کے پہلے ہفتے میں جناح فریڈرک کے مشورے پر کاروبار سیکھنے لندن گئے اور یہاں انھوں نے اپنا نام جینا بھائی سے بدل کر جناح رکھ لیا۔

رجنیش کمار نامہ نگار بی بی سی