وزیراعظم کے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر گذشتہ روز جمعے کی نماز کے بعد پرتشدد احتجاج شروع ہوگیا، جس میں اب تک پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
جمعے کو ڈھاکہ کی جامع مسجد سے شروع ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شریک افراد نے ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں

بنگلہ دیش کے اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے ہفتے کو کہا ہے کہ ملک میں امن وامان برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے سرحدی محافظ تعینات کردیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بنگلہ دیش کے دورے کے خلاف جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ کی مرکزی مسجد سے شروع ہونے والا تشدد کا دائرہ ملک کے کئی اضلاع تک پھیل چکا ہے اور اب تک پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے ترجمان کے مطابق سرحدی محافظوں کے دستے جمعے کی رات کو تعینات کئے گئے۔ بی جی بی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ریزرو پیرا ملٹری فورس کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں

بی جی بی کے لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’وزارت داخلہ کی ہدایت پر اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں مطلوبہ تعداد میں بی جی بی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔‘تاہم انہوں نے تعینات کیے جانے والے گارڈز کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔

فورس کے آپریشنز ڈائریکٹر رحمٰن کا کہنا تھا کہ بی جی بی کی تعیناتی کے بعد تشدد کے واقعات کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور حالات معمول پر ہیں۔گذشتہ روز بنگلہ دیش کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقعے پر دائیں بازو کے گروپوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی آمریت، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس سے بدامنی پیدا ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہت ہزاری کے دیہی قصبے میں تشدد اور پھوٹ پڑنے کے بعد شدت پسند اسلامی گروپ حفاظت اسلام کے چار کارکنوں کی لاشیں چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال لائی گئیں۔

حفاظت اسلام تنظیم کے سرکردہ رہنما ہت ہزاری میں مقیم ہیں۔ گروپ کے ایک حامی کے مطابق حفاظت اسلام کے ایک اور مرکز برہمن باریہ کے قصبے میں ہونے والی جھڑپ میں تنظیم کے ایک کارکن ہلاک ہوئے۔حفاظت اسلام کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے کے خلاف تنظیم کے ہزاروں کارکنوں نے جمعے کو احتجاج کیا تھا۔ گروپ نے ہفتے کو ملک بھر میں مظاہروں اور پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی اور فائرنگ کے خلاف اتوار کو ہڑتال کی کال

دے رکھی ہے۔حفاظت اسلام کی جانب سے مودی اور ان کی ہندوقوم پرست حکومت پر مذہبی کشیدگی اور مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ پروگرام کے کو مطابق مودی نے ہفتے جنوبی بنگلہ دیش میں واقع دو بڑے ہندو مندروں کا دورہ کرنا تھا۔دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ملک میں فیس بک تک رسائی روک دی گئی ہے۔ اس سے پہلے صارفین نے شکایت کی تھی کہ وہ جمعے کی رات سے ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پارہے۔ فیس بک نے سوشل میڈیا پر تشدد کی تصاویر اور اطلاعات شیئر کئے

جانے کے بعد پابندی لگائی۔اس حوالے سے بنگلہ دیش کے وزیر مواصلات مصطفیٰ جبار نے کہا کہ ان کی وزارت صارفین کی فیس بک تک رسائی پر پابندی کی ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منحصر کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے کیا اقدامات کیے ہیں۔‘