کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں یعنی گزشتہ آٹھ سالوں میں 5 لاکھ 35 ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مودی حکومت کے دور میں عوام کے آٹھ لاکھ 17 ہزار کروڑ روپے بٹے کھاتے میں ڈال گئے یعنی اس قرض کو معاف کر دیا گیا۔

ایک اور الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں بینکوں کے نان پرفارمنگ اثاثوں (این پی اے) میں 21 لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین حقائق مودی حکومت کے پورے آٹھ سال کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہماری معیشت کی کہانی، ہماری سماجی بدحالی کی کہانی اور اس حکومت کا رپورٹ کارڈ بھی ان تینوں حقائق میں سننے کو ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ان حقائق کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ”75 سالوں میں سب سے بڑا بینک فراڈ ہوا، 22 ہزار 842 کروڑ کا اے بی جی شپ یارڈ، رشی اگروال، آپ سب اس نام کو جانتے ہیں کیونکہ اس پلیٹ فارم سے یہ نام کئی بار دہرایا گیا ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پانچ سال کی تاخیر کے بعد غبن کرنے والے کو فرار ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اے بی جی شپ یارڈ کا وزیراعظم سے کیا تعلق ہے؟ ایس بی آئی کی شکایت کے باوجود ایف آئی آر درج کرنے میں سی بی آئی کو برسوں کیوں لگتے ہیں؟ جب کانگریس پارٹی کا دباؤ بڑھ گیا تو سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی۔

وزیر اعظم کے اس ریمارکس پر کہ ریاستوں کو پٹرول اور ڈیزل پر VAT کم کرنا چاہئے، انہوں نے کہا، "ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ وہ یہ باتیں کس منہ سے کرتے ہیں۔ 27 لاکھ کروڑ، آپ نے پچھلے آٹھ سالوں میں سینٹرل ایکسائز سے کمائے، بولنے سے پہلے انہیں خود سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔