مودی حکومت شاہین باغ کی محض 30 ہزار مسلم خواتین کو ہٹانے میں ناکام: توگڑیا

فتح پور: اپنے متنازعہ اور مسلم مخالف بیانوں کے لئے مشہور ’انترراشٹیہ ہند وپریشد‘ کے صدر پروین توگڑیا نے شاہین باغ کے حوالہ سے مرکزی حکومت پر طنز کیا ہے۔ توگڑیا نے اتوار کے روز کہا کہ مرکزی حکومت نے گجرات میں مظاہرہ کرنے والے 7 لاکھ سے زیادہ پٹیلوں کو ہٹا دیا تھا، لیکن دہلی کے شاہین باغ کے دھرنے پر بیٹھی محض 30 ہزار خواتین کو وہ نہیں ہٹا پا رہی ہے۔

پروین توگڑیا نے نامہ نگاروں سے کہا ’’شاہین باغ میں مسلم خواتین کے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ سے دہلی والوں کو زبردست پریشانیاں جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ ان کے دھرنے کو 70 دن ہوگئے ہیں لیکن وہ دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ جو مظاہرہ کر رہی خواتین کو نہیں ہٹایا جا رہا ہے؟

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

درین اثنا انہوں نے معیشت کے حوالہ سے بھی مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بے روزگاری بھیانک صورت اختیار کر چکی ہے۔ کسان، عام آدمی سب پریشان ہیں۔ پہلے ایم بی بی ایس کی پڑھائی کم پیسوں میں ہوجاتی تھی، آج لاکھوں روپے اس پڑھائی پر خرچ ہو رہے ہیں۔ امیر غریب ہوتے جا رہے ہیں اور غریب اور زیادہ غریب، اسے بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر تو اب بننا شروع ہوجائے گا لیکن رام راجیہ ابھی آنا باقی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

یہ بھی پڑھیں:  ہرین پانڈیا قتل مقدمہ : سپریم کورٹ میں حتمی بحث شروع: جمعیۃ علماء

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔