مودی جی دیکھیں ’اوم ‘ کی حقیقت سناتن محققین کی زبانی

(مہتاب عالم، ترجمان بنگال اردو جرنلسٹ ویلفئر ایسو سی ایشن ،کمرہٹی کلکتہ 58)Mob:099331943470)
گزشتہ 11ستمبرکومتھرامیں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپویشن کونشانہ بناتے ہوئے ایک جلسے میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ کچھ لوگوں کوگائے اور ’اوم ‘ کے نام سن کر بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جواخباروں کی زینت بھی بنی۔ا س سے قبل کئی رہنماﺅں نے بھی معلومات کی کمی اور تحقیق کی تشفی بخش جواز کے بغیر اس قسم کے بیانات جاری کر کے در اصل سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں۔مگر ’اوم‘کا جہاںتک تعلق ہے وہ حقیقت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام ہے ۔جسے سنسکرت کے متعدد محققین اورپنڈتوںنے اپنے اپنے نظریئے کے مطابق لکھاہے۔جسے قارئین کی دلچسپی کےلئے پیش کیا جا رہا ہے۔تاکہ اس ملک میں نفرت کی سیاست کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ لگے اور ہندستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پروان چڑھنے میں مدد ملے تاکہ صدیوں کی تاریخ یکجہتی ،کثرت میں وحدت اور امن وبھائی چارے کو فروغ ملے۔


اوم کے متعلق سنسکرت لغت کیا کہتی ہے اس پر غور و فکر کریں اور حقائق کا خود پتہ لگا کر مطالعہ کریں تو حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ یہ کون سے دیوتا ہیں جو زمانہ ¿ آخر میں آئیں گے۔جس کی پیشن گوئی تقریباً ساڑھے سات ہزار سال سے اہل ہنود کی کتاب سام اور یجر وید اور شاستر میں مذکور ہے۔اہل ہنود شروع سے ہی اپنے ہر کام ،عبادت،پوجا،ریاضت ،گیان ،دھیان ،یوگ ،شادی بیان کے موقعہ پر اوم سے ہی اپنے کام کی شروعات کرتے ہیں۔ امت محمدیہ اپنے کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے بسم اللہ سے آغاز کرتے ہیں تاکہ خیر و برکت رہے سوائے دوا پینے یاکھانے کے پہلے ،اسلئے کہ دوا پینے یا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے سے معمانیت کی گئی ہے اس کی جگہ اللہ شافی اللہ کافی کا تذکرہ ملتا ہے۔اس کے متعلق ابن عباس سے ایک روایت کا ذکر ملتا ہے۔ابن عباس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے تو حضرت علی نے اس کی تشریح شروع کی تو صبح کی اذان ہو گئی جبکہ بسم اللہ کی تفسیر بعد نماز مغرب اور عشا کے وقت شروع کیاتھا ۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ابن عباس وقت نے ساتھ نہیں دیا بس اتنا سمجھ لو کہ پورے قرآن کو اللہ نے سورة فاتحہ (الحمد) میں سمیٹ کر رکھا ہے اور سورة فاتحہ کو سمیٹ کر بسم اللہ میں رکھ دیا ہے اور بسم اللہ کو بے میں رکھا ہے اور بے کو اس کے نقطے میں سمیٹ دیا ہے اور وہ نقطہ میں(علی) ہوں ۔


بہر حال اوم کے متعلق مختلف پنڈتوں اور سوامی ،لغت نویسوں نے کیا تفسیر اور معنی لکھا ہے اسے ملاحظہ کریں تو پتہ چلے گا کہ آج سے سات ہزار سال قبل بھی سنسکرت میں پاک روحوں کا ذکر ملتا ہے مگر نام سنسکرت میں ملتا ہے جس کے معنی عربی کے حساب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔جو داماد رسول ، چچا زاد بھائی ،زوجہ بتول اور حسینین کریمین کے والد گرامی بھی ہیں۔جنہیں ابو تراب یعنی مٹی کے باپ،حیدر کرار ،شیر خدا (اسد اللہ الغالب) انکی ماں فاطمہ بنت اسد جبکہ والد کا نام عمران اور لقب بڑے بیٹے کے سبب ابو طالب ہے جیسا کہ قرآن میں سورة آل عمران بھی ہے جسے عدم معلومات کے سبب مریم کے والد عمران کی عینک سے دیکھا جاتا ہے ۔
(1)اس ضمن میں پنڈت گوری دت بی اے شاستری لدھیانوی نے اوم کے تذکرہ میں ایک رسالہ” بھکتی “لاہور،بابت ماہ جولائی 1933میں بعنوان ”اوم ودیا“ میں لکھا ہے کہ ”پربھو یا پرماتما کے کارن (وجہ) اوم کو نہیں برتا جاتا ہے بلکہ ہم اس کو ایک پوتر (پاک) نام جان کر لکھتے اور بولتے ہیں تاکہ ہمارے کام سدھ (کامیاب) ہو جائیں۔(2)سنسکرت انگلش ڈکشنری ،مولفہ، پنڈت ہر دیال ایم اے شاستری ،شائع کردہ،مہاتما بک اسٹال ،ہال بازار ،امرت سر ،مطبوعہ ،جنرل الیکٹرک پریس ،امرتسر 1907میں انہوں نے اوم کے معنی میں لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ اوم :یہ سنسکرت بھاشا کا ایک پاکیزہ لفظ ہے جو مختلف معانی کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس کے حقیقی اور اصل معنی حسب ذیل ہیں۔ خدا کا ہاتھHand of God(1) یعنی ید اللہ A power of God(2) اللہ کی قوت(قوت پروردگار)اور تیسرا معنی A strength of natureیعنی فطرت کی طاقت ہے۔(3) ڈاکٹر کے سی چکرورتی کی لغت میں اوم کے معنی خدا کا ایک طاقتور ہاتھ(A powerful hand of God)خدا کی ایک طاقتور روشنی (نور)،A powerful light of Godوغیرہ، اس کے علاوہ سنسکرت انگلش ڈکشنری ،مطبوعہ لندن ،مولفہ، ایچ والف میں یہی معنی ذکر ہے۔(4)جگت لال فاضل سنسکرت نے اے کی آف سنسکرت کے دوسرے حصہ میں ،جسے لالہ مول چند اینڈ سنس بک سیلر نے انار کلی ،لاہور ،شائع کردہ کپور آرٹ پریس لاہور،1933میں لکھا ہے جس کے معنی قدرت کا وہ طاقتور ہاتھ،قوت یافتہ ہاتھ جو نظام عالم کو چلاتا ہے یعنی یداللہ ۔دوسرا معنی زمین کا باپ (بو تراب)تیسر ا معنی خدا کا چہرہ(وجہہ اللہ)وغیرہ درج ہے۔(5)پنڈت وشوا ناتھ نے اپنی کتاب میں ”اوم“کے معنی یہ لکھا ہے کہ اوم ،پرماتما کی ایک شکتی جو دھرتی (زمین) آکاش(آسمان) اور منشوں(بنی نوع آدم)کے کام چلاتی ہے ۔اب مذکورہ معانی و مطالب کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اوم کے معنی اللہ کا ہاتھ،اللہ کی قوت،قدرت کی طاقت،خدا کا ایک طاقتور ہاتھ،خدا کی ایک طاقتور روشنی (نور)قدرت کا قوی اور زبردست ہاتھ، زمین کا باپ(بو تراب)اللہ کا چہرہ (وجہہ اللہ) وغیرہ ثابت ہوتا ہے جو اہل ہنود کا تشریح کردہ ہے جو اپنے اپنے فن میں ماہر اور معروف پنڈت و گیانی ہیں۔اس کے علاوہ سنسکرت بھاشا(زبان) کے نکتہ دانوں اور جید پنڈتوں(عالموں) نے لفظ ”اوم“کا تجزیہ (Analysis)بھی کیا ہے۔ جسے سنسکرت گائیڈ نامی کتاب کی شکل میں ، مصنف، ایل پریم چند ودیارتھی ،شائع کردہ ،پریم پستکالیہ ،لدھیا نہ،مطبوعہ امبیکر پریس لدھیانہ 1903میں شائع کیا گیا ہے۔ ’اوم‘ میں تین حرف الف ،واﺅ اور میم ہے ۔انہوں نے ہر حرف کو تجزیہ کے بعد لکھا ہے کہ الف سے ایشورہ ،یعنی خدا کی ،واﺅ سے وراتنم یعنی بہت بڑی ،میم سے مشاکتن یعنی یعنی لازوال قوت ہے ۔(6)لیکن کیدار ناتھ نشی ایم اے سنسکرت نے اپنی لغت میں مندرجہ بالا دونوں تجزیوں سے شدید اختلاف کیا ہے اور خود لکھا ہے کہ ”اوم“ کا پہلا حرف ”ای “نہیں بلکہ ’آ‘ہے ۔لہٰذا پہلے حرف ’ای‘ کی مناسبت سے اس کا تجزیہ ایشورہ درست نہیںہے اور آ کی نسبت سے اوم کا تجزیہ ہے کہ( الف )آماکرہ یعنی آنے جانے کا راستہ (باب،دروازہ) ،وَ سے ودیا یعنی علم اور م سے مہتم یعنی دانائی و حکمت کے ہیں۔جیسا کہ مشہور حدیث ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیںقارئین کرام اب خود ہی اس کا مشاہدہ کریں کہ یہ کس شخصیت کے متعلق کہا گیا ہے اور فیصلہ کرلیں۔(7)شری رام چندر جی اپنی ایک پیشن گوئی میں فرمایا ہے کہ ۔”آخر زمانہ میں پرماتماکے جن نوروں کا ظہور ہو گا ۔ ان کی روشنی اور چمک ہر زمانہ میں ایشور کے پیارے دیکھا کریں گے“ ماخوذ :۔ رسالہ ”ویداننت“دہلی ،بابت ماہ ستمبر 1928۔(8)اوم کی قدیم اور اصلی شکل میں تحریف کا انکشاف:۔سنسکرت اور بھاشا کا ایک فاضل مہاشے رام وتامل چوپڑہ نے اپنی کتاب ”وید گیان“ شائع کردہ ،جنک دھارمک پستکالیہ ،دہلی،مطبوعہ،نریندر ٹائپ پریس ،دہلی میں اقرار کیا ہے کہ ہندی کے اوم اور سنسنکرت کے اوم کی جداگانہ صورتیں ہیں اور اوم کی اصل شکل وہی ہے جو سنسکرت رسم الخط میں لکھی جاتی ہے ۔مہاشے مذکور نے یہاں تک لکھا ہے کہ ”بھاشا یا ہندی رسم الخط میں ”اوم“ آٹھویں یا نویں صدی بکرمی میں لکھا جانے لگا “مقصد یہ کہ موجوہ رسم الخط میں سوسے کو نیچے کی جانب موڑ دیا گیا ہے جبکہ اصل شکل عین کی مانند اوپر کی جانب تھا اور پڑھنے سے کوفی رسم الخط میں علی ہی نظر آتا تھا۔اب قابل غور نکتہ یہ ہے کہ یہ وہی دور ہے جب مسلمانوں کی ہند میںآمد ہو رہی تھی جس کے سبب حقیقت آشکارا ہونے کے خوف سے متعصب اہل ہنود پنڈتوں نے تبدیل کر دیا ہو تاکہ کوئی بھی سچائی کو نہ پہچان سکے کیونکہ یہ ہم شکل لفظ علی کے تھا۔(9)اوم کی شکل و صورت کی تبدیلی اور رسم الخط کی تبدیلی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ کلکتہ کے راما سوامی کی ایک تحریر انگریزی روزنامہ ویدک ازم (THE VEDIC ISM )سے بھی ملتا ہے جو مئی 1962ءمیں شائع ہوا تھا ۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سنسکرت کے اوم کی شکل بھاشا رسم الخط میں مذہبی عناد کی بنا پر شروع کی گئی ۔(10)دوسری جانب ”اوم اور علی“ نامی کتاب میں حکیم سید محمود گیلانی نے ایک واقعہ عیسیٰ مسیح سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل یعنی آج سے ساڑھے سات ہزار سال قبل کا واقعہ رسالہ سرسوتی ،دہلی ،بابت ماہ مارچ 1927 بحوالہ کتاب سورن شاکھا ۔نیز ”ترلوک پوتھی“ مولفہ :پنڈت ترلوک چند ۔شائع کردہ آریہ بک ڈپو ،آگرہ،مطبوعہ ،آریہ اسٹیم پریس ،آگرہ 1939ءکے حوالے سے لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک ”براہتھ رشی“ جن کا لقب” کلاشن“تھا ۔ان کو چاروں ویدوں اور چھ شاستروں پر نہ صرف عبور تھا بلکہ وہ عالم با عمل بھی تھے جو بیابانوں اور کہساروں میں آسن جما کر یوگ اور گیان دھیان (مراقبہ) کیا کرتے تھے اسطرح وہ سیاحت کرتے تھے اور لوگوں کوویدک دھرم کی تبلیغ کرتے تھے۔
براہتھ رشی نے ایک بار لوگوں کو بتایا کہ اے میرے سجنو! ایک بات بتا دوںجو بڑی اہم بھی ہے اور حیرت انگیز بھی ! اور وہ یہ ہے کہ جب تک ایشور یا پرماتما کے پریمیوں سے پریت(محبت) نہ کی جائے گی اور ان کا کہنا نہ مانا جائے گا،ان کی فرمانبرداری نہ کی جائے گی ،اور ان کی شان اور فضیلت اور ان کے درجات کی پہچان نہ رکھی جائے گی تب تک کوئی تپسیا (عبادت) اور پرارتھنا اور کوئی یوگ (مراقبہ) کسی کام کا نہیں ۔ان کی محبت اور اطاعت کے بغیر انسان کے کرم ( کردار، کارنامہ ) اور سارے تپ (اعمال و عبادت و ریاضت) اکارت (بیکار)ہو جائیں گے“۔جب لوگوں نے پوچھا کہ پرماتما کے پیارے (پریتم) کون ہیں ۔تب کہا کہ ان کا علم تم کو نہیں ہے ۔تمہیں کیا بعض بڑے بڑوں کو بھی خبر نہیں ہے ۔عام لوگ ان پبتر(پاک) ہستیوں کو نہیں جانتے ۔اس کے بعد کہا کہ ” ایک بہت دور سمے(وقت) میں جبکہ سنسار (دنیا) کا آخر ہونے والا ہوگااور وہ آخری زمانہ کہلائے گا۔تو اس زمانہ میں ایک بہت بڑا مہاتما اور مہاراجوں کا مہاراج جنم لے گاجو ہر پرکار اپنا چمتکار (معجزہ )دکھائے گا۔اس کے جنم پر آگ ٹھنڈی ہو جائے گی ۔(آتش کدہ ایران ٹھنڈا ہو گیا تھا جب رسول اکرم کی پیدائش ہوئی تھی)بت اوندھے منہ گریں گے(پیدائش رسول کے وقت کعبے کا بت خود سے گر گیا تھا)۔درخت اور پتھر اور حیوان اس کو ماتھے ٹیکیں گے۔اور ہر چیز اس کا نمسکار (سلام) کرے گی۔اس بڑے مہاراج کا پوتر نام ” مہامتا“ ہو گاجس کی انگلی چندر ما کو دو ٹکڑے (شق القمرکا واقعہ)کر ے گی۔ اور اس بڑے مہاراج کے ساتھ اس کا ایک مہاراج کمار بھی جنم لے گاجو کہ پرماتما کے ایک پوتر استھان (کعبہ) یعنی سنسار کے سب سے بڑے مندر (شیوالہ)یعنی مکیشور ناتھ(مکہ یا کعبہ) میں پیدا ہو گا۔وہ سرپ مارک (سانپ کو مارنے والا)ہو گااور ایشور کا ہاتھ (ید اللہ )کہلائے گا ۔وہ پرماتما کا مکھڑا (وجہہ اللہ یعنی اللہ کا چہرہ) ہو گا۔وہ بھگوان جی کی شکتی والا(قوت پرور دگار) ہو گا۔اس کو دھرتی کا باپ (بو تراب) کہیں گے۔وہ سوریہ (سورج) کو پلٹا دے گا۔جس طرح پرمیشور کے بہت سے نام ہیں ،جس طرح ”مہامتا یعنی محمد“ کے بہت سارے نام ہیں۔ اسی طرح مہامتا (محمد) کے اس راجکمار کے بھی بہت سے نام ہو نگے اور ان میں ایک نام اس کا ”اوم“ بھی ہے ۔بقول علامہ اقبال
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید اللہی ایک سجدہ ¿ شبیری
(11) ابھیاس شاستر منتر 12کنڈل 5کے حوالے سے شاستروں میں برہما جی سے ایک منتر منسوب ہے وہ کہتے ہیں کہ” بڑے رشی کا بھراتا( رسول اکرم کابھائی یعنی عم زاد)جب چمتکار دکھائے گا تو اس کا نام ایشور ،پرماتما کا نام ہو گا،اور اس کی جنم بھومی (پیدائش کا مقام) ایک تپ کی جگہ (عبادت گاہ)بن جائے گی“۔بقول بیدم شاہ وارثی

حیدری یم قلندرم ستم بندہ ¿ مرتضیٰ علی ہستم
پیشوائے تمام رندانم کے سگے کوئے شیر یزداں
(12)اہل ہنود کی معروف کتاب وید جسے صحیفہ ¿ نوح کہا گیا ہے جیسا کہ قرآن میں اسی کتاب کو زبر الاولین اور اس کے ماننے والے کو صائبین (فرشتوں کی عبادت کرنے والی قوم) کہا گیا ہے۔اس میں بھی خصوصی طور پر” اوم “کا ذکر ملتا ہے اور اس کی تشریحات مختلف رشی منیوں نے بھی کیا ہے ۔جس کی گہرائی سے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ در اصل اسلام کے اہم شخصیت کی پوری صفات بیان کی گئی ہے ۔اس سلسلے میں غیر منقسم پنجاب میں سناتن دھرم کے ایک بہت بڑے گیانی لالہ مول چند ،ایم اے ودیارتھی اور آریہ سماج کے بانی سوامی دیا نند سرسوتی کے درمیان مکالمہ آرائی سے پتہ چلتا ہے یہ تقریباً بیسویں صدی کی شروعاتی دور کا زمانہ ہے۔گویا یہ ایک مناظرہ تھا جس میں بطور گواہ دیا نند کا خاص شاگرد مسمی شردھا نند بھی موجود تھا جو بعد میں ان کا جانشین بھی بنا۔جسے پاکستان کے ایک محقق حکیم سید محمود گیلانی نے اپنی کتاب اوم اور علی کے صفحہ نمبر 31تا37 میں مختلف حوالے سے ذکر کیا ہے ۔مکالمہ آرائی اور بحث و مباحثہ کے دوران” اوم“ پر مناظرہ ہواجو سناتن دھرم پرچارک ،لاہور،بابت 13بیساکھ1982) میں شائع ہوا تھا وہاں سے محمود گیلانی نے اخذ کیا ہے ۔جس کے مختصراً اقتباس درج ذیل ہیں۔
لالہ مول چند:سوامی جی معاف کرنا !جس آریہ دھرم کو آپ خالص ”ویدانت“ (توحید) کہہ رہے ہیں وہ پرماتما اور اس کے رشیوں کی ودیا اور گیان (علم و معرفت) سے بہت دور چلا گیا ہے اور محض اوٹ پٹانگ باتوں پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔پنڈت دیا نند سرسوتی:نہیں لالہ جی!یہ آپ کا وہم ہے ۔آپ نے کون سی بت ویدک دھرم کے خلاف سنی ہے ۔ہم تو بالکل ویدک تعلیم پر چلتے ہیں اور ایشور کے بنائے ہوئے اصولوں پر کاربند ہیں۔لالہ مول چند:سوامی جی!میں مثال کے طور پرآپ کا وہ مضمون پیش کرتا ہوں ،جو حال ہی میں اخبار ”آریہ گزٹ“ دہلی میں چھپا ہے اور جس میں آپ نے ”اوم“کے معنی کو خوب توڑ مڑوڑ کر لکھا اور ہندوﺅں کو خوب گمراہ کیا ہے۔پنڈت دیا نند سرسوتی:میں نے تواس میں یہی لکھا ہے کہ ”اوم“بھی پربھو مہاراج یعنی ہمارے دیالو (رحیم) کرپالو ایشور پرماتما (خدا)کانام ہے۔جسے بعض سناتنی ودوان (اہل علم)کچھ اور سمجھتے ہیں۔لالہ مول چند:اگر آپ ویدوں اور شاشتروں سے یہ ثابت کر دیں کہ اوم بھی کوئی پرمیشور (اللہ)کا نام ہے تو منہ مانگا انعام حاصل کریں۔سنئے سوامی جی مہاراج!ویدوں اور شاستروںمیں ”اوم“کی نسبت یہ لکھا ہے کہ یہ کسی ایسے پوتر(پاک)اور پوجیہ دیوتا کا نام ہے ،جو سنسار(دنیا) کے کسی آخری سمئے(زمانہ یا وقت) میں جنم لے گااور وہ کسی بہت ہی بڑے مہا رشی (عظیم پیغمبر) کا پردھان منتری(وزیر اعظم)اور راج مکھ (ولی عہد) ہو گا۔سوامی جی! آپ یجر ویداور سام وید کو خاص طور پر پر پڑھئے ۔ پراچین پستکوں(قدیم کتابوں)کا مطالعہ کیجئے۔رشیوں اور منیوں کا لکھا دیکھئے۔آپ کو ”اوم“کے معنی پرماتما (اللہ)کسی بھی لکھت روپ(تحریری شکل) میں دکھائی نہیں دے گا۔ دیا نند سرسوتی:مگر لالہ جی!شاید آپ نے کتاب ”راج گیان“کو نہیں پڑھا ہے،اس میں تو کھلے طور پر لکھا ہے کہ ”اوم “ ایشور پرمیشور کا ہی ایک نام ہے۔
لالہ مول چند:افسوس ہے سوامی جی !آپ اتنے بڑے ودوان (اہل علم)اوروید گیانی ہو کر بھی یہ نہیں جانتے کہ ”راج گیان“ کوئی ایسی پرانی پوتھی (صحیفہ) نہیں ہے ،جس پر وچار (رائے یا خیال)کیا جا سکے۔وہ تو ایک وسواس (عقیدہ) میں ڈالنے والی پستک(کتاب) ہے اور صرف سولہویں صدری بکرمی کی تصنیف کردہ ہے۔جس کا مصنف ایک گھٹیہ درجہ کا نا قابل اعتبار سا ہندو ہے۔اس پر اور اس کی کتاب پر کیونکر یقین کیا جا سکتا ہے۔
دیا نند سرسوتی:جھنجھلا کر کہا کہ چلئے اگر یہ مان لیا جائے کہ ”اوم“ کو پرماتما نہیں بلکہ پرماتما کا پرتاپ (نور،روشنی)کہا جاتا ہے تو بھی اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ پربھو جی اپناچمتکار ہر رنگ میں اپنا روپ دکھاتے ہیں۔لالہ مول چند:ہاں ہاں!سوامی جی!اب آپ آئے ہیں اصلی بات کی طرف۔اب آپ مان بھی جایئے کہ پرماتما نے اپنی جنتا (رعایا،مخلوق)کو یہ نویدن (خوشخبری) دی ہے کہ ”اوم “ایک دیوتا ہے جو ملک اربا (عرب)میںجنم دھارن (پیدا ) کرے گا۔سنسار (دنیا) کے سب سے بڑے شوالہ میں وہ اپنا روپ سروپ(جلوہ) دکھائے گا۔وہ ناگوں یعنی سانپوں ،اژدہوں کو مارے گا۔وہ دیو کوٹوں(وہ قلعے جو کسی سے فتح نہ ہو سکے)کو گرا کرچکنا چور کر دے گا۔اسی طرح اور بھی بہت سے گپت گن(مخفی صفات، پوشیدہ فضائل)لکھے ہیں۔سوامی جی!آپ بھی تو پڑھتے ہوں گے۔پنڈت دیا نند سرسوتی:اچھا یونہی صحیح مگر میں تو کہہ چکا ہوں کہ ”اوم“ کو پرماتما کہو ۔یا اس کا چمتکار(معجزہ)یا اس کا روپ سروپ(جلوہ)۔ہر حال میں وہ ہے تو پربھو کا ہی پرتو(عکس)اور ۔۔۔پربھو ہر رنگ میں سنسار (دنیا) میں آ سکتا ہے اور روپ دھار کر جگت(کائنات)کو پاپوں اگنوں سے بچا سکتا ہے ۔لالہ مول چند:ٹھیک ٹھیک !یوں کہئے نا آپ۔یہ تو درست فرما رہے ہیں ۔پرماتما کے پیارے اس کے رشی اسی کے روپ سروپ دکھانے آتے ہیں۔اسی کے چمتکار کو لے کر سنسار میں اترتے ہیں۔پرماتما کی دیا ہے کہ آپ نے ”اوم“ کے اصلی مطلب کو سمجھ لیا۔حالانکہ ”اوم“کے ایک وصف ۔ایک گن(صفت)پر وچار (سوچ سمجھ)کر کے آپ کو فوراًمان لینا چاہئے تھا کہ ”اوم“کوئی بڑا دیوتا ہے۔
سوامی دیا نند جی:کون سا گن!لالہ مول چند:سوامی جی !وہ ”اوم“کا ایک ایسا گن (وصف) ہے جو بہت ہی اُتم (اعلیٰ)ہے اور وہ گن ہم سناتنیوں کے خلاف اور آریوں کے مطابق ہے مگر پھر بھی ہم اس کو مانتے ہیں اور آپ انکار کرتے ہیں۔سوامی دیا نند جی:میں سنو بھی سہی کہ ”اوم“میں کیا گن (صفت) ہے جو بہت اُتم (افضل) ہے۔لالہ مول چند:وہ یہ ہے کہ ویدوں اور شاستروں کی لکھت کے مطابق اربا(عرب دیش) میں جنم (پیدا) لینے ولا ”اوم“ مورتیوں کو دوتی اور توڑنے والا ہو گااور وہ شیوالے میں ایک بھی مورتی نہیں رہنے دے گا۔سوامی جی!یہ ہے ”اوم“کا وی گپت گن(مخفی صفات)جو آپ آریوں کے موافق اور سناتن دھرم کے خلاف ہے۔ کیوں؟غلط کہہ رہا ہوں؟سوامی دیا نند سرسوتی :ٹھیک ہے لالہ جی! آپ کی ودیا(علم) واقعی ہم سے بڑی ہے اور آپ ویدوں کے بڑے گیانی ہیں“۔یہ کہہ کر پنڈت دیا نند اندر چلے گئے اور پھر باہر نہیں نکلے۔اس سلسلے میں کمرہٹی کے معمر شاعر نعیم الدین پوشیدہ نے اپنی غزل کا ایک مطلع یوں کہا ہے کہ
کہتے ہیں جسے اوم وہی بو تراب ہے
جس نے سمجھ لیا ہے وہی کامیاب ہے
قارئین کرام غور فرمائیں یہ مکالمہ آرائی کس اسلامی شخصیت کے متعلق غور و فکر کی دعوت دیتی ہے جو سیکڑوں ،ہزاروں سال قبل اہل ہنود کی مقدس کتابوں میں درج ہے۔اس مکالمہ آرائی میں لفظ ”اوم“کی تشریح اور توضیح کرتے ہوئے کیسے حقائق سے کام لیا گیا ہے ۔ در اصل یہ شخصیت حضرت علی ہیں جنہوں نے گہوارے میں اژدہاکو چیر ڈالا تھا جس کی وجہ سے انکی والدہ فاطمہ بنت اسد نے انہیں حیدر کا لقب دیا تھا جنکی پیدائش سب سے بڑے شوالہ،سب سے بڑامندر ، سب سے پوتر استھان، (یعنی کعبہ ) میں ہوئی اور رسول اکرم کے کاندھے پر کھڑے ہو کرکعبے کے بتوں کو توڑ ڈالا تھا۔یہی وہ عظیم ہستی ہیں جو سب سے بڑے مہا رشی (حضرت محمد ﷺ) کے راج مکھ (ولی) ہیں جنہیں عم زاد رسول ،داماد رسول ابو تراب ،فاتح خیبر زوج بتول ہیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری فضیلتیں ہیں جو اہل ہنود کے یہاں سات ہزار سال قبل سے چلا آ رہا ہے جسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔سید محمود گیلانی نے مزید انکشاف کیا ہے کہ آریہ سماج کے بانی دیا نند سرسوتی انگریزوں کے بہی خواہ تھے جو انہوں نے ہندوﺅں میں پھوٹ ڈالنے کےلئے خصوصی طور پر سناتن دھرم میں تحریف کےلئے اپنی چال چلی جیسا کہ انگریزوں نے مسلمانوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کو پیدا کر کے مسلمانوں میں اپنا دلال پیدا کیا۔جس کی پیشن گوئی آٹھ سو سال قبل آر ایس ایس اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی نے بھی کی ہے۔مسلم شوند کشتاں افتاں و حیران ،از دست نیزہ بنداں یک قوم ہندوانہ۔ دوسری پیشن گوئی :۔دو کس بنام احمد گمراہ کند بے حد “ انگریزوں کا مقصد ہندستا نیوں کو تقسیم کر کے اپنی حکومت کو مستحکم کرنا تھاجس کا شکار آج تک ہند و پاک کے ہندو مسلم ہیں۔کاش دونوں ملک کے ہندو اور مسلم اس واقعہ سے سبق لیں گے اور1857سے قبل والی آپسی بھائی چارے نیز قومی یکجہتی کا پیغام عام کر سکیں ۔

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
خدارا ’ندوۃ العلماء ‘کو اکھاڑہ بنانے سے باز رہیں!
بدفعلی،بے حیا انسان ،اندھا قانون  یہ کیسا زمانہ آیا؟

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me