• 425
    Shares

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا آخری بین الاقوامی سفر اس سال مارچ میں کیا تھا جب وہ بنگلہ دیش کے ایک مختصر سے دورے پر گئے تھے۔

چھ ماہ بعد اب وزیر اعظم مودی ایک بار پھر سفر پر نکلے ہیں لیکن اس بار ان کی منزل امریکہ ہے جہاں وہ 24 ستمبر کو امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کریں گے۔

مودی امریکہ کیوں جا رہے ہیں؟
وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ سفر کافی مصروف رہے گا اور اس میں ان کی خاص توجہ تین چیزوں پر ہوگی۔

ان میں سے پہلی تو صدر جو بائیڈن سے ملاقات اور دو طرفہ اجلاس میں شرکت کرنا ہو گی۔

اس سفر کا دوسرا اہم جزو ہوگا کواڈ سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنا۔ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا پر مبنی اس اتحاد کا ورچوئل اجلاس ہو چکا ہے تاہم یہ پہلی بار ہوگا کہ تمام سربراہان ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔

اس سفر کی تیسری اہم چیز ہوگی وزیر اعظم مودی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر۔

انڈین کیمپ کو صدر مودی کی صدر بائیڈن سے ملاقات کا بے صبری سے انتظار ہے۔ جنوری میں بائیڈن کی جانب سے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انڈیا اور امریکہ کے درمیان یہ پہلی دو طرفہ سربراہی ملاقات ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مودی کے صدر براک اوباما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی اور اچھے تعلقات تھے۔ لیکن صدر بائیڈن نے ابھی تک ان کی جانب زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی ہے۔

مودی امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے بھی ایک علیحدہ ملاقات کر رہے ہیں۔ نائب صدر کی والدہ کا تعلق تمل ناڈو سے ہے اور یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوگی

دوطرفہ ملاقات کا اہم ایجنڈا کیا ہے؟
دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی دو طرفہ اور کثیر الجہتی امور پر بات چیت ہونی ہے۔انڈیا کے سیکرٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا نے کہا کہ دونوں رہنما مضبوط اور کثیر جہتی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔

دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط کرنے، دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط کرنے ، صاف ستھری توانائی کی شراکت داری کو فروغ دینے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی تلاش اور افغانستان کے بحران پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 24 ستمبر کو دونوں رہنما ملاقات کریں گے۔

تاہم 50 منٹ کی اس ملاقات میں افغانستان کا مسئلہ زیادہ تر معاملات پر حاوی ہونے کا امکان ہے۔

سیکرٹری خارجہ شرنگلا انڈین وفد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال دونوں رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے گی۔

انھوں نے کہا ‘افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے بعد دو طرفہ اجلاس میں علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘

’ایک پڑوسی کی حیثیت سے ہمارے اور افغانستان کے لوگوں کے درمیان تعلقات بہت پرانے اور مضبوط ہیں۔ اس تناظر میں ہم بلاشبہ بنیاد پرستی ، انتہا پسندی سرحد پار دہشت گردی اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘

خود وزیر اعظم مودی نے حالیہ دنوں میں افغانستان کے مسئلے کو سنگین قرار دیا ہے۔
چند روز قبل شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس میں اپنی تقریر میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا ‘افغانستان میں حالیہ واقعات کے ہمارے جیسے پڑوسی ملک پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کریں گے اور اس مسئلے پر علاقائی سطح پرتوجہ اور تعاون کی ضرورت ہے’۔

چین اور پاکستان بھی ایس سی او کا حصہ ہیں۔ مودی نے طالبان کے تحت افغانستان کے ساتھ چار مسائل کی طرف اشارہ کیا ان میں سے ایک بنیاد پرستی اور عدم استحکام ہے جو بقول انکے ‘دنیا بھر میں دہشت گرد اور انتہا پسندانہ نظریات کی حوصلہ افزائی کریں گے’۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر شدت پسند گروہوں کو بھی تشدد کا سہارا لے کر اقتدار میں آنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

لیکن امریکہ گذشتہ ماہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے بعد سے افغانستان میں کم دلچسپی دکھا رہا ہے۔

ماہرین کے ساتھ بات چیت سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکی عوام کو افغانستان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی بائیڈن انتظامیہ پریشان ہے۔

اس کے برعکس امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد انڈیا کو طالبان کی حکومت میں حقیقی سکیورٹی خدشات ہیں۔اس لیے افغانستان میں زیادہ دلچسپی رکھنے کی انڈیا کی جائز وجوہات ہیں۔

کیا مودی بائیڈن کو افغانستان پر راضی کر سکیں گے؟
کیلیفورنیا میں سان ڈیاگو سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر احمد کورو اسلامی امور کے ماہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران انڈین وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ پر زور دے سکتے ہیں کہ وہ افغانستان پر توجہ مرکوز کرے تاکہ اسے بین الاقوامی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا گڑھ بننے سے روکا جا سکے۔

لیکن ان کی رائے میں اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘امریکہ پہلے ہی افغانستان سے مکمل طور پر علیحدگی کا فیصلہ کر چکا ہے۔ امریکی رائے عامہ افغانستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی دوبارہ شمولیت کی مخالفت کرتی ہے۔ امریکہ کو اب زیادہ سنجیدہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے چین اور سب صحارا افریقہ میں بڑھتی اسلامی شدت پسندی۔‘

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ٹام گنس برگ ایک سیاسی ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا جانتا تھا کہ امریکہ کا افغانستان سے انخلا یقینی ہے۔

’میرے خیال میں ترجیحات میں کچھ اختلافات کے باوجود اس وقت انڈیا اور امریکہ ایک فطری اتحادی ہیں۔ بڑا مسئلہ چینی طاقت کا ہے جبکہ افغانستان سے انخلا ضروری تھا۔ اگرچہ انڈیا زیادہ کمزور محسوس کرتا ہے لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ یہ انخلا انڈیا کے لیےغیر متوقع تھا۔‘

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ملک پر کڑی نظر رکھے گی اور افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ نہیں بننے دے گی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چین انڈیا کے لیے ایک بڑا سیکورٹی خطرہ ہے، خاص طور پر گزشتہ سال وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد چین کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کا امریکہ کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

امریکہ چین سے نمٹنے کے لیے اپنے عالمی قائدانہ کردار کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر بائیڈن نے جنوری میں اقتدار میں آتے ہی اعلان کیا کہ ‘امریکہ واپس آ گیا ہے’۔

انھوں نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی ، ویکسین کی ترسیل اور چین کے مسئلے پر قیادت کرنے کے اپنے عہد کو بار بار دہرایا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔