ریاست اتر پردیش کا الیکشن ہر قسم کے انتخابات سے مختلف ہے کیونکہ اس الیکشن میں انڈین سیاست کی تمام پیچیدگیاں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔تئیس کروڑ کی آبادی والا یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے افریقہ، یورپ اور جنوبی امریکہ کے کسی بھی ملک سے بڑا ہے۔

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے جو 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے تین سال بعد ہونے والے تھے، سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا امت شاہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کو اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں دہرانے میں کامیاب ہوں گے؟ یا نہیں؟

سنہ 2017 کے اسمبلی انتخابات کے وقت اکھلیش یادو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے، ان کا چہرہ یقیناً اپنے والد سے ملتا جلتا تھا لیکن تجربے کے لحاظ سے اُنھوں نے کچھ سال پہلے ہی سیاسی سفر کی شروعات کی تھی۔
تب تک ملائم سنگھ یادو ریٹائرمنٹ کے موڈ میں آ چکے تھے اور صحت کی خرابی وجہ سے ان کا کافی وقت ہسپتالوں میں گزر رہا تھا۔ اکھلیش کی کابینہ میں موجود ان کے چچا شیو پال اپنے بھتیجے کی قائدانہ صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہے تھے۔ نہ صرف پارٹی پر ان کا مکمل کنٹرول تھا بلکہ بیوروکریسی پر بھی ان کا کافی اثر تھا۔

اکھلیش کے دوسرے چچا اور راجیہ سبھا رکن رام گوپال یادو ضرور اکھلیش کی حمایت کر رہے تھے، لیکن خاندان کی اندرونی کشمکش انتخابات کے وقت ووٹروں کو ایک اچھا متبادل فراہم کرنے کی سماج وادی پارٹی کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا رہی تھی۔

مایاوتی اور راہول گاندھی بھی کمزور وکٹ پر کھیل رہے تھے
دوسری طرف مایاوتی کا زور اپنے لیڈر کانشی رام کی طرح تنظیم بنانے پر نہیں بلکہ ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے پر تھا۔ سفید قمیض، مسلی ہوئی پتلون اور الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ کانشی رام کے برعکس مہنگے شلوار سوٹ، ڈائمنڈ کے بنُدے اور ایک لگژری ہینڈ بیگ کے ساتھ مایا وتی نے ایک مختلف تصویر پیش کی۔ یہی نہیں وہ غیر متناسب اثاثے رکھنے کے الزامات کا بھی سامنا کر رہی تھیں۔سنہ 1989 سے مسلسل الیکشن ہارنے والی کانگریس تب تک مکمل طور پر کمزور ہو چکی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر دینے کے بعد کہ وہ انتخابی مہم کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں پرینکا گاندھی نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔کانگریس کے حلقوں میں یہ کہا جا رہا تھا کہ سونیا گاندھی کا خیال تھا کہ پرینکا گاندھی کو اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنانے سے راہول گاندھی کی کانگریس کے مستقبل کے صدر بننے کی مہم اتنی مضبوط نہیں ہو گی۔

دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنانے کے ساتھ ساتھ کانگریس نے ’27 سال یوپی بے حال‘ کا نعرہ بھی دیا تھا۔

لیکن چند ہفتوں کے بعد کانگریس نے اپنی حکمت عملی بدل لی اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا۔ اب ان کے پوسٹروں پر ایک نیا نعرہ لکھا جا رہا تھا، ’یو پی کو یہ ساتھ پسند ہے۔‘

ادھر بی جے پی نے 2014 سے ہی 2017 کے یو پی الیکشن کی تیاری شروع کر دی تھی۔

پارٹی کے صدر امت شاہ کے لیے ’مشن یو پی 2017‘ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب ان کی پارٹی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔

مئی 2014 میں انتخابی نتائج آنے کے چند دن بعد اُنھوں نے سنگھ خاندان کے ابھرتے ہوئے ستارے سنیل بنسل کو فون کیا۔ بنسل اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے جوائنٹ جنرل سکریٹری تھے جنھیں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں امت شاہ کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔امت شاہ نے سنیل بنسل سے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ یو پی جائیں اور 2017 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری شروع کریں۔‘

سنہ 2014 میں اتر پردیش سے ریکارڈ 73 سیٹیں جیتنے کے بعد عام تاثر یہ تھا کہ یو پی میں بی جے پی کی جیت کے پیچھے مودی لہر تھی۔ جہاں تک تنظیم کا تعلق تھا، پارٹی ابھی تک سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے بہت پیچھے تھی۔ بی جے پی کے حقیقی حامی ابھی تک شہروں تک محدود تھے۔
پارٹی میں لوگوں کو شامل کرنے کی بی جے پی کی بڑی مہم

مشہور صحافی راج دیپ سردیسائی اپنی کتاب ’2019 ہاؤ مودی وون انڈیا‘ میں لکھتے ہیں ’شاہ نے گجرات کی سیاست میں اپنے ابتدائی دنوں میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ بی جے پی کی سیاسی بحالی کے لیے پنچایتوں پر قبضہ کرنا بہت ضروری ہے’۔

اتر پردیش میں 58 ہزار سے زیادہ پنچایتیں اور 7 لاکھ گرام پنچایت اراکین تھے۔ نومبر 2014 میں ہونے والی میٹنگ میں امت شاہ نے بنسل کو ذمہ داری دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اگلے 30 دنوں میں بی جے پی کے ایک کروڑ نئے ممبر بنائیں۔

اس وقت ریاست میں بی جے پی کے صرف 14 لاکھ ممبر تھے۔ یہ ایک بڑا کام تھا۔ بنسل جانتے تھے کہ یہ کام کرنا بہت مشکل ہوگا لیکن اُنھوں نے امت شاہ سے کچھ نہیں کہا۔

بی جے پی نے کچھ دن پہلے ملک گیر رکنیت سازی مہم کا آغاز کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ آپ ایک مخصوص نمبر پر مس کال کرکے پارٹی کے رکن بن سکتے ہیں۔

بنسل نے فیصلہ کیا کہ اراکین کی تعداد بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ بی جے پی کی رکنیت لینے کے لیے لوگوں کے درمیان مہم چلائی جائے اور بوتھس قائم کیے جائیں۔
پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی بی جے پی کی مہم
کُل ایک لاکھ 20 ہزار بوتھس کی نشاندہی کی گئی اور بی جے پی بوتھ کمیٹیوں کو علاقے میں کم از کم 100 نئے ممبر بنانے کے لیے کہا گیا۔

لکھنؤ میں 24 گھنٹے کا ایک کال سینٹر قائم کیا گیا جس کو نئے ممبران کی تصدیق اور ان سے رابطہ رکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔

تب تک بی جے پی اتر پردیش میں صرف ایک شہری پارٹی تھی لیکن پنچایتی انتخابات میں پوری طاقت سے حصہ لینے کے بعد پارٹی میں دیہی قیادت نے بھی اپنے قدم جما لیے۔ اس سیاسی توسیع کی ایک اہم کڑی سوشل نیٹ ورک کا بہترین استعمال تھا۔

انیربن گنگولی اور شیوانند دویدی اپنی کتاب ’امت شاہ اینڈ دی مارچ آف بی جے پی‘ میں لکھتے ہیں ’امت شاہ نے غیر یادو، او بی سی اور غیر جاٹوں اور دلتوں پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی تعداد بہت تھی لیکن ان کی تعداد کے مقابلے سیاسی طاقت بہت کم تھی۔‘

امت شاہ ریاست میں ذات پات کی سیاست کا باریکی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اگر وہ اپنے روایتی اونچی ذات کی بنیاد سے ہٹ کر اپنی پارٹی میں ان پسماندہ ذاتوں اور دلت گروپوں کے لیڈروں کو شامل کریں جنھیں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا تو اس سے پارٹی کو فائدہ ہو گا۔

سماج وادی پارٹی نے یادو اور مسلمانوں کا اتحاد بنایا تھا، لیکن یادو اتر پردیش کی آبادی کا صرف نو فیصد تھے۔

امت شاہ کا سٹریٹجک بیان

اتر پردیش بی جے پی کا ایک اور ہدف غیر جاٹ دلت تھے، جو ریاست کی 21 فیصد دلت آبادی کا 50 فیصد ہیں، لیکن جاٹوں کو بہوجن سماج پارٹی میں ان کی تعداد کےحساب سے اہمیت نہیں ملی تھی۔

بی جے پی نے اتر پردیش کے تمام 403 اسمبلی حلقوں میں تمام پسماندہ ذاتوں کے کنونشن کا انعقاد کیا۔

انیربن گنگولی اور شیوانند دویدی لکھتے ہیں ‘امیت شاہ نے بگھیل، چوہان، راج بھر، موریہ، مالی اور نشاد جیسی بیس سے زیادہ ذاتوں کو اہمیت دینے کا فیصلہ کیا اور حکمت عملی کے طور پر کم ووٹر بیس والے انوپریہ پٹیل کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا’۔

31 مارچ 2015 تک 1 کروڑ 13 لاکھ نئے ممبران کا ڈیٹا بینک بی جے پی تک پہنچ چکا تھا جن میں سے 40 لاکھ لوگ براہ راست پارٹی کے کاموں میں شامل تھے۔ اب تک بی جے پی کے کارکنوں کی تعداد نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج وادی پارٹی کو ٹکر دینی شروع کر دی تھ۔2016 کے ابتدائی دنوں سے ہی امت شاہ نہ صرف اتر پردیش کے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے تھے بلکہ ہر مہینے کم از کم ایک ہفتہ ریاست میں گزار رہے تھے۔ انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں جب امت شاہ سے پوچھا گیا کہ ریاست میں ان کا اصل حریف کون ہے تو اُنھوں نے جان بوجھ کر اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

نریندر مودی کی پُر زور انتخابی مہم
اس انتخابی انتظام میں سب سے آگے خود وزیر اعظم نریندر مودی تھے۔ جیسے ہی اُنھوں نے وارانسی (بنارس) سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اُنھیں ’ترقی کی علامت‘ کے طور پر دوبارہ پیش کیا گیا۔اگرچہ سنہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اُنھوں نے منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے کے مبینہ گھوٹالوں کو اہم موضوع بنایا تھا تو 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو اور مایاوتی ان کے نشانے پر تھے۔

معروف صحافی روچر شرما اپنی کتاب ’ڈیموکریسی آن دی روڈ‘ میں لکھتے ہیں، ’اگرچہ اتر پردیش نئے وزیر اعلیٰ کے لیے اپنا ووٹ ڈال رہا تھا، لیکن نریندر مودی نے ریاستی انتخابات کو اپنی قیادت کے بارے میں ایک ریفرنڈم میں تبدیل کر دیا۔ بی جے پی نے اپنے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔ اُنھوں نے ریاست کے لوگوں سے کہا کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں تاکہ مودی اتر پردیش کا نیا رہنما منتخب کر سکیں۔‘نوٹ بندی کے ان کے فیصلے کے متوقع نتائج نہ آنے کے باوجود، وہ یہ دکھانے میں کامیاب رہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں نوٹ بندی ان کا اہم ہتھیار ہے۔

ایک تقریر میں امت شاہ نے کہا تھا، ‘بھائیو اور بہنو، کیا کسی غریب یا متوسط طبقے کے پاس کالا دھن ہے؟ میں جانتا ہوں کہ 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی بندش سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے، لیکن کچھ بے ایمان لوگوں کی زندگیاں برباد ہو گئی ہیں، مودی جی نے اُنھیں سخت سزا دی ہے۔‘

راج دیپ سردیسائی لکھتے ہیں ’2017 کے اتر پردیش انتخابات سے پہلے، مودی یہ بیانیہ گھڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ نوٹ بندی امیروں کے لیے تھی۔ اُنھوں نے خود کو ایک دیسی رابن ہڈ کے طور پر پیش کیا جو ملک کے پسماندہ اور غریب لوگوں کے لیے کھڑا ہوا ہے۔

2014 کی جیت کوئی تُکا یا اتفاق نہیں ہے

جب 11 مارچ 2017 کو اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے انتخابی نتائج کا اعلان کیا گیا تو بی جے پی کی جیت سے بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔ اسمبلی کی 403 سیٹوں میں سے بی جے پی کو ریکارڈ 312 سیٹیں ملیں، جبکہ سماج وادی پارٹی صرف 47 سیٹیں جیت سکی۔

بہوجن سماج پارٹی 19 سیٹیں جیت کر تیسرے نمبر پر رہی اور کانگریس کو صرف 7 سیٹوں سے ہی مطمئن ہونا پڑا۔بی جے پی کو 41.5 فیصد ووٹ ملے۔ دیوبند، بریلی، مراد آباد اور بجنور جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی جہاں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے ثابت کر دیا کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی جیت میں کوئی تُکا یا اتفاق نہیں تھی۔(ریحان فضل بی بی سی ہندی، دہلی)