راجستھان میں تقریباً تین سال قبل پیش آئے ایک موب لنچنگ واقعہ کو لے کر وی ایچ پی لیڈر نول کشور شرما کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ راجستھان کے ضلع الور واقع رام گڑھ میں یہ واقعہ پیش آیا تھا جب 28 سالہ رکبر خان عرف اکبر کی گئو رکشکوں نے مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ لاونڈی گاؤں میں 20 جولائی 2018 کو ہوئے اس وحشیانہ حملہ کی جانچ جاری ہے اور وی ایچ پی لیڈر نول کشور شرما کی گرفتاری دراصل اس معاملے میں پانچویں گرفتاری ہے۔

پولیس نے نول کشور شرما کو تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل)، 304 (غیر ارادتاً قتل) سمیت کچھ دیگر دفعات کے تحت گرفتار کیا ہے اور اسے عدالت میں پیش کر کے 10 دن کی پولیس حراست لے لی ہے اور پوچھ تاچھ جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ رکبر کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں شرما کا نام بھی شامل ہے اور الزام ہے کہ رام گڑھ کے ’گئو رکشا سیل‘ کا سربراہ شرما رکبر خان کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے والی بھیڑ کی قیادت کر رہا تھا۔

 

اسپیشل پبلک پروزیکیوٹر اشوک کمار شرما نے نول کشور شرما کی گرفتاری سے متعلق بتایا کہ اس کی ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کی جانچ بہت پہلے سے کی جا رہی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نول کشور شرما نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ پولیس کی مدد کر رہا ہے، لیکن وہ مجرمانہ سازش کا حصہ تھا۔‘‘

 

یہاں قابل ذکر ہے کہ نول کشور شرما سے قبل جن چار ملزمین (پرمجیت سنگھ، نریش شرما، وجے کمار اور دھرمیندر یادو) کو پولیس نے رکبر قتل معاملہ میں گرفتار کیا ہے، ان کے خلاف 2019 میں فرد جرم بھی داخل کر چکی ہے۔ الور پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسونی گوتم کا کہنا ہے کہ وی ایچ پی لیڈر نول کشور شرما کی گرفتاری رام گڑھ پولیس نے تین چار دن قبل کی تھی۔ اس پورے معاملے کی جانچ کر رہے اسسٹنٹ پولس سپرنٹنڈنٹ (دیہی) شریمن مینا نے بتایا کہ نول کشور کی گرفتاری انہی الزامات کے تحت کی گئی ہے جن میں پہلے چار لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رام گڑھ پولیس تھانہ حلقہ میں 20 جولائی 2018 کو رکبر اور اس کے دوست اسلم کی گئوکشی کے اندیشہ میں بھیڑ نے بری طرح سے پٹائی کر دی تھی۔ اس واقعہ میں اسلم کسی طرح بچ کر نکل بھاگا، لیکن رکبر سنگین طور پر زخمی ہو گیا تھا اور الور کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ رکبر اور اس کے دوست اسلم نے لاڈ پورہ گاؤں سے گایوں کی خریداری کی تھی اور وہ انھیں لے کر لالونڈی سے ہو کر ہریانہ میں اپنے گاؤں جا رہے تھے جب ملزمین نے ان پر حملہ کر دیا تھا۔