✍:پرویز نادر

رمضان المبارک سے پہلے شروع ہوئے گنگنا رناوت کی میزبانی میں "لاک اپ شو کا آخر کار اختتام ہوگیا" ،جس میں فاتح کے طور پر منور فاروقی کا انتخاب ہوا،"لاک اپ" شو کے دیگر شرکاء میں منور فاروقی ایک مسلم نام تھا،اس کے علاوہ اس شو کی کوئی اور خاص بات نہیں ہے،اس شو کو لیکر ہم بات بھی نہیں کرتے ،کیوں کہ بگڑے ہوئے سماج کی یہ شو اسی طرح ضرورت ہے جس طرح کے دیگر شو منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں بے ادبی و بد اخلاقی کے ذریعے طنز و مزاح اور شریر و ناپاک ذہنوں کی تسکین کی جاتی ہے۔ لیکن اس وقت سوشل میڈیا پر منور فاروقی کا نام جس وجہ سے گردش کررہا ہے وہ ہے اس کا رمضان کے روزے رکھنا،نمازوں کا اہتمام کرنا اور کچھ اوقات میں اسلام پر گفتگو کرنا،بہت سے سادہ لوح مسلم نوجوان منور فاروقی کے ان اعمال پر پھولے نہیں سما رہے،بلکہ ان کے سینے فخر سے چوڑے ہوچکے ہیں، جس کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے،لیکن کیا یہی اسلام ہے کہ ایک طرف خواتین کے ساتھ آزادانہ تعلقات رکھیں جائیں ان کے ساتھ دوستی کی جائے،عشق و محبت کے جذبات کا اظہار کیا جائے جنسی ہیجان اور جذبات کو بر انگیختہ کرنے والے الفاظ کا تبادلہ ہو،اور بے حیائی و اخلاقی انارکی کا مظاہرہ کیا جائے نیم برہنہ لباس اور آبرو باختہ خواتین کے بیچ ہنسی مذاق یہ کس اسلام کی دعوت ہے بھائی؟اور ایسی نماز کا کیا فائدہ جس کے ادا کرنے کے بعد بے حیائی سے بچنے کے بجائے اسے فروغ دیا جائے؟ ایسے روزوں کی خدا کو کیا ضرورت جس کے ذریعے تقوی کی آبیاری کے بر خلاف پردے کے احکام اور خوف خدا کی دھجیاں اڑادی جائیں۔۔
اب یہ سوال بھی ہو سکتا ہے کہ غیر مسلم اور وہ بھی اپنے آپ کو آزادسمجھنے والی خواتین سے پردے کا مطالبہ آخر کس طرح کیا جا سکتا ہے!!پردہ تو مسلم مردوں کے لیے بھی ہے۔نظروں کی حفاظت عورتوں سے زیادہ مردوں کے لیے ضروری ہے،جس کا روزے کی حالت میں منور فاروقی نے خوب اہتمام کیا؟!!واہ کیا بات ہے۔۔۔۔
مسلم نوجوانوں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہیکہ منور فاروقی کا یہ سب کرنا اسلام پر عمل نہیں بلکہ جرم ہے، جس کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو پراگندہ کرنے مرد و زن کے درمیان اختلاط کے فرق کو مٹانے کا کام کیا گیا ہے،نیکیوں کے ذریعے گناہوں کو حسین اور معصومانہ بناکر پیش کیا گیا جس کے کرنے پر کوئی قباحت نہیں، اسی بات کو مولانا عامر عثمانی نے بڑے خوب پیرائے میں کہا ہے
کمالِ علم و ہنر نے عامرؔ بنادیا رات کو سویرا
گناہ اتنا حسین کب تھا، کمالِ علم و ہنر سے پہلے
منور فاروقی کس مزاج کا انسان ہے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے،اپنے کامیڈی شو میں وہ گالیاں بکنے کا عادی اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اُڑاتے آیا ہے،"لاک اپ" شو کو لیکر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سازش کا حصہ نہ ہوکر صرف گیم کا حصہ ہو لیکن مصلیٰ،نماز،روزے کی سہولیات فراہم کرکے پھر اسے شو کا فاتح قرار دینا مسلم نوجوانوں کے بگاڑ کا راستہ ہموار کرنا ہے،مسلم نوجوانوں کو دین منور فاروقی سے سکھنے کی ضرورت نہیں، ان کے سامنے ان کے رسول صلعم کی بے داغ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور بزرگان دین کی تابناک زندگیاں اور قرآن کی واضح تعلیمات موجود ہے،