نئی دہلی۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کے روز کہاکہ جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ ”مناسب“ وقت پر ملے گا۔ لوک سبھا میں جموں کشمیر تنظیم جدید (ترمیم) بل2021پر لوک سبھا میں مباحثہ کا جواب دینے کے دوران شاہ نے کہاکہ ”کئی اراکین پارلیمنٹ نے کہاکہ بل لانے کا مطلب یہ ہے کہ یونین ٹریٹری کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا۔میں بل کی نگرانی کررہاہوں میں نے بل لایاہے۔

میں نے ارادے ظاہر کردئے ہیں“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”اس میں کہیں بھی لکھاہوا نہیں ہے کہ جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں دیاجائے گا۔

آپ نے یہ نتیجہ کہاں سے اخذ کرلیا؟۔ میں نے اس ایوان میں پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہاہوں کہ اس بل سے جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یوٹی کو ریاست کا درجہ ایک مناسب وقت میں دیاجائے گا“۔ قبل ازیں پیر کے روزراجیہ سبھا لیڈر آف اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کانگریس پارٹی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہاتھا کہ یونین ٹریٹری برائے جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کو بحال کیاجائے۔

اگست2019میں مرکزی حکومت نے ارٹیکل370جس نے اس وقت کی جموں کشمیر ریاست کو خصوصی درجہ فراہم کیاتھا ہٹادیاتھا اور اس علاقے کو جموں کشمیر کے علاوہ لداخ پر مشتمل دو یونین ٹریٹری میں تبدیل کردیاتھا۔

شاہ نے اپوزیشن پر تنقید بھی کی اور استفسار کیاکہ پچھلے 70سالوں میں انہوں نے کیا اس کے متعلق استفسار بھی کیا۔

وزیرداخلہ نے کہاکہ ”مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں ہر چیز کی ایک جوابدہی دوں گا۔ مگر جن لوگوں کو نسلوں تک حکمرانی کا موقع ملا وہ اپنے اندر جھانک کردیکھیں کہ وہ جوابدہی کے مطالبہ پر موزوں ہیں“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”ہم سے پوچھا جارہا ہے کہ ارٹیکل370ہٹانے کے دوران جو وعدے کئے گئے تھے اس کے متعلق ہم نے کیاکیاہے۔

اس کو ہٹاکر محض 17مہینوں کا وقت گذرا ہے اور آپ جوابدہی مانگ رہے ہیں۔ آپ نے 70سالوں میں کیاکیاہے اس کا جواب دیں گے؟اگر آپ صحیح انداز میں کام کرتے تو ہم سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی“۔

داخلی امور کے مملکتی وزیر جی کشن ریڈی نے 4فبروری کے روز راجیہ سبھا میں مذکورہ جموں کشمیر تنظیم جدید(ترمیم) بل 2021کو پیش کیاتھا۔

راجیہ سبھا میں یہ بل پیرکے روز منظور کرلیاگیاتھا۔ اس نئے بل کی نشانہ جموں کشمیر کیڈر کے ائی اے ایس‘ ائی پی ایس‘ ائی ایف ایس عہدیداروں کو اروناچل پردیش‘ گوا‘ میزورم‘ اور یونین ٹریٹری (اے جی ایم یوٹی) میں شامل کریں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں